🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
105. باب : الشركة بغير مال
باب: مال لگائے بغیر تجارت میں حصہ دار بننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4701
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ , وَسَعْدٌ , يَوْمَ بَدْرٍ، فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ , وَلَمْ أَجِئْ أَنَا , وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمار، سعد اور میں نے بدر کے دن حصہ داری کی، چنانچہ سعد دو قیدی لے کر آئے، ہم اور عمار کچھ بھی نہیں لائے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4701]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں، عمار اور سعد بدر کے دن شریک بنے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ دو قیدی لائے، جبکہ میں اور عمار کچھ نہ لائے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3969 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابو عبیدہ‘‘ کا اپنے باپ ’’ابن مسعود‘‘ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، نیز ’’ابواسحاق‘‘ مدلس اور مختلط ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (3969) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي، أبو عبيدة
Newأبو عبيدة بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي
ثقة مكثر
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4701 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4701
اردو حاشہ:
شریک بنے اس شراکت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں جو کچھ ملے گا، وہ برابر تقسیم کر لیں گے۔ اس شراکت میں کوئی حرج نہیں کہ دو تین آدمی مل کر کام کریں اور پھر حاصل ہونے والی آمدنی میں برابر کے شریک بن جائیں۔ اگرچہ سب لوگ ایک جیسا کام نہیں کرتے مگر شراکت میں مسامحت ہوتی ہے۔ فقہاء کی اصطلاح میں ایسی شراکت کو شرکۃ الابدان کہتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4701]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4701 in Urdu