سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
109. باب : ذكر الشفعة وأحكامها
باب: شفعہ اور اس کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 4708
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَعُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ".
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ مال جو تقسیم نہ ہوا ہو، اس میں شفعہ کا حق ہے۔ لہٰذا جب حد بندی ہو جائے اور راستہ متعین ہو جائے تو اس میں شفعہ کا حق نہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19583) (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، اس لیے کہ ابوسلمہ نے یہاں پر واسطہ کا ذکر نہیں کیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الشفعہ (2257) میں ابو سلمہ نے اس حدیث کو جابر (رضی الله عنہ) سے روایت کیا ہے)»
وضاحت: ۱؎: حق شفعہ کے سلسلہ میں مناسب اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ حق ایسے دو پڑوسیوں کو حاصل ہو گا جن کے مابین پانی، راستہ وغیرہ مشتر کہوں، دوسری صورت میں یہ حق حاصل نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥صفوان بن عيسى القرشي، أبو محمد صفوان بن عيسى القرشي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة | |
👤←👥هلال بن بشر المزني، أبو الحسن هلال بن بشر المزني ← صفوان بن عيسى القرشي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4708 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4708
اردو حاشہ:
امام مالک، امام شافعی اور محدثین اسی کے قائل ہیں، البتہ احناف صرف پڑوسی کے لیے بھی شفعہ کے قائل ہیں۔ اس حدیث میں وہ تاویل کرتے ہیں کہ یہاں شفعہ کی شرکت کی نفی ہے نہ کہ شفعہ جوار کی، حالانکہ صراحت کے ساتھ ہر شفعہ کی نفی کی گئی ہے۔
امام مالک، امام شافعی اور محدثین اسی کے قائل ہیں، البتہ احناف صرف پڑوسی کے لیے بھی شفعہ کے قائل ہیں۔ اس حدیث میں وہ تاویل کرتے ہیں کہ یہاں شفعہ کی شرکت کی نفی ہے نہ کہ شفعہ جوار کی، حالانکہ صراحت کے ساتھ ہر شفعہ کی نفی کی گئی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4708]
محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري