🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب : من ترك صلاة العصر
باب: عصر کی نماز چھوڑ دینے والے شخص کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 475
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو الْمَلِيحِ، قال: كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ، فَقَالَ: بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ".
ابوالملیح (ابوالملیح بن اسامہ) کہتے ہیں کہ بدلی والے ایک دن میں ہم بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا: نماز جلدی پڑھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل رائیگاں گیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 15 (553)، 34 (594)، وقد اخرجہ: (تحفة الأشراف: 2013)، مسند احمد 5/349، 350، 357، 360، 361 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے اس معصیت کی سنگینی کا اظہار مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥أبو المليح بن أسامة الهذلي، أبو المليح
Newأبو المليح بن أسامة الهذلي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← أبو المليح بن أسامة الهذلي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عبيد الله بن سعيد اليشكري، أبو قدامة
Newعبيد الله بن سعيد اليشكري ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة مأمون سنى
سنن نسائی کی حدیث نمبر 475 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 475
475 ۔ اردو حاشیہ:
➊ابرآلود دن میں سورج نظر نہیں آتا، اس لیے خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں غروب ہی نہ ہو جائے، لہٰذا عصر کی نماز اول وقت ہی میں پڑھ لینی چاہیے تاکہ تاخیر قضا تک نہ پہنچا دے۔ ایک مرفوع روایت میں یہ بات صراحتاً بیان کی گئی ہے۔ دیکھیے: [صحيح البخاري، مواقيت الصلاة، حديث: 594]
اس کا عمل ضائع ہو گیا۔ بعض گناہ حبطِ اعمال کا سبب بن جاتے ہیں، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھگڑنا اور آواز بلند کرنا، ریاکاری کرنا، نجومی اور دست شناس وغیرہ کے پاس جانا، البتہ یہ ضروری نہیں کہ سارے سابقہ اعمال ضائع ہو جائیں، کیونکہ اس قسم کا احباط تو کفر و ارتداد ہی کی بنا پر ہوتا ہے۔ مذکورہ حدیث میں وہ عمل مراد ہے جس کی بنا پر وہ نماز سے مشغول رہا۔ اور ضائع ہونے کا مطلب ہے کہ وہ عمل اسے فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ یا کسی اور وجہ سے کامل احباط بھی ممکن ہے جبکہ سرے سے اس کے وجوب کا منکر ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ ان الفاظ سے تشدید وتعظیم گنا ہ مقصود ہے نہ کہ ظاہری الفاظ۔ یہ مفہوم اگرچہ بعید نہیں مگر مندرجہ بالا مفہوم الفاظ کے قریب تر ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 475]