سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب : ذكر الاختلاف على خالد الحذاء
باب: تلامذہ خالدالحذاء کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4798
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ:" أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ، بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ فِيهَا أَرْبَعُونَ ثَنِيَّةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌ".
ایک صحابی سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اور فرمایا: ”سنو! قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے، ڈنڈے اور پتھر سے مرنے والے کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس «ثنی» سے لے کر «بازلت» ہوں (یعنی چھ برس سے نو برس تک کی ہوں) اور سب بوجھ لادنے کے لائق ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4798]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا۔ (اس میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ رہو! شبہ عمد کی صورت میں کوڑے، ڈنڈے یا پتھر کے ساتھ غلطی سے مارے جانے والے شخص کی دیت سو اونٹ ہے جن میں سے چالیس ثنیہ سے بازل عام تک ہوں اور ان میں سے ہر ایک حاملہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4798]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥اسم مبهم | 0 | |
👤←👥عقبة بن أوس السدوسي عقبة بن أوس السدوسي ← اسم مبهم | ثقة | |
👤←👥القاسم بن ربيعة الغطفاني القاسم بن ربيعة الغطفاني ← عقبة بن أوس السدوسي | ثقة | |
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله خالد الحذاء ← القاسم بن ربيعة الغطفاني | ثقة | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← خالد الحذاء | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥محمد بن كامل المروزي محمد بن كامل المروزي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4798 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4798
اردو حاشہ:
”ثنیہ‘“ پانچ سال کی اونٹنی کو کہتے ہیں جو چھٹے سال میں داخل ہو اور ”بازل“ جو آٹھ سال کی ہو اور نویں میں داخل ہو۔ گویا چالیس اونٹنیاں پانچ سال سے آٹھ سال کی عمر تک ہوں، نیز وہ حاملہ ہوں۔ ظاہر ہے یہ بہت مہنگی ہوں گی۔
”ثنیہ‘“ پانچ سال کی اونٹنی کو کہتے ہیں جو چھٹے سال میں داخل ہو اور ”بازل“ جو آٹھ سال کی ہو اور نویں میں داخل ہو۔ گویا چالیس اونٹنیاں پانچ سال سے آٹھ سال کی عمر تک ہوں، نیز وہ حاملہ ہوں۔ ظاہر ہے یہ بہت مہنگی ہوں گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4798]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4798 in Urdu
عقبة بن أوس السدوسي ← اسم مبهم