سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب : صفة شبه العمد
باب: قتل شبہ عمد کی تشریح اور اس بات کا بیان کہ بچے کی اور شبہ عمد کی دیت کس پر ہو گی اور اس بابت مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4831
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِحَجَرٍ وَهِيَ حُبْلَى , فَقَتَلَتْهَا،" فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً، وَجَعَلَ عَقْلَهَا عَلَى عَصَبَتِهَا"، فَقَالُوا: نُغَرَّمُ مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلْ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ؟ فَقَالَ:" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟، هُوَ مَا أَقُولُ لَكُمْ".
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو جو حمل سے تھی پتھر مارا، اور وہ مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیٹ کے بچے کی دیت ایک «غرہ» (یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی) ٹھہرائی اور اس کی دیت اس کے کنبے والوں کے ذمے ڈالی، وہ بولے: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا نہ کھایا اور نہ چلایا اس جیسا خون تو لغو ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ دیہاتیوں کی سی سجع ہے، حکم وہی ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4831]
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو پتھر مارا جبکہ وہ حاملہ تھی جس سے وہ مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیٹ کے بچے کی دیت «غُرَّة» ”غلام یا لونڈی“ مقرر فرمائی اور مقتولہ کی دیت قاتلہ کے نسبی رشتہ داروں کے ذمے ڈال دی۔ انھوں نے کہا: ہم ایسے بچے کی دیت بھریں جس نے پیا نہ کھایا، نہ چوں چاں کی؟ ایسے بچے کا تو کوئی معاوضہ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعرابیوں کی طرح تک بندی کرتے ہو؟ اصل حکم وہی ہے جو میں کہتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4825 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ ابراہیم نخعی اور نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے درمیان صحابی کا ذکر نہیں ہے لیکن پچھلی روایات مرفوع متصل ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4831 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4831
اردو حاشہ:
یہ روایت مرسل ہے، تاہم شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
یہ روایت مرسل ہے، تاہم شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4831]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4831 in Urdu
سليمان بن مهران الأعمش ← إبراهيم النخعي