سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : الخضاب بالحناء والكتم
باب: مہندی اور کتم لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5086
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ:" أَتَيْتُ أَنَا وَأَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ نے اپنی ڈاڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1573 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آگے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث (نمبر: ۵۰۸۹) میں ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں اتنے سفید بال تھے ہی نہیں کہ آپ خضاب لگاتے۔“ دونوں حدیثوں میں باہم یوں تطبیق دی جاتی ہے کہ واقعی اتنے زیادہ بال تھے نہیں کہ آپ کو ان کے رنگ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی (یعنی بذریعہ خضاب) مگر آپ نے ان کا رنگ تبدیل کیا تاکہ امت کے لیے نمونہ ہو، اس عمل کو انس رضی اللہ عنہ کو دیکھنے کا اتفاق نہ ہو سکا۔ رہی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اگلی حدیث (نمبر: ۵۰۸۸) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیلے رنگ سے اپنے بال رنگتے تھے تو پیلے رنگ کا استعمال بعد میں منسوخ ہو گیا تھا جس کی خبر ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نہیں ہو سکی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حبيب بن حيان البلوي، أبو رمثة | صحابي | |
👤←👥إياد بن لقيط السدوسي إياد بن لقيط السدوسي ← حبيب بن حيان البلوي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← إياد بن لقيط السدوسي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5086 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5086
اردو حاشہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً ڈاڑھی کو نہیں رنگتے تھے کیونکہ صرف چند بال سفید تھے جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا، رنگنے کی ضرورت ہی نہیں تھی مگر کبھی کبھار آپ نے مہندی لگائی ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً ڈاڑھی کو نہیں رنگتے تھے کیونکہ صرف چند بال سفید تھے جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا، رنگنے کی ضرورت ہی نہیں تھی مگر کبھی کبھار آپ نے مہندی لگائی ہوگی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5086]
إياد بن لقيط السدوسي ← حبيب بن حيان البلوي