🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب : الموتشمات وذكر الاختلاف على عبد الله بن مرة والشعبي في هذا
باب: گودوانے والی عورتوں کا بیان اور اس حدیث کی روایت میں عبداللہ بن مرہ اور شعبی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5105
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ يُحَدِّثُ , عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ، وَكَاتِبُهُ إِذَا عَلِمُوا ذَلِكَ، وَالْوَاشِمَةُ، وَالْمَوْشُومَةُ لِلْحُسْنِ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ، مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سود کھانے والا، کھلانے والا، اور اس کا لکھنے والا ۱؎ جب کہ وہ اسے جانتا ہو (کہ یہ حرام ہے) اور خوبصورتی کے لیے گودنے اور گودوانے والی عورتیں، صدقے کو روکنے والا اور ہجرت کے بعد لوٹ کر اعرابی (دیہاتی) ہو جانے والا ۲؎ یہ سب قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ملعون ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5105]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سود لینے والا، دینے والا، سود لکھنے والا بشرطیکہ وہ جانتے بوجھتے ہوں اور حسن کی خاطر رنگ بھرنے والی، بھروانے والی، زکاۃ سے انکار کرنے والا اور ہجرت کر جانے کے بعد دوبارہ بادیہ کو لوٹ جانے والا، یہ سب اشخاص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی قیامت کے دن ملعون ہوں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9195)، مسند احمد (1/409، 430، 465)، وراجع أیضا: صحیح مسلم/المساقاة 19 (1597)، سنن ابی داود/البیوع 4 (3333)، سنن الترمذی/البیوع 2 (1206)، سنن ابن ماجہ/التجارات 58 (2277)، مسند احمد (1/ 393، 394، 402، 453) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سود کھانا اور کھلانا تو اصل گناہ ہے، اور حساب کتاب گناہ میں تعاون کی قبیل سے ہے اس لیے وہ بھی حرام ہے اور موجب لعنت ہے۔ اسی طرح وہ کام جو اس حرام کام میں ممدو معاون ہوں موجب لعنت ہیں۔ ۲؎: یہ اس وقت کے تناظر میں تھا جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ کر ان کی مدد کرنی واجب تھی اور مدینہ کے علاوہ مسلمانوں کا کوئی مرکزی بھی نہیں تھا، اگر دنیا میں کہیں اب بھی ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو دنیاوی منفعت کی خاطر مرکز اسلام کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہو جانے کا یہی حکم ہو گا، مگر اب ایسا کہاں؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، حارث الأعور ضعيف،. ولبعض الحديث شواهد صحيحة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥الحارث بن عبد الله الأعور، أبو زهير
Newالحارث بن عبد الله الأعور ← عبد الله بن مسعود
متهم بالكذب
👤←👥عبد الله بن مرة الهمداني
Newعبد الله بن مرة الهمداني ← الحارث بن عبد الله الأعور
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عبد الله بن مرة الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥إسماعيل بن مسعود الجحدري، أبو مسعود
Newإسماعيل بن مسعود الجحدري ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5105 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5105
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سود کھانا اور کھلانا حرام ہے، نیز سود لینے اور دینے والے اور سود لکھنے والے ان سب پرلعنت کی گئی ہے، یعنی یہ سارے یعنی ہیں بشرطیکہ انہیں سود کی حرمت کا علم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حدیث مبارکہ زکاۃ و صدقات اپنے پاس روک رکھنے اور مستحق لوگوں کو نہ دینے کی حرمت بھی بتاتی ہے جبکہ زکاۃ کی ادائیگی فرض اور دین کی اساس وبنیاد ہے۔
(2) سود لینے والا عربی میں سود کھانے والا کہا گیا ہے مگر مراد لینے والا ہے۔ کھائے یا کسی اور استعمال میں لائے کیونکہ سود کا اپنی ذات کے لیے استعمال حرام ہے چاہے کسی بھی صورت میں ہو۔ البتہ اگر کسی کے پاس اس کی رضا مندی کی بغیر سود کا مال آجائے تو وہ اسے فقراء میں تقسیم اور رفاہِ عام کے کاموں میں خرچ کرسکتا ہے کیونکہ مال ضائع کرنا جائز نہیں، البتہ اسے ثواب نہیں ملے گا کیونکہ یہ مال حقیقتاً اس کا نہیں تھا، البتہ اس ےس فقراء کو فائدہ ہوجائے گا۔
(3) لکھنے والا کیونکہ یہ شخص بھی کبیرہ گناہ میں معاون بن رہا ہے۔
(4) جانتے بوجھتے یعنی متعلقہ افراد کو علم ہوکہ یہ سود کا معاملہ ہے۔ جہالت معاف ہے۔
(5) باد یہ کو لوٹ جانے والا یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے ساتھ خاص ہے کہ جس شخص نے ایک بار آپ کے دست مبارک پر ہجرت کی بیعت کرلی ہو، وہ دوبارہ اپنے اصلی علاقے میں اقامت اختیار نہیں کرسکتا ورنہ یہ ارتداد کے برابر گناہ ہوگا، الا یہ کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اجازت فرما دیں جس طرح حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کو اجازت دی تھی۔ آپ کے بعد کوئی ہجرت اس طرح لازم نہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے مبارک میں تھی۔ البتہ اب بھی اگر کوئی شخص دین کی خاطر ہجرت کرے گا تو وہ بھی اپنے وطن (ہجرت گاہ) واپس نہیں جاسکتا۔ واللہ أعلم.
(6) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ قیامت کے دن لعنت میں ہوگا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5105]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5105 in Urdu