🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب : الموتشمات وذكر الاختلاف على عبد الله بن مرة والشعبي في هذا
باب: گودوانے والی عورتوں کا بیان اور اس حدیث کی روایت میں عبداللہ بن مرہ اور شعبی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5108
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ، وَنَهَى عَنِ النَّوْحِ" , وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ صَاحِبَ.
شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے، سود کی گواہی دینے والے، سود کا حساب لکھنے والے پر، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے، اور نوحہ سے منع فرمایا، (اس روایت میں حلالہ کرنے والے اور صدقہ کو روکنے والے پر) لعنت کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5106 (صحیح) (یہ روایت بھی مرسل ہے، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پاکر صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمروثقة
👤←👥عطاء بن السائب الثقفي، أبو محمد، أبو السائب، أبو زيد
Newعطاء بن السائب الثقفي ← عامر الشعبي
صدوق حسن الحديث
👤←👥خلف بن خليفة الأشجعي، أبو أحمد
Newخلف بن خليفة الأشجعي ← عطاء بن السائب الثقفي
صدوق حسن الحديث
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← خلف بن خليفة الأشجعي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5108 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5108
اردو حاشہ:
رنگ بھرنے والی یہ فعل حرام ہے عورت کرے یا مرد۔ چونکہ عموماً عورتیں یہ کام کرتی تھیں، اس لیے مؤنث کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5108]