سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب : التزعفر والخلوق
باب: زعفران اور خلوق لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5124
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو، وَقَالَ عَلَى إِثْرِهِ , يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ لَهُ:" هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ؟" , قُلْتُ: لَا، قَالَ:" فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ".
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے، اور وہ خلوق لگائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہاری بیوی ہے؟“ کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو اسے دھوؤ اور دھوؤ پھر نہ لگانا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5124]
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے جبکہ انہوں نے خلوق لگائی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیری بیوی ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دھو دے، اچھی طرح دھو دے اور پھر دوبارہ نہ لگانا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 51 (الإستئذان 85) (2816)، (تحفة الأشراف: 11849)، مسند احمد (4/171، 173)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5125-5128) (ضعیف) (اس کا راوی ابو حفص بن عمرو مجہول ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (2816) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 5124 in Urdu
حفص بن عبد الله ← يعلى بن مرة الثقفي