سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. باب : ذكر نسخ ذلك
باب: دیبا نامی ریشم پہننے کی اباحت کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5305
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ، ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ، فَقِيلَ لَهُ: قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام". فَجَاءَ عُمَرُ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ. قَالَ:" إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ، إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ لِتَبِيعَهُ"، فَبَاعَهُ عُمَرُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیبا کی ایک قباء پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی، پھر تھوڑی دیر بعد اسے اتار دیا اور اسے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے بہت جلد اتار دی، فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام نے اس کے استعمال سے روک دیا ہے“، اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! ایک چیز آپ نے ناپسند فرمائی اور وہ مجھے دے دی؟ فرمایا: ”میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، میں نے تمہیں بیچ دینے کے لیے دی ہے“، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دو ہزار درہم میں بیچ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5305]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کی قبا پہنی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور تحفہ ملی تھی، پھر جلد ہی اتار دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اتنی جلدی اتار دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھے اس سے روک دیا۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور عرض گزار ہوئے: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایک چیز ناپسند فرمائی پھر وہ مجھے دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دی بلکہ اس لیے دی کہ تو اسے بیچ (کر اپنی ضروریات پوری کر) لے۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دو ہزار درہم میں بیچ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (2070)، (تحفة الٔاشراف: 2825)، مسند احمد (3/383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5305 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5305
اردو حاشہ:
امام نسائی رحمہ اللہ کے نزدیک کیونکہ پچھلی حدیث کے الفاظ ”زیب تن کیا“ ثابت ہیں اس لیے انہوں نے یہ حدیث لا کر نسخ ثابت کیا ہے جبکہ دوسرے علماء کے نزدیک وہ الفاظ ”زیب تن“ راوی کا وہم ہے۔
امام نسائی رحمہ اللہ کے نزدیک کیونکہ پچھلی حدیث کے الفاظ ”زیب تن کیا“ ثابت ہیں اس لیے انہوں نے یہ حدیث لا کر نسخ ثابت کیا ہے جبکہ دوسرے علماء کے نزدیک وہ الفاظ ”زیب تن“ راوی کا وہم ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5305]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5305 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري