سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب : الحكم باتفاق أهل العلم
باب: اہل علم کے اتفاق و اجماع کے مطابق فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5400
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَى عَلَيْنَا حِينٌ وَلَسْنَا نَقْضِي وَلَسْنَا هُنَالِكَ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدَّرَ أَنْ بَلَغْنَا مَا تَرَوْنَ، فَمَنْ عَرَضَ لَهُ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ , فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ نَبِيُّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، وَلَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ إِنِّي أَخَافُ، وَإِنِّي أَخَافُ، فَإِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر ایک ایسا وقت آیا کہ اس وقت نہ ہم فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہی فیصلہ کرنے کے اہل تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے وہ مقام مقدر کر دیا جہاں تم ہمیں دیکھ رہے ہو، لہٰذا جس کسی کو آج کے بعد کوئی معاملہ درپیش ہو تو وہ اس کا فیصلہ اس کے مطابق کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں ہے، اور اگر اس کے پاس کوئی ایسا معاملہ آئے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہیں ہے تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کیا تھا، اور اگر کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جو نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نیک لوگوں نے کیا ہو، اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے، مجھے ڈر لگ رہا ہے، کیونکہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ شبہ والی چیزیں ہیں، لہٰذا جو شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور جو شک میں نہ ڈالے اسے لے لو۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5400]
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم پر ایک ایسا وقت گزرا کہ ہم فیصلے نہیں کیا کرتے تھے اور نہ ہمارا یہ مرتبہ تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ ہم اس درجے کو پہنچے جو تم دیکھ رہے ہو۔ اب جس شخص کے سامنے کوئی مسئلہ پیش ہو تو وہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کرے۔ اگر کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہو جو کتاب اللہ میں مذکور نہ ہو تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کرے۔ اور اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آئے جو نہ کتاب اللہ میں مذکور ہو اور نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بابت فیصلہ فرمایا ہو تو وہ سلف صالحین کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کرے۔ یہ نہ کہے کہ مجھے ڈر لگتا ہے اور میں خطرہ محسوس کرتا ہوں، اس لیے کہ ”حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، البتہ ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں“۔ تو ”شک و شبہ والی چیز کو چھوڑ کر غیر مشتبہ چیز کو اختیار کر“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9197) (صحیح) (اس کے راوی ”حریث“ مجہول ہیں، لیکن پچھلی سند صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5400 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5400
اردو حاشہ:
”حلال واضح ہے۔“ یعنی بعض چیزوں کی حلت واضح اور غیر متنازعہ ہے۔ اور بعض چیزیں قطعاً حرام ہیں۔ ان کے بارے میں تو فیصلہ آسان ہے۔ البتہ کچھ معاملات مشتبہ ہوتے ہیں کیونکہ اس میں حلت کی وجہ بھی موجود ہوتی ہے اور حرمت کی بھی۔ یا دونوں قسم کی احادیث ہیں۔ یا اس میں سلف صالحین کا اختلاف ہے۔ ان میں احتیاط پر عمل کرنا چاہیے۔ واللہ أعلم
”حلال واضح ہے۔“ یعنی بعض چیزوں کی حلت واضح اور غیر متنازعہ ہے۔ اور بعض چیزیں قطعاً حرام ہیں۔ ان کے بارے میں تو فیصلہ آسان ہے۔ البتہ کچھ معاملات مشتبہ ہوتے ہیں کیونکہ اس میں حلت کی وجہ بھی موجود ہوتی ہے اور حرمت کی بھی۔ یا دونوں قسم کی احادیث ہیں۔ یا اس میں سلف صالحین کا اختلاف ہے۔ ان میں احتیاط پر عمل کرنا چاہیے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5400]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5400 in Urdu
عمارة بن عمير التيمي ← عبد الله بن مسعود