سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : تحريم الأشربة المسكرة من الأثمار والحبوب
باب: مختلف قسم کے غلوں اور پھلوں سے بنی ہوئی نشہ لانے والی شراب کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5584
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّ أَهْلَنَا يَنْبِذُونَ لَنَا شَرَابًا عَشِيًّا فَإِذَا أَصْبَحْنَا شَرِبْنَا، قَالَ:" أَنْهَاكَ عَنِ الْمُسْكِرِ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، وَأُشْهِدُ اللَّهَ عَلَيْكَ، أَنْهَاكَ عَنِ الْمُسْكِرِ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، وَأُشْهِدُ اللَّهَ عَلَيْكَ، إِنَّ أَهْلَ خَيْبَرَ يَنْتَبِذُونَ شَرَابًا مِنْ كَذَا وَكَذَا وَيُسَمُّونَهُ كَذَا وَكَذَا، وَهِيَ الْخَمْرُ، وَإِنَّ أَهْلَ فَدَكٍ يَنْتَبِذُونَ شَرَابًا مِنْ كَذَا وَكَذَا يُسَمُّونَهُ كَذَا وَكَذَا، وَهِيَ الْخَمْرُ، حَتَّى.. عَدَّ أَشْرِبَةً أَرْبَعَةً أَحَدُهَا الْعَسَلُ".
عبداللہ بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: ہمارے گھر والے ہمارے لیے شام کو شراب بناتے ہیں، جب صبح ہوتی ہے تو ہم پیتے ہیں، وہ بولے: میں تمہیں ہر نشہ لانے والی چیز سے روکتا ہوں، کم ہو یا زیادہ، اور میں تم پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تمہیں کم ہو یا زیادہ ہر نشہ لانے والی چیز سے روکتا ہوں، اور میں تم پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ خیبر والے فلاں فلاں چیز سے شراب بناتے ہیں اور اسے فلاں فلاں نام دیتے ہیں حالانکہ وہ خمر (شراب) ہے، اور اہل فدک فلاں فلاں چیز سے شر اب بناتے ہیں اور اسے فلاں فلاں نام دیتے ہیں، حالانکہ وہ خمر (شراب) ہے، یہاں تک کہ انہوں نے چار طرح کی شرابیں گنائیں ان میں سے ایک شہد تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5584]
ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آکر کہا: ہمارے گھر والے شام کے وقت نبیذ بناتے ہیں، ہم صبح کے وقت وہ پی لیتے ہیں (کیا یہ جائز ہے؟)۔ آپ نے فرمایا: میں تجھے ہر نشہ آور چیز سے روکتا ہوں، تھوڑی ہو یا زیادہ، اور میں اللہ تعالیٰ کو تجھ پر گواہ بنا کر تجھے نشہ آور چیز سے روکتا ہوں، قلیل ہو یا کثیر۔ اور میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر تجھے بتاتا ہوں کہ خیبر والے فلاں فلاں چیز سے مشروب تیار کرتے ہیں اور اس کا نام یہ رکھتے ہیں مگر وہ درحقیقت شراب (خمر) ہے، اور فدک والے بھی فلاں فلاں چیز سے مشروب تیار کرتے ہیں اور اس کا نام یہ اور یہ رکھتے ہیں، حالانکہ وہ بھی شراب ہی ہے، حتیٰ کہ انہوں نے چار (قسم کے) مشروب شمار کیے۔ ان میں سے ایک شہد (سے تیار ہوتا) تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7436) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نشہ لانے والی چیزوں کے نام کی تبدیلی سے اس کی حرمت پر کچھ بھی اثر نہیں پڑتا، اسی طرح اس کی حرمت پر قلت و کثرت کا کوئی بھی اثر نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون عبد الله بن عون المزني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← عبد الله بن عون المزني | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل سويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5584 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5584
اردو حاشہ:
یہ وہی بات ہے جو احناف کے علاوہ جمیع اہل علم کا مسلک ہے کہ نشہ آور چیز کسی بھی پھل، غلے یا مشروب سے تیار ہو، وہ شراب، یعنی خمر کا حکم رکھتی ہے۔ وہ قلیل بھی حرام ہے، خواہ ظاہرا اس کا نام کوئی رکھ لیا جائے۔
یہ وہی بات ہے جو احناف کے علاوہ جمیع اہل علم کا مسلک ہے کہ نشہ آور چیز کسی بھی پھل، غلے یا مشروب سے تیار ہو، وہ شراب، یعنی خمر کا حکم رکھتی ہے۔ وہ قلیل بھی حرام ہے، خواہ ظاہرا اس کا نام کوئی رکھ لیا جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5584]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5584 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← عبد الله بن عمر العدوي