الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب : ذكر الآثام المتولدة عن شرب الخمر
باب: شراب پینے کی وجہ سے ہونے والے گناہ جیسے ترک صلاۃ، اللہ کی طرف حرام کردہ قتل ناحق اور محرم سے زنا کاری وغیرہ کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5669
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ إِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلَا قَبْلَكُمْ تَعَبَّدَ فَعَلِقَتْهُ امْرَأَةٌ غَوِيَّةٌ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ جَارِيَتَهَا، فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّا نَدْعُوكَ لِلشَّهَادَةِ، فَانْطَلَقَ مَعَ جَارِيَتِهَا فَطَفِقَتْ كُلَّمَا دَخَلَ بَابًا أَغْلَقَتْهُ دُونَهُ، حَتَّى أَفْضَى إِلَى امْرَأَةٍ وَضِيئَةٍ عِنْدَهَا غُلَامٌ وَبَاطِيَةُ خَمْرٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا دَعَوْتُكَ لِلشَّهَادَةِ، وَلَكِنْ دَعَوْتُكَ لِتَقَعَ عَلَيَّ أَوْ تَشْرَبَ مِنْ هَذِهِ الْخَمْرَةِ كَأْسًا، أَوْ تَقْتُلَ هَذَا الْغُلَامَ، قَالَ: فَاسْقِينِي مِنْ هَذَا الْخَمْرِ كَأْسًا، فَسَقَتْهُ كَأْسًا، قَالَ: زِيدُونِي، فَلَمْ يَرِمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَيْهَا، وَقَتَلَ النَّفْسَ، فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا يَجْتَمِعُ الْإِيمَانُ وَإِدْمَانُ الْخَمْرِ إِلَّا لَيُوشِكُ أَنْ يُخْرِجَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ".
عبدالرحمٰن بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: شراب سے بچو، کیونکہ یہ برائیوں کی جڑ ہے، تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں ایک شخص تھا جو بہت عبادت گزار تھا، اسے ایک بدکار عورت نے پھانس لیا، اس نے اس کے پاس ایک لونڈی بھیجی اور اس سے کہلا بھیجا کہ ہم تمہیں گواہی دینے کے لیے بلا رہے ہیں، چنانچہ وہ اس کی لونڈی کے ساتھ گیا، وہ جب ایک دروازے میں داخل ہو جاتا (لونڈی) اسے بند کرنا شروع کر دیتی یہاں تک کہ وہ ایک حسین و جمیل عورت کے پاس پہنچا، اس کے پاس ایک لڑکا تھا اور شراب کا ایک برتن، وہ بولی: اللہ کی قسم! میں نے تمہیں گواہی کے لیے نہیں بلایا ہے، بلکہ اس لیے بلایا ہے کہ تم مجھ سے صحبت کرو، یا پھر ایک گلاس یہ شراب پیو، یا اس لڑکے کو قتل کر دو، وہ بولا: مجھے ایک گلاس شراب پلا دو، چنانچہ اس نے ایک گلاس پلائی، وہ بولا: اور دو، اور وہ وہاں سے نہیں ہٹا یہاں تک کہ اس عورت سے صحبت کر لی اور اس بچے کا خون بھی کر دیا، لہٰذا تم لوگ شراب سے بچو، اللہ کی قسم! ایمان اور شراب کا ہمیشہ پینا، دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے، البتہ ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9822) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عثمان بن عفان، أبو عمرو | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن الحارث القرشي، أبو محمد عبد الرحمن بن الحارث القرشي ← عثمان بن عفان | ثقة | |
👤←👥أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي، أبو بكر، أبو عبد الرحمن أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي ← عبد الرحمن بن الحارث القرشي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل سويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5669 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5669
اردو حاشہ:
(1) پیچھے پڑگئی یعنی اس پر عاشق ہوگئی۔ یا اس کو گمراہ کرنے کے درپے ہوگئی۔
(2) ”گلاس پلا دے“ یہ سوچ کر کہ یہ ان تینوں میں چھوٹا گناہ ہے اور جان بچانے کے لیے اس کا ارتکاب جائز ہوگا یا بڑے گناہ سے بچنے کے لیے چھوٹا گناہ کرنے کی گنجائش ہے۔
(3) ”مجھے اور پلاؤ“ کیونکہ شراب کا ایک گھونٹ دوسرے کی طرف کھینچتا ہے حتیٰ کہ ایک دفعہ پی لینے والا اس کا عادی بن جاتا ہے۔
(4) ”مار ڈالا“ نشے میں عقل پر قابو نہ رہا۔ زنا کر بیٹھا اور پھر راز فاش ہونے کے ڈر سے لڑکے کو بھی مارڈالا۔
(5) ”نکال دے گا“ اگر ایمان قوی ہوا تو ایک دفعہ پی لینے والے کو دوبارہ نہیں پینے دے گا اور اگر ایمان کمزور ہوا تو شراب آہستہ آہستہ اس سے ایمان کو نکال دے گی یعنی وہ شخص ایمان کے تمام کام چھوڑ دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ شراب کو ام الخبائث یعنی تمام خرابیوں قباحتوں اور شرعی واخلاقی رذائل اور گناہوں کی ماں اور جڑ قراردیا گیا ہے۔ اسے ہمیشہ پینے والا نہ صرف تمام شرعی واخلاقی کمالات سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے بلکہ دائرہ انسانیت سے نکل کر دائرہ حیوانیت میں جا پہنچتا ہے۔
(6) شراب نوشی کی نحوست یہ ہے کہ اس سے انسان کے قلب و ذہن سے ایمان زائل ہو جاتا ہے اور یہ خوفناک آفت ہے۔ اگر انسان کے پاس دولت نہ ہو تو اس سے بڑی شقاوت اور بد بختی اور کیا ہوسکتی ہے؟
(1) پیچھے پڑگئی یعنی اس پر عاشق ہوگئی۔ یا اس کو گمراہ کرنے کے درپے ہوگئی۔
(2) ”گلاس پلا دے“ یہ سوچ کر کہ یہ ان تینوں میں چھوٹا گناہ ہے اور جان بچانے کے لیے اس کا ارتکاب جائز ہوگا یا بڑے گناہ سے بچنے کے لیے چھوٹا گناہ کرنے کی گنجائش ہے۔
(3) ”مجھے اور پلاؤ“ کیونکہ شراب کا ایک گھونٹ دوسرے کی طرف کھینچتا ہے حتیٰ کہ ایک دفعہ پی لینے والا اس کا عادی بن جاتا ہے۔
(4) ”مار ڈالا“ نشے میں عقل پر قابو نہ رہا۔ زنا کر بیٹھا اور پھر راز فاش ہونے کے ڈر سے لڑکے کو بھی مارڈالا۔
(5) ”نکال دے گا“ اگر ایمان قوی ہوا تو ایک دفعہ پی لینے والے کو دوبارہ نہیں پینے دے گا اور اگر ایمان کمزور ہوا تو شراب آہستہ آہستہ اس سے ایمان کو نکال دے گی یعنی وہ شخص ایمان کے تمام کام چھوڑ دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ شراب کو ام الخبائث یعنی تمام خرابیوں قباحتوں اور شرعی واخلاقی رذائل اور گناہوں کی ماں اور جڑ قراردیا گیا ہے۔ اسے ہمیشہ پینے والا نہ صرف تمام شرعی واخلاقی کمالات سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے بلکہ دائرہ انسانیت سے نکل کر دائرہ حیوانیت میں جا پہنچتا ہے۔
(6) شراب نوشی کی نحوست یہ ہے کہ اس سے انسان کے قلب و ذہن سے ایمان زائل ہو جاتا ہے اور یہ خوفناک آفت ہے۔ اگر انسان کے پاس دولت نہ ہو تو اس سے بڑی شقاوت اور بد بختی اور کیا ہوسکتی ہے؟
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5669]
عبد الرحمن بن الحارث القرشي ← عثمان بن عفان