یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب : ذكر الأخبار التي اعتل بها من أباح شراب المسكر
باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5706
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ , قَالَ: عَطِشَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ , فَاسْتَسْقَى , فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ , فَشَمَّهُ فَقَطَّبَ , فَقَالَ:" عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ" فَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ , فَقَالَ رَجُلٌ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , قَالَ:" لَا". وَهَذَا خَبَرٌ ضَعِيفٌ , لِأَنَّ يَحْيَى بْنَ يَمَانٍ انْفَرَدَ بِهِ دُونَ أَصْحَابِ سُفْيَانَ , وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَكَثْرَةِ خَطَئِهِ.
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبے کے پاس پیاسے ہو گئے، تو آپ نے پانی طلب کیا۔ آپ کے پاس مشکیزہ میں بنی ہوئی نبیذ لائی گئی۔ آپ نے اسے سونگھا اور منہ ٹیڑھا کیا (ناپسندیدگی کا اظہار کیا) فرمایا: ”میرے پاس زمزم کا ایک ڈول لاؤ“، آپ نے اس میں تھوڑا پانی ملایا پھر پیا، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) یہ ضعیف ہے، اس لیے کہ یحییٰ بن یمان اس کی روایت میں اکیلے ہیں، سفیان کے دوسرے تلامذہ نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یحییٰ بن یمان کی حدیث سے دلیل نہیں لی جا سکتی اس لیے کہ ان کا حافظہ ٹھیک نہیں اور وہ غلطیاں بہت کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5706]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ شریف کا طواف کرتے ہوئے پیاس لگ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشکیزے میں سے نبیذ لائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سونگھا تو تیوری چڑھائی اور فرمایا: ”میرے پاس زمزم کے پانی کا ایک ڈول لاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی اس میں ڈالا اور نوش فرما لیا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اور (امام نسائی رحمہ اللہ نے) فرمایا: یہ حدیث بھی ضعیف ہے کیونکہ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کے شاگردوں میں سے صرف یحییٰ بن یمان ہی اس کو بیان کرتا ہے، لیکن اس کا حافظہ خراب تھا اور وہ بہت غلطیاں کرتا تھا، اس لیے اس کی بیان کردہ روایت قابلِ حجت نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9980) (ضعیف الإسناد) (مولف نے وجہ بیان کر دی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو مسعود الأنصاري، أبو مسعود | صحابي | |
👤←👥خالد بن سعد الكوفي خالد بن سعد الكوفي ← أبو مسعود الأنصاري | ثقة | |
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب منصور بن المعتمر السلمي ← خالد بن سعد الكوفي | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← منصور بن المعتمر السلمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن يمان العجلي، أبو زكريا يحيى بن يمان العجلي ← سفيان الثوري | صدوق يخطئ | |
👤←👥الحسن بن إسماعيل المجالدي، أبو سعيد الحسن بن إسماعيل المجالدي ← يحيى بن يمان العجلي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5706 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5706
اردو حاشہ:
یہ پانچویں روایت جس سے احناف نے استدلال کیا ہے۔ دراصل یہ اور چوتھی روایت ایک ہی ہیں اور ہیں بھی دونوں ضعیف۔ استدلال یوں ہے کہ وہ نبیذ نشہ آور تھی۔ آپ نے تیوری چڑھائی اور پانی ملایا، حالانکہ ممکن ہے کہ وہ زیادہ گاڑھی ہو اور آپ زیادہ گاڑھی پسند نہ فرماتے ہوں یا اس کی بو ناگوار ہو۔ پانی ملانے سے وہ پتلی ہوگئی اور اسے پینا آسان ہوگیا۔ ناگوار بو بھی ختم ہوگئی۔ کیا ضروری ہے کہ اس میں نشہ ہی مانا جائے اور پھر اس سے صحیح روایا ت کے خلاف استدلال کیا جائے خصوصاً جب کہ یہ روایت ضعیف بھی ہے۔ اس قسم کی روایت سے وہ مفہوم مراد لینا چاہیے جو صحیح ترین روایات کے مطابق ہو یا پھر انھیں چھوڑ دیا جائے جیسا کہ محدثین کا طریقہ ہے۔
یہ پانچویں روایت جس سے احناف نے استدلال کیا ہے۔ دراصل یہ اور چوتھی روایت ایک ہی ہیں اور ہیں بھی دونوں ضعیف۔ استدلال یوں ہے کہ وہ نبیذ نشہ آور تھی۔ آپ نے تیوری چڑھائی اور پانی ملایا، حالانکہ ممکن ہے کہ وہ زیادہ گاڑھی ہو اور آپ زیادہ گاڑھی پسند نہ فرماتے ہوں یا اس کی بو ناگوار ہو۔ پانی ملانے سے وہ پتلی ہوگئی اور اسے پینا آسان ہوگیا۔ ناگوار بو بھی ختم ہوگئی۔ کیا ضروری ہے کہ اس میں نشہ ہی مانا جائے اور پھر اس سے صحیح روایا ت کے خلاف استدلال کیا جائے خصوصاً جب کہ یہ روایت ضعیف بھی ہے۔ اس قسم کی روایت سے وہ مفہوم مراد لینا چاہیے جو صحیح ترین روایات کے مطابق ہو یا پھر انھیں چھوڑ دیا جائے جیسا کہ محدثین کا طریقہ ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5706]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5706 in Urdu
خالد بن سعد الكوفي ← أبو مسعود الأنصاري