الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. باب : ما يجوز شربه من العصير وما لا يجوز
باب: کون سا رس (شیرہ) پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟
حدیث نمبر: 5732
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ السُّلَمِيِّ , عَنْ أَبِي ثَابِتٍ الثَّعْلَبِيِّ , قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنِ الْعَصِيرِ؟ , فَقَالَ:" اشْرَبْهُ مَا كَانَ طَرِيًّا" , قَالَ: إِنِّي طَبَخْتُ شَرَابًا وَفِي نَفْسِي مِنْهُ , قَالَ:" أَكُنْتَ شَارِبَهُ قَبْلَ أَنْ تَطْبُخَهُ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ:" فَإِنَّ النَّارَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا قَدْ حَرُمَ".
ابوثابت ثعلبی کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور ان سے رس (شیرے) کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: جب تک تازہ ہو پیو۔ اس نے کہا: میں نے ایک مشروب کو پکایا ہے پھر بھی وہ میرے دل میں کھٹک رہا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم اسے پکانے سے پہلے پیتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: آگ سے کوئی حرام چیز حلال نہیں ہو جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 5369) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥أيمن بن ثابت الكوفي، أبو ثابت أيمن بن ثابت الكوفي ← عبد الله بن العباس القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الرحمن بن عبيد الثعلبي، أبو يعفور عبد الرحمن بن عبيد الثعلبي ← أيمن بن ثابت الكوفي | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← عبد الرحمن بن عبيد الثعلبي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل سويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5732 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5732
اردو حاشہ:
انگوروں کا جوس تازہ ہوتو نشے سے پاک ہوتا ہے، لہٰذا اسے پیا جاسکتا ہے لیکن اگر وہ پرانا ہوجائے تو نشے کا امکان ہوتا ہے، اس لیے وہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح اگر تازہ جوس کو آگ پر پکا کر اتنا خشک کر لیا جائے کہ اس میں نشے کا امکان نہ رہے، مثلاً: طلاء بن جائے تو استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ گرم کرنے سے قبل پڑا رہے حتیٰ کہ اس میں نشہ پیدا ہوجائے تو پھر خواہ اسے گرم کرکےطلاء بنا لیا جائے اس کا استعمال جائز نہیں کیونکہ ایک مرتبہ نشہ پیدا ہونے سے وہ حرام ہوگیا۔ اب آگ اسے حلال نہیں کرسکتی، خواہ آگ پر پکانے سے اس میں سے نشہ ختم بھی ہوجائے کیونکہ حرام چیز کو حلال بنانا جائز ہے۔ سائل کا دوسرا سوال اسی کے بارے میں تھا۔
انگوروں کا جوس تازہ ہوتو نشے سے پاک ہوتا ہے، لہٰذا اسے پیا جاسکتا ہے لیکن اگر وہ پرانا ہوجائے تو نشے کا امکان ہوتا ہے، اس لیے وہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح اگر تازہ جوس کو آگ پر پکا کر اتنا خشک کر لیا جائے کہ اس میں نشے کا امکان نہ رہے، مثلاً: طلاء بن جائے تو استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ گرم کرنے سے قبل پڑا رہے حتیٰ کہ اس میں نشہ پیدا ہوجائے تو پھر خواہ اسے گرم کرکےطلاء بنا لیا جائے اس کا استعمال جائز نہیں کیونکہ ایک مرتبہ نشہ پیدا ہونے سے وہ حرام ہوگیا۔ اب آگ اسے حلال نہیں کرسکتی، خواہ آگ پر پکانے سے اس میں سے نشہ ختم بھی ہوجائے کیونکہ حرام چیز کو حلال بنانا جائز ہے۔ سائل کا دوسرا سوال اسی کے بارے میں تھا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5732]
أيمن بن ثابت الكوفي ← عبد الله بن العباس القرشي