🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب : الرخصة في الصلاة بعد العصر
باب: عصر کے بعد نماز کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَلِيٍّ، قال:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً مُرْتَفِعَةً".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا الا یہ کہ سورج سفید، صاف اور بلند ہو۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 299 (1274) مختصراً، (تحفة الأشراف: 10310)، مسند احمد 1/ 80، 81، 129، 141 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥وهب بن الأجدع الهمداني
Newوهب بن الأجدع الهمداني ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥هلال بن يساف الأشجعي، أبو الحسن
Newهلال بن يساف الأشجعي ← وهب بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← هلال بن يساف الأشجعي
ثقة ثبت
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ إمام
سنن نسائی کی حدیث نمبر 574 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 574
574 ۔ اردو حاشیہ: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سورج کے زردی مائل ہونے سے قبل، جبکہ وہ روشن اور چمک دار ہو، نوافل پڑھے جاسکتے ہیں۔ حدیث میں وارد یہ استثنا «إِلَّا أَنْ تَكُونَ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً مُرْتَفِعَةً» مگر یہ کہ سورج سفید، صاف اور بلند ہو۔ قابل اعتبار وحجت ہے۔ اس سے حدیث: «لا صلاة بعد العصر حتی تغرب الشمس» عصر کے بعد نوافل پڑھنا جائز ہے۔ یہ عمل بعض صحابہ اور کثیر تابعین سے بھی مروی ہے۔ احادیث و آثار کی تفصیل کے لیے دیکھیے: [محلی ابن حزم: 2؍272، 275، وشرح سنن النسائي للإتیوبي: 7؍364۔ 372]
لہٰذا اس استثنا کو شاذ قرار دینا درست نہیں ہے اور نہ احناف کا یہ کہنا درست ہے کہ اس وقت بیضا وغیرہ تو پڑھی جا سکتی ہے جب کہ سورج کے زرد ہونے کے بعد یہ بھی نہ پڑھی جائے، نیز اس توجیہ کی کوئی پختہ دلیل بھی نہیں ہے اور یہ فرق دیگر عمومات کی روشنی میں نقابل عمل ٹھہرتا ہے۔ حدیث میں ہے: «من نسي صلاة أو نام عنھا، فکفارتھا أن یصلیھا إذا ذکرھا» [صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 684]
جوکوئی نماز پڑھنا بھول جائے یا اس سے سویا رہ جائے تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب بھی یاد آئے (یا بیدار ہو) اسی وقت پڑھ لے۔ لہٰذا سورج چمک رہا ہو یا زردی مائل ہونا شروع ہو جائے، دونوں صورتوں میں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 574]

Sunan an-Nasa'i Hadith 574 in Urdu