یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب : ذكر ما يجوز شربه من الأنبذة وما لا يجوز
باب: کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔
حدیث نمبر: 5742
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ نَبِيذُ الزَّبِيبِ مِنَ اللَّيْلِ فَيَجْعَلُهُ فِي سِقَاءٍ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ , وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ , فَإِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ الثَّالِثَةِ سَقَاهُ أَوْ شَرِبَهُ فَإِنْ أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ , أَهْرَاقَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی، وہ مشکیزے میں رکھی جاتی پھر آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور اس کے بعد کے (تیسرے) دن پیتے، جب تیسرے دن کا آخری وقت ہوتا تو آپ اسے (کسی کو) پلاتے یا خود پی لیتے اور صبح تک کچھ باقی رہ جاتی تو اسے بہا دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5742]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منقیٰ کی نبیذ رات کو بنائی جاتی، آپ اسے مشکیزے میں بناتے، پھر اس دن، اگلے دن اور اس سے اگلے دن تک پیتے رہتے، جب تیسری رات ہوتی تو اسے پی لیتے یا کسی کو پلا دیتے اور اگر صبح تک کچھ بچی رہتی تو اسے بہا دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5740 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5742 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5742
اردو حاشہ:
رات کے وقت منقیٰ اگر پانی میں بھگویا جائے تو دن کے وقت وہ نبیذ بنتی ہے۔ اس سے پہلے تو پھل الگ ہوتا ہے اور پانی الگ۔ دن کے وقت منقیٰ کو پانی میں مل کر پھر کپڑے سے نچوڑ کر نبیذ تیار ہوتی ہے، لہٰذا پہلی رات کو شمار نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد مزید دو دن اور دو رات تک اس کو رکھ کر پیا جاتا تھا۔ تیسری رات شروع ہونے پر یا توا سے پی لیتے تھے یا اگر بچ رہتی تو بہا دیتے۔ گویا مجموعی طور پر تین دن اور دو رات تک پی جا سکتی ہے۔
رات کے وقت منقیٰ اگر پانی میں بھگویا جائے تو دن کے وقت وہ نبیذ بنتی ہے۔ اس سے پہلے تو پھل الگ ہوتا ہے اور پانی الگ۔ دن کے وقت منقیٰ کو پانی میں مل کر پھر کپڑے سے نچوڑ کر نبیذ تیار ہوتی ہے، لہٰذا پہلی رات کو شمار نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد مزید دو دن اور دو رات تک اس کو رکھ کر پیا جاتا تھا۔ تیسری رات شروع ہونے پر یا توا سے پی لیتے تھے یا اگر بچ رہتی تو بہا دیتے۔ گویا مجموعی طور پر تین دن اور دو رات تک پی جا سکتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5742]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5742 in Urdu
يحيى بن عبيد البهراني ← عبد الله بن العباس القرشي