🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب : التثويب في أذان الفجر
باب: فجر کی اذان میں تثویب یعنی «الصلاۃ خیر من النوم» کے کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 649
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قال أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَلَيْسَ بِأَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ.
اس سند سے بھی سفیان سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 649]
حضرت سفیان رحمہ اللہ کی یہ حدیث اسی سند کے ساتھ ہمیں عمرو بن علی کے واسطے سے بھی پہنچی ہے۔ امام ابو عبدالرحمٰن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (سند میں مذکور حضرت سفیان کے استاد) ابوجعفر سے، ابوجعفر فراء مراد نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12170) (صحیح) ابوعبدالرحمن امام نسائی کہتے ہیں: ابو جعفر سے مراد ابو جعفر الفراء نہیں ہیں۔»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، .649] إسناده ضعيف، أبو سلمان همام المؤذن مجهول الحال. وأبو جعفر مجهول ليس هو الفراء. والحديث السابق (634) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد اللهثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 649 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 649
649 ۔ اردو حاشیہ: یہ حدیث اس بات کی صریح نص اور دلیل ہے کہ صبح کی اذان میں «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ» کہنے کا حکم آغاز میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے دیا تھا۔ اس کا انتساب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف کرنا محض جھوٹ اور افترا ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے اسی کتاب کا ابتدائیہ دیکھیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 649]

Sunan an-Nasa'i Hadith 649 in Urdu