🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : الفضل في بناء المساجد
باب: مساجد بنانے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 689
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ، بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی مسجد بنائی جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 689]
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے (اس غرض سے) مسجد بنائی کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، اللہ عزوجل جنت میں اس کا گھر بنائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10767)، مسند احمد 4/386 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن عبسة السلمي، أبو نجيحصحابي
👤←👥كثير بن مرة الحضرمي، أبو شجرة، أبو القاسم
Newكثير بن مرة الحضرمي ← عمرو بن عبسة السلمي
ثقة
👤←👥خالد بن معدان الكلاعي، أبو عبد الله
Newخالد بن معدان الكلاعي ← كثير بن مرة الحضرمي
ثقة
👤←👥بحير بن سعد السحولي، أبو خالد
Newبحير بن سعد السحولي ← خالد بن معدان الكلاعي
ثقة ثبت
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← بحير بن سعد السحولي
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص
Newعمرو بن عثمان القرشي ← بقية بن الوليد الكلاعي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 689 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 689
689 ۔ اردو حاشیہ:
➊ مسجد بنانے کا مقصد یہ ہے کہ وہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہونا چاہیے۔
➋ جھگڑے، ضد، تعصب، ریا اور شہرت کی خاطر مسجد بنانا کوئی فضیلت والا کام نہیں۔
➌ مسجد پر اپنا نام کندہ کروانا یا تختیاں لگوانا بھی ریا اور شہرت کے ذیل میں آ سکتا ہے، اسی طرح کسی مخصوص فرقے کے لیے مسجد بنانا بھی کہ اس میں دوسرے فرقوں کا داخلہ منع ہو، مسجد کے مقصد کے خلاف اور بے فائدہ ہے۔ صحیح نیت کے ساتھ مسجد بنانا جنت میں اپنا گھر بنانے کے مترادف ہے۔
➍ گھر بنانے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف تعظیماً ہے ورنہ اللہ تعالیٰ تو اپنے حکم سے گھر پیدا کرتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 689]

Sunan an-Nasa'i Hadith 689 in Urdu