🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب : فضل الجماعة
باب: نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 840
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمَّارٍ، قال: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تنہا نماز سے پچیس درجہ بڑھی ہوتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 840]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17471)، مسند احمد 6/49 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة أفضل أهل زمانه
👤←👥عبد الرحمن بن عمار التيمي
Newعبد الرحمن بن عمار التيمي ← القاسم بن محمد التيمي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← عبد الرحمن بن عمار التيمي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عبيد الله بن سعيد اليشكري، أبو قدامة
Newعبيد الله بن سعيد اليشكري ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة مأمون سنى
سنن نسائی کی حدیث نمبر 840 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 840
840 ۔ اردو حاشیہ: نماز باجماعت میں نمازی کو بہت سے زائد کام کرنے پڑتے ہیں۔ وقت بھی زائد صرف کرنا پڑتا ہے۔ نیکی کے زیادہ مواقع میسر آتے ہیں اس لیے نماز باجماعت اکیلے کی نماز سے بہت افضل ہے۔ اکثر روایات میں پچیس درجے کا ذکر ہے جب کہ بعض روایات میں ستائیس درجے کا بھی ذکر ہے۔ بعض اہل علم نے پچیس کو ترجیح دی ہے کیونکہ کم یقینی ہوتا ہے اور زائد مختلف فیہ جب کہ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ دونوں اعداد سے کثرت مراد ہے نہ کہ معین عدد۔ بعض نے سری اور جہری کا فرق بتلایا ہے یعنی سری نماز پچیس درجے اور جہری ستائیس درجے افضل ہے کیونکہ جہری نماز میں مقتدی کو دو کام زائد کرنے پڑتے ہیں: بلند آواز سے آمین کہنا اور قرأت سننا۔ اکیلے کی سب نمازیں ہی سری ہوتی ہیں۔ بہرحال حق یہ ہے کہ اس کے متعلق کوئی صریح صحیح دلیل منقول نہیں جس کی وجہ سے کوئی معتبر یا مستند بات یا توجیہ کی جا سکتی ہو اس لیے اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ (مزید دیکھیے حدیث: 487)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 840]