سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : نوع آخر من الدعاء بين التكبير والقراءة
باب: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان ایک اور دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 897
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللہم اهدني لأحسن الأعمال وأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت وقني سيئ الأعمال وسيئ الأخلاق لا يقي سيئها إلا أنت» ”بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں، اے اللہ! مجھے حسن اعمال اور حسن اخلاق کی توفیق دے، تیرے سوا کوئی اس کی توفیق نہیں دے سکتا، اور مجھے برے اعمال اور قبیح اخلاق سے بچا، تیرے سوا کوئی ان برائیوں سے بچا نہیں سکتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 897]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہتے، پھر فرماتے: ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] «اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ، لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» ”یقیناً میری نماز، میری دیگر عبادات، میری زندگی اور میری موت صرف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی چیز کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ! مجھے اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کی رہنمائی نصیب فرما۔ یقیناً ان کی طرف تیرے سوا کوئی رہنمائی نہیں کرسکتا۔ اور مجھے برے اعمال اور برے اخلاق سے بچا۔ یقیناً تیرے سوا کوئی ان سے بچا نہیں سکتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3048) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 897 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري