🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب : القراءة في الصبح بالمعوذتين
باب: نماز فجر میں معوذتین پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 953
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ التِّرُمِذِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قال: أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ،" أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ قَالَ عُقْبَةُ: فَأَمَّنَا بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے متعلق پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں انہیں دونوں سورتوں کے ذریعہ ہماری امامت فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9915)، ویأتی عند المؤلف برقم: 5436 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معوذتین سے مراد «قل أعوذ برب الناس» اور «قل أعوذ برب الفلق» ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥جبير بن نفير الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجبير بن نفير الحضرمي ← عقبة بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن جبير الحضرمي، أبو حمير، أبو حميد
Newعبد الرحمن بن جبير الحضرمي ← جبير بن نفير الحضرمي
ثقة
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← عبد الرحمن بن جبير الحضرمي
صدوق له أوهام
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← معاوية بن صالح الحضرمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← سفيان الثوري
ثقة ثبت
👤←👥هارون بن عبد الله البزاز، أبو موسى
Newهارون بن عبد الله البزاز ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة
👤←👥موسى بن حزام الترمذي، أبو عمران
Newموسى بن حزام الترمذي ← هارون بن عبد الله البزاز
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 953 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 953
953 ۔ اردو حاشیہ:
➊ معوذتین سے مراد قرآن مجید کی آخری دو سورتیں: «﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾» اور «﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾» ہیں۔ انہیں معوذتین اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ جادو اور جن وغیرہ کے شر سے انسان کو پناہ مہیا کرتی ہیں بلکہ ان کے اتارنے کا سبب ہی یہ ہے۔
➋ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ دونوں سورتیں قرآن مجید کا جز ہیں اور انہیں نماز میں پڑھا جا سکتا ہے نہ کہ جیسا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ یہ صرف دم اور تعویذ کے لیے ہیں، ان کی قرأت درست نہیں اور نہ یہ قرآن کا جز ہیں۔ اس حدیث کی مزید تفصیل اگلے باب میں آرہی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سورتوں کو صبح کی نماز میں پڑھنا ان کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تو صبح کی نماز میں لمبی قرأت کرنا ہی تھا لیکن کبھی کبھی بیان جواز کے لیے چھوٹی سورتیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے جیسے سورۂ زلزال کے بارے میں ہے کہ آپ نے فجر کی نماز میں اسے پڑھا تھا۔ دیکھیے: [سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 816]

[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 953]