علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما جاء في القاضي لا يقضي بين الخصمين حتى يسمع كلامهما
باب: قاضی جب تک دونوں فریق کی بات نہ سن لے فیصلہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 1331
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ، فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ، حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الْآخَرِ، فَسَوْفَ تَدْرِي، كَيْفَ تَقْضِي "، قَالَ عَلِيٌّ: فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا بَعْدُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس دو آدمی فیصلہ کے لیے آئیں تو تم پہلے کے حق میں فیصلہ نہ کرو جب تک کہ دوسرے کی بات نہ سن لو ۱؎ عنقریب تم جان لو گے کہ تم کیسے فیصلہ کرو“۔ علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں برابر فیصلے کرتا رہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1331]
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأقضیة 6 (3582)، (تحفة الأشراف: 10081) (حسن) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ”حنش“ ضعیف ہیں، دیکھئے: الإرواء رقم: 2600)»
وضاحت: ۱؎: اور اگر دوسرا فریق خاموش رہے، عدالت کے سامنے کچھ نہ کہے، نہ اقرار کرے نہ انکار یا دوسرا فریق عدالت کی طلبی کے باوجود عدالت میں بیان دینے کے لیے حاضر نہ ہو تو کیا دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ قرین صواب بات یہی ہے کہ اس صورت میں عدالت یک طرفہ فیصلہ دینے کی مجاز ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن، الإرواء (2600)
قال الشيخ زبير على زئي:(1331) إسناده ضعيف / د 3582
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي | |
👤←👥حنش بن المعتمر الكناني، أبو المعتمر حنش بن المعتمر الكناني ← علي بن أبي طالب الهاشمي | مقبول | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← حنش بن المعتمر الكناني | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت زائدة بن قدامة الثقفي ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة ثبت | |
👤←👥الحسين بن علي الجعفي، أبو محمد، أبو عبد الله الحسين بن علي الجعفي ← زائدة بن قدامة الثقفي | ثقة متقن | |
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري هناد بن السري التميمي ← الحسين بن علي الجعفي | ثقة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1331 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1331
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اوراگردوسرا فریق خاموش رہے،
عدالت کے سامنے کچھ نہ کہے،
نہ اقرارکرے نہ انکار یا دوسرافریق عدالت کی طلبی کے باوجودعدالت میں بیان دینے کے لیے حاضرنہ ہوتو کیا دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ دیا جاسکتا ہے یانہیں؟ قرین صواب بات یہی ہے کہ اس صورت میں عدالت یک طرفہ فیصلہ دینے کی مجازہوگی۔
نوٹ:
(متابعات کی بناپر یہ حدیث حسن ہے،
ورنہ اس کے راوی ”حنش“ ضعیف ہیں،
دیکھئے:
الإرواء رقم: 2600)
وضاحت:
1؎:
اوراگردوسرا فریق خاموش رہے،
عدالت کے سامنے کچھ نہ کہے،
نہ اقرارکرے نہ انکار یا دوسرافریق عدالت کی طلبی کے باوجودعدالت میں بیان دینے کے لیے حاضرنہ ہوتو کیا دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ دیا جاسکتا ہے یانہیں؟ قرین صواب بات یہی ہے کہ اس صورت میں عدالت یک طرفہ فیصلہ دینے کی مجازہوگی۔
نوٹ:
(متابعات کی بناپر یہ حدیث حسن ہے،
ورنہ اس کے راوی ”حنش“ ضعیف ہیں،
دیکھئے:
الإرواء رقم: 2600)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1331]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1331 in Urdu
حنش بن المعتمر الكناني ← علي بن أبي طالب الهاشمي