سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب ومن سورة البقرة
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 2963
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانُوا رُكُوعًا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ "، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعُمَارَةَ بْنِ أَوْسٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ لوگ فجر کی نماز ۱؎ میں حالت رکوع میں تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمرو بن عوف مزنی، ابن عمر، عمارہ بن اوس اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2963]
۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمرو بن عوف مزنی، ابن عمر، عمارہ بن اوس اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 341 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ مسجد قباء کا واقعہ ہے صحیح بخاری میں اس کی صراحت آئی ہے، وہاں تحویل قبلہ کی خبر فجر میں ملی تھی، اور پچھلی حدیث میں جو واقعہ ہے وہ بنو حارثہ کی مسجد کا واقعہ ہے۔ جسے مسجد قبلتین کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح أصل صفة الصلاة، الإرواء (290)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الله بن دينار القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري هناد بن السري التميمي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2963 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2963
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ مسجد قباء کا واقعہ ہے صحیح بخاری میں اس کی صراحت آئی ہے،
وہاں تحویل قبلہ کی خبر فجر میں ملی تھی،
اور پچھلی حدیث میں جو واقعہ ہے وہ بنو حارثہ کی مسجد کا واقعہ ہے۔
جسے مسجد قبلتین کہا جاتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
یہ مسجد قباء کا واقعہ ہے صحیح بخاری میں اس کی صراحت آئی ہے،
وہاں تحویل قبلہ کی خبر فجر میں ملی تھی،
اور پچھلی حدیث میں جو واقعہ ہے وہ بنو حارثہ کی مسجد کا واقعہ ہے۔
جسے مسجد قبلتین کہا جاتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2963]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2963 in Urdu
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي