🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب ومن سورة البقرة
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2966
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ: " سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ: كَانَا مِنْ شَعَائِرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ أَمْسَكْنَا عَنْهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 قَالَ: هُمَا تَطَوُّعٌ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158 " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عاصم الأحول کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ دونوں جاہلیت کے شعائر میں سے تھے ۱؎، پھر جب اسلام آیا تو ہم ان دونوں کے درمیان طواف کرنے سے رک گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الصفا والمروة من شعائر الله» (صفا و مروہ شعائر الٰہی میں سے ہیں) نازل فرمائی۔ تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے اس کے لیے ان دونوں کے درمیان طواف (سعی) کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے درمیان طواف (سعی) نفل ہے اور جو کوئی بھلائی کام ثواب کی خاطر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا قدردان اور علم رکھنے والا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 80 (1648)، وتفسیر البقرة 21 (4496)، صحیح مسلم/الحج 43 (1278) (تحفة الأشراف: 929) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان علامات اور نشانیوں میں سے ہیں جن کی زمانہ جاہلیت میں پرستش و پوجا ہوتی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عاصم الأحول
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يزيد بن أبي حكيم الكناني، أبو عبد الله
Newيزيد بن أبي حكيم الكناني ← سفيان الثوري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← يزيد بن أبي حكيم الكناني
ثقة حافظ
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2966 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2966
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ان علامات اور نشانیوں میں سے ہیں جن کی زمانہ جاہلیت میں پرستش وپوجا ہوتی تھی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2966]