سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب ما جاء من لا تحل له الصدقة
باب: زکاۃ لینا کس کس کے لیے جائز نہیں؟
حدیث نمبر: 654
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ سُلَيْمَانَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
اس سند سے بھی عبدالرحیم بن سلیمان سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
اس سند سے یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 654]
اس سند سے یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (اس میں بھی مجالد ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ زبير على زئي:(653 ،654) إسناده ضعيف
مجالد : ضعيف (د 2851)
مجالد : ضعيف (د 2851)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الرحيم بن سليمان الكناني، أبو علي | ثقة حافظ | |
👤←👥يحيى بن آدم الأموي، أبو زكريا يحيى بن آدم الأموي ← عبد الرحيم بن سليمان الكناني | ثقة حافظ فاضل | |
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد محمود بن غيلان العدوي ← يحيى بن آدم الأموي | ثقة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 654 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 654
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس میں بھی مجالد ضعیف راوی ہے،
لیکن شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے)
نوٹ:
(اس میں بھی مجالد ضعیف راوی ہے،
لیکن شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 654]
يحيى بن آدم الأموي ← عبد الرحيم بن سليمان الكناني