الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب ما جاء في فضل الطواف
باب: طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 867
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، قَالَ: كَانُوا يَعُدُّونَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَفْضَلَ مِنْ أَبِيهِ، وَلِعَبْدِ اللَّهِ أَخٌ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَيْضًا.
ایوب سختیانی کہتے ہیں کہ لوگ عبداللہ بن سعید بن جبیر کو ان کے والد سے افضل شمار کرتے تھے۔ اور عبداللہ کے ایک بھائی ہیں جنہیں عبدالملک بن سعید بن جبیر کہتے ہیں۔ انہوں نے ان سے بھی روایت کی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18452) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے یہ اثر پچھلی حدیث کے راوی ”عبداللہ بن سعید بن جبیر“ کی تعریف میں پیش کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(867) إسناده ضعيف
سفيان بن عيينة مدلس و عنعن (د295) (ح 871،انظر ص 317
سفيان بن عيينة مدلس و عنعن (د295) (ح 871،انظر ص 317
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 867 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 867
اردو حاشہ:
1؎:
مؤلف نے یہ اثر پچھلی حدیث کے راوی ”عبداللہ بن سعید بن جبیر“ کی تعریف میں پیش کیا ہے۔
1؎:
مؤلف نے یہ اثر پچھلی حدیث کے راوی ”عبداللہ بن سعید بن جبیر“ کی تعریف میں پیش کیا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 867]