الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل
The Book on Suckling
5. باب مَا جَاءَ مَا ذُكِرَ أَنَّ الرَّضَاعَةَ لاَ تُحَرِّمُ إِلاَّ فِي الصِّغَرِ دُونَ الْحَوْلَيْنِ
5. باب: رضاعت کی حرمت دو سال سے کم کی عمر ہی میں دودھ پینے سے ثابت ہو گی۔
Chapter: What has been related about: Suckling does not make a prohibition except during infancy less than two years
حدیث نمبر: 1152
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن فاطمة بنت المنذر، عن ام سلمة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يحرم من الرضاعة إلا ما فتق الامعاء في الثدي، وكان قبل الفطام ". قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح، والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم، ان الرضاعة لا تحرم إلا ما كان دون الحولين، وما كان بعد الحولين الكاملين، فإنه لا يحرم شيئا، وفاطمة بنت المنذر بن الزبير بن العوام وهي امراة هشام بن عروة.(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرِّضَاعَةِ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ فِي الثَّدْيِ، وَكَانَ قَبْلَ الْفِطَامِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الرَّضَاعَةَ لَا تُحَرِّمُ إِلَّا مَا كَانَ دُونَ الْحَوْلَيْنِ، وَمَا كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ الْكَامِلَيْنِ، فَإِنَّهُ لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَهِيَ امْرَأَةُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ انتڑیوں کو پھاڑ دے ۱؎، اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ رضاعت کی حرمت اس وقت ہوتی ہے جب بچے کی عمر دو برس سے کم ہو، اور جو دو برس پورے ہونے کے بعد ہو تو اس سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18285) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے۔
۲؎: یعنی جب بچہ دو برس سے کم کا ہو۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1946)

   جامع الترمذي1152هند بنت حذيفةلا يحرم من الرضاعة إلا ما فتق الأمعاء في الثدي وكان قبل الفطام
   بلوغ المرام970هند بنت حذيفة لا يحرم من الرضاع إلا ما فتق الأمعاء وكان قبل الفطام
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1152 کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1152  
اردو حاشہ:
وضاخت: 1 ؎:
یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے۔
2 ؎:
یعنی جب بچہ دو برس سے کم کا ہو۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1152   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.