الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل
The Book on Suckling
9. باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَرَى الْمَرْأَةَ تُعْجِبُهُ
9. باب: آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے پسند آ جائے تو کیا کرے؟
Chapter: What has been related about a man who sees a woman and becomes fascinated with her
حدیث نمبر: 1158
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا هشام بن ابي عبد الله هو الدستوائي، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى امراة فدخل على زينب، فقضى حاجته، وخرج وقال:" إن المراة إذا اقبلت اقبلت في صورة شيطان، فإذا راى احدكم امراة فاعجبته، فليات اهله فإن معها مثل الذي معها". قال: وفي الباب، عن ابن مسعود. قال ابو عيسى: حديث جابر، حديث صحيح حسن غريب، وهشام الدستوائي هو هشام بن سنبر.(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، وَخَرَجَ وَقَالَ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ، حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ هُوَ هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو آپ زینب رضی الله عنہا کے پاس تشریف لائے اور آپ نے اپنی ضرورت پوری کی اور باہر تشریف لا کر فرمایا: عورت جب سامنے آتی ہے تو وہ شیطان کی شکل میں آتی ہے ۱؎، لہٰذا جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے بھلی لگے تو اپنی بیوی کے پاس آئے اس لیے کہ اس کے پاس بھی اسی جیسی چیز ہے جو اس کے پاس ہے۔‏‏‏‏
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- جابر کی حدیث صحیح حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- ہشام دستوائی دراصل ہشام بن سنبر ہیں۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحيح مسلم/النكاح 2 (1403)، سنن ابي داود/ النكاح 44 (2151)، مسند احمد (3/330) (تحفة الأشراف: 2975)، (صحيح) وأخرجه: مسند احمد (3/330، 341، 348، 395) من غير هذا الوجه.»

وضاحت:
۱؎: عورت کو شیطان کی شکل میں اس لیے کہا کہ جیسے شیطان آدمی کو بہکاتا ہے ایسے بے پردہ عورت بھی مرد کو بہکاتی ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

   صحيح مسلم3407جابر بن عبد اللهالمرأة تقبل في صورة شيطان وتدبر في صورة شيطان فإذا أبصر أحدكم امرأة فليأت أهله فإن ذلك يرد ما في نفسه
   صحيح مسلم3409جابر بن عبد اللهإذا أحدكم أعجبته المرأة فوقعت في قلبه فليعمد إلى امرأته فليواقعها فإن ذلك يرد ما في نفسه
   جامع الترمذي1158جابر بن عبد اللهالمرأة إذا أقبلت أقبلت في صورة شيطان فإذا رأى أحدكم امرأة فأعجبته فليأت أهله فإن معها مثل الذي معها
   سنن أبي داود2151جابر بن عبد اللهالمرأة تقبل في صورة شيطان فمن وجد من ذلك شيئا فليأت أهله فإنه يضمر ما في نفسه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1158 کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1158  
اردو حاشہ:
1؎:
عورت کو شیطان کی شکل میں اس لیے کہا کہ جیسے شیطان آدمی کو بہکاتا ہے ایسے بے پردہ عورت بھی مرد کو بہکاتی ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1158   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2151  
´نظر نیچی رکھنے کا حکم۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو (اپنی بیوی) زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اپنی ضرورت پوری کی، پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا: عورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ۱؎، تو جس کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آئے وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے، کیونکہ یہ اس کے دل میں آنے والے احساسات کو ختم کر دے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2151]
فوائد ومسائل:
1: بعض قلیل الحیاء لوگ اس صحیح حدیث کے الفاظ سے ترجمعہ میں یہ رنگ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نعوذبااللہ، رسول ﷺ مغلوب الشہوت قسم کے انسان تھے اور کچھ دوسرے ہیں کہ احادیث کی حجیت کو مشکوک باور کراتے ہیں اور یہ دونوں ہی باتیں علم وذہانت کے منافی ہیں۔
رسول ﷺتو اس قدر باحیا تھے کہ پردے میں بیٹھی ہوئی دو شیزہ کی حیا بھی آپ کی حیا کے سامنے ماند تھی، ایسا ترجمہ کرنے والے مقام رسالت سے آگاہ نہیں آپ نے اپنی حاجت یا ضرورت پوری کی کا ترجمہ عربی زبان وادب میں سوائے مباشرت کے اور ہے ہی نہیں؟ آپ نے صحابہ کی مجلس میں جا کر ایک باقاعدہ کی بات بتائی کہ عورت مرد کے لئے شیطان کی طرح وسوسے پیدا کرتی اور فتنے کا باعث بنتی ہے۔
اس کا بہترین علاج انسان کی اپنی بیوی ہے۔
اس نصیحت کو پچھلے جملوں سے جوڑ کر ایک ایسا مفہوم پیدا کرنا جو ایک عام باوقار شخصیت کے لئے بھی زیب نہ دیتا ہو۔
رسول ﷺکے لئے بیان کرنا ازحد نا مناسب ہے۔

2: عورت کو ایسی کسی صورت میں باہر نہیں نکلنا چاہیے کہ شیطان صفت کہلائی جانے لگے۔

3: صنفی جذبات پورے کرنے کے لئے پاک اور حلال مقام انسان کا اپنا گھر ہے۔

4: عورت کو بھی شوہرکا مطیع ہونا چاہیے تاکہ شوہر پاک اور چادر وصمت بے داغ رہے۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2151   

  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3407  
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک عورت پر پڑ گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں آئے اور وہ ایک کھال کو رنگنے کے لیے مل رہی تھیں، ان سے اپنی خواہش پوری کی، پھر باہر ساتھیوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: عورت شیطان کی شکل میں سامنے آتی ہے اور شیطان کی شکل میں واپس مڑتی ہے، تو جب تم میں سے کسی کی نظر کسی عورت پر پڑ جائے (اور اس کا خیال دل... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3407]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
تَمْعَسُ:
وہ مل رہی تھیں۔
(2)
سَنِيْئَةٌ:
وہ کھال جو دباغت کے لیے پھیلائی جائے۔
(3)
تُقْبِلُ الْمَرْأَةَ وَتُدْبِرُ فِيْ صُوْرَةِ شَيْطَان:
جس طرح شیطان انسان کو برے خیالات وافکار اور برے اعمال وافعال پر آمادہ اور برانگیختہ کرتا ہے،
اور راہ راست سے ورغلاتا ہے،
اس طرح عورت کی آمدو رفت،
انسان کے دل میں شہوانی خیالات و تصورات کو ابھارتی ہے،
اور انسان اس کو جنسی تصورات سے دیکھتا ہے اوراس کے دل و دماغ پر شہوانی خیالات چھا جاتے ہیں،
اور اس میں ہیجان انگیز حرکات ابھرتی ہیں۔
فوائد ومسائل:
جب انسان کی کسی عورت پر نظر پڑجائے،
اور اس کے تصورات دل میں جم جائیں جس سے اس کے دل میں جنسی ہیجان پیدا ہو جائے،
اسے دیکھ کر اس کے دل میں اس کی طرف رغبت اور میلان پیدا ہو تو وہ بجائے اس کے کہ نظر بازی میں مبتلا ہو وہ اگرشادی شدہ ہے فوراً اپنی بیوی کے پاس آ کر،
اپنی خواہش پوری کر لے،
اگرچہ دن کا وقت ہوا اور وہ کسی کام کام میں مصروف ہو،
اوربیوی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسی صورت میں اپنا کام کاج چھوڑ کر،
اپنے خاوند کے پاس آئے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ امت کے لیے اسوہ اور نمونہ ہیں،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت حال کا ادراک کر کے امت کو اپنے قول اور عمل سے اس کا حل بتا دیا تاکہ انسان سار ادن ان خیالات میں کھویا نہ رہے،
لیکن اگر انسان غیر شادی شدہ ہے،
تو وہ فوراً نظر بازی یا دیدہ پھاڑنے سے باز آئے اور شیطان سے اللہ کی پناہ میں آئے یعنی ﴿اَعُوْذُبِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم﴾ کا ورد کرے اور ان خیالات کو جھٹک دے،
اگراستطاعت ہو تو فوراً شادی کا بندوبست کرے،
وگرنہ روزوں کے ذریعے ضبط نفس کا ملکہ پیدا کرے،
اگر وہ شہوانی اور جنسی خیالات کا اسیر رہے گا تو اس سے اس کا ہی دل ودماذغ اور بدن ونظر متاثر ہوں گے اور اس میں اخلاقی بگاڑ پیدا ہو گا جس سے اس کی قوت کارمتاثر ہو گی،
اس طرح دینی ودنیوی نقصانات کا شکار ہو گا۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3407   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.