الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل
The Book of Eclipses
12. بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
12. باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
Chapter: Another version
حدیث نمبر: 1478
Save to word اعراب
(مرفوع) اخبرنا عبدة بن عبد الرحيم، قال: انبانا ابن عيينة، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عائشة , ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في كسوف في صفة زمزم اربع ركعات في اربع سجدات".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفٍ فِي صُفَّةِ زَمْزَمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز میں زمزم کے چبوترے پر چار چار رکوع اور چار چار سجدے کئے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکسوف 18 (1064) بلفظ ’’أربع رکعات فی سجدتین‘‘ بدون ذکر الصفة (شاذ) (آپ صلی الله علیہ وسلم نے زندگی میں صرف ایک بار وہ بھی مدینہ میں سورج گرہن کی صلاة پڑھی ہے، یہ روایت شاذ ہے، کسی راوی سے وہم ہو گیا ہے)»

قال الشيخ الألباني: صحيح دون ذكر الصفة فإنه شاذ مخالف لكل الروايات السابقة واللاحقة

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

سنن نسائی کی حدیث نمبر 1478 کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1478  
1478۔ اردو حاشیہ: اس حدیث میں زم زم کا ذکر کسی راوی کا وہم ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کسوف مدینہ منورہ ہی میں ثابت ہے اور محقق قول کے مطابق وہ بھی صرف ایک دفعہ، لہٰذا یہ لفظ لازماً راوی کا وہم ہے۔ واللہ اعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبٰی شرح سنن النسائی: 16؍424، 425، وصحیح سنن النسائی للالبانی، رقم: 1476)
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1478   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.