الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
The Book on Sacrifices
حدیث نمبر: 1518
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا احمد بن منيع , حدثنا روح بن عبادة , حدثنا ابن عون , حدثنا ابو رملة، عن مخنف بن سليم , قال: كنا وقوفا مع النبي صلى الله عليه وسلم بعرفات , فسمعته يقول: " يا ايها الناس , على كل اهل بيت في كل عام اضحية وعتيرة , هل تدرون ما العتيرة؟ هي التي تسمونها الرجبية " , قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب , ولا نعرف هذا الحديث إلا من هذا الوجه من حديث ابن عون.(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ , حَدَّثَنَا أَبُو رَمْلَةَ، عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ , قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ , فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ وَعَتِيرَةٌ , هَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الرَّجَبِيَّةَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ.
مخنف بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں نے آپ کو فرماتے سنا: لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال ایک قربانی اور «عتيرة» ہے، تم لوگ جانتے ہو «عتيرة» کیا ہے؟ «عتيرة» وہ ہے جسے تم لوگ «رجبية» کہتے ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو ابن عون ہی کی سند سے جانتے ہیں۔

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/ الأضاحي 1 (2788)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 1 (4229)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 2 (3125)، (تحفة الأشراف: 11244)، و مسند احمد (4/215) و (5/76) (حسن)»

وضاحت:
۱؎: جو بعد میں منسوخ ہو گیا۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3125)

قال الشيخ زبير على زئي: (1518) إسناده ضعيف / د 2788، ن 4229، جه 3125

   سنن النسائى الصغرى4229مخنف بن سليمعلى أهل بيت في كل عام أضحاة وعتيرة
   جامع الترمذي1518مخنف بن سليمعلى كل أهل بيت في كل عام أضحية وعتيرة هل تدرون ما العتيرة هي التي تسمونها الرجبية
   سنن أبي داود2788مخنف بن سليميا أيها الناس إن على كل أهل بيت في كل عام أضحية وعتيرة أتدرون ما العتيرة هذه التي يقول الناس الرجبية
   سنن ابن ماجه3125مخنف بن سليمعلى كل أهل بيت في كل عام أضحية وعتيرة أتدرون ما العتيرة هي التي يسميها الناس الرجبية

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3125  
´قربانی واجب ہے یا نہیں؟`
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: لوگو! ہر گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی ۱؎ اور ایک «عتیرہ» ہے، تم جانتے ہو کہ «عتیرہ» کیا ہے؟ یہ وہی ہے جسے لوگ «رجبیہ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3125]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کتاب الذبائح کے دوسرے باب میں وارد حدیث میں عتیرہ کی مشروعیت کی نفی کی گئی ہے۔
بعض علماء نے ان دونوں کو اس انداز سے جمع کیا ہے کہ عید کی قربانی واجب ہے۔
اور رجب کی قربانی نفل یعنی (لاعتيرة)
کوئی عتیرہ نہیں کا مطلب یہ ہے کہ عتیرہ واجب نہیں اور زیر مطالعہ حدیث کا مطلب ہوگا کہ عتیرہ مشروع ہے۔
بہت سے علماء نے عتیرہ کو منسوخ قراردیا ہے۔

(2)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہےاور مزید لکھا ہے کہ سنن النسائي اور سنن ابي داؤد کی احادیث اس سے کفایت کرتی ہیں۔ دیکھیے تحقیق و تخریج حدیث ہذا۔
علاوہ ازیں دیگر محققین نے اسے حسن قراردیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بناء پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسندالإمام أحمد: 29/ 419، 420 وصحيح سنن إبي داؤد (مفصل)
للألباني، حديث: 2287)

   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3125   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1518  
´قربانی سے متعلق ایک اور باب۔`
مخنف بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں نے آپ کو فرماتے سنا: لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال ایک قربانی اور «عتيرة» ہے، تم لوگ جانتے ہو «عتيرة» کیا ہے؟ «عتيرة» وہ ہے جسے تم لوگ «رجبية» کہتے ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1518]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1518   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2788  
´قربانی کے وجوب کا بیان۔`
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! (سن لو) ہر سال ہر گھر والے پر قربانی اور «عتیرہ» ہے ۱؎ کیا تم جانتے ہو کہ «عتیرہ» کیا ہے؟ یہ وہی ہے جس کو لوگ «رجبیہ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: «عتیرہ» منسوخ ہے یہ ایک منسوخ حدیث ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2788]
فوائد ومسائل:

اس حدیث سے(عتیرة) کا جواز معلوم ہوتا ہے۔
جب کہ آگے حدیث (2831) سے اس کے جواز کی نفی ہوتی ہے۔
اور یہی بات راحج ہے۔


اس حدیث سے بظاہر قربانی کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔
لیکن دوسرے دلائل سے اس کا استحباب واستنان معلوم ہوتا ہے۔
اس لئے محدثین نے ان سارے دلائل کوسامنے رکھتے ہوئے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔
کہ قربانی سنت موکدہ ہے۔
یعنی ایک اہم اور موکد حکم ہے۔
لیکن فرض نہیں۔
تاہم استطاعت کے باوجود اس سنت موکد ہ سے گریز کسی طرح بھی صحیح نہیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2788   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.