سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
The Book of Fasting
47. بَابُ : الْعِلَّةِ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا قِيلَ ذَلِكَ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي ذَلِكَ
47. باب: حدیث میں محمد بن عبدالرحمٰن پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2260
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرني شعيب بن شعيب بن إسحاق، قال: حدثنا عبد الوهاب بن سعيد، قال: حدثنا شعيب، قال: حدثنا الاوزاعي، قال: حدثني يحيى بن ابي كثير، قال: اخبرني محمد بن عبد الرحمن، قال: اخبرني جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر برجل في ظل شجرة يرش عليه الماء , قال:" ما بال صاحبكم هذا؟" , قالوا: يا رسول الله! صائم , قال:" إنه ليس من البر ان تصوموا في السفر، وعليكم برخصة الله التي رخص لكم فاقبلوها" ,
(مرفوع) أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ يُرَشُّ عَلَيْهِ الْمَاءُ , قَالَ:" مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ هَذَا؟" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَائِمٌ , قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ، وَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا" ,
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک درخت کے سایہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اس پر پانی چھڑکا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہارے اس ساتھی کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ روزہ دار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نیکی و تقویٰ نہیں ہے کہ تم سفر میں روزہ رکھو، اللہ نے جو رخصت تمہیں دی ہے اسے قبول کرو۔

تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

   صحيح البخاري1946جابر بن عبد اللهليس من البر الصوم في السفر
   صحيح مسلم2612جابر بن عبد اللهليس من البر أن تصوموا في السفر
   سنن أبي داود2407جابر بن عبد اللهليس من البر الصيام في السفر
   سنن النسائى الصغرى2264جابر بن عبد اللهليس من البر الصيام في السفر
   سنن النسائى الصغرى2263جابر بن عبد اللهليس من البر الصيام في السفر
   سنن النسائى الصغرى2262جابر بن عبد اللهليس من البر الصيام في السفر عليكم برخصة الله فاقبلوها
   سنن النسائى الصغرى2259جابر بن عبد اللهليس من البر الصيام في السفر
   سنن النسائى الصغرى2260جابر بن عبد اللهليس من البر أن تصوموا في السفر عليكم برخصة الله التي رخص لكم فاقبلوها

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2407  
´سفر میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے اس کے قائلین کی دلیل۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2407]
فوائد ومسائل:
جو شخص سفر میں روزے کی مشقت کا متحمل نہ ہو اور اسے روزے سے اذیت ہوتی ہو، تو اس کے لیے افطار کرنا واجح اور افضل ہے۔
ورنہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے روزہ رکھنا بھی ثابت ہے۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2407   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.