سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: جہاد کے مسائل
Jihad (Kitab Al-Jihad)
1. باب مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَةِ وَسُكْنَى الْبَدْوِ
1. باب: ہجرت کا ذکر اور صحراء و بیابان میں رہائش کا بیان۔
Chapter: What Has Been Reported About Hijrah (Emigration) And Living In The Desert Areas.
حدیث نمبر: 2477
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا مؤمل بن الفضل، حدثنا الوليد يعني ابن مسلم، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن ابي سعيد الخدري: ان اعرابيا سال النبي صلى الله عليه وسلم عن الهجرة، فقال: ويحك إن شان الهجرة شديد فهل لك من إبل؟ قال: نعم، قال:" فهل تؤدي صدقتها؟" قال: نعم، قال:" فاعمل من وراء البحار فإن الله لن يترك من عملك شيئا".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اوپر افسوس ہے! ۱؎ ہجرت کا معاملہ سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کی زکاۃ دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں (دیتے ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا ۲؎۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 36 (1452)، والھبة 35 (2633)، ومناقب الأنصار 45 (3923)، والأدب 95 (6165)، صحیح مسلم/الإمارة 20 (1865)، سنن النسائی/البیعة 11 (4169)، (تحفة الأشراف: 1453، 15542)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/14، 64) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: حدیث میں «ویحک» ‏‏‏‏ (تمہارے اوپر افسوس ہے!) کا لفظ کلمہ ترحم و توجع ہے اور اس شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو کسی ایسی تباہی میں پھنس گیا ہو جس کا وہ مستحق نہ ہو۔
۲؎: مفہوم یہ ہے کہ تمہاری جیسی نیت ہے اس کے مطابق تمہیں ہجرت کا ثواب ملے گا تم خواہ کہیں بھی رہو، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہجرت ان لوگوں پر واجب ہے جو اس کی طاقت رکھتے ہوں۔

Abu Saeed Al Khudri said “A Bedouin asked the Prophet ﷺ about emigration. He replied “Woe to you! The matter of emigration is severe. Have you a Camel? He said, Yes. He asked “Do you pay its zakat? He said, Yes. He said, Then work (anywhere) beyond the seas. Allaah will not reduce anything from (the reward of) your work.
USC-MSA web (English) Reference: Book 14 , Number 2471


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري (6165) صحيح مسلم (1865)

   صحيح البخاري6165سعد بن مالكإن شأن الهجرة شديد فهل لك من إبل قال نعم قال فهل تؤدي صدقتها قال نعم قال فاعمل من وراء البحار فإن الله لن يترك من عملك شيئا
   صحيح البخاري3923سعد بن مالكإن الهجرة شأنها شديد فهل لك من إبل قال نعم قال فتعطي صدقتها قال نعم قال فهل تمنح منها قال نعم قال فتحلبها يوم ورودها قال نعم قال فاعمل من وراء البحار فإن الله لن يترك من عملك شيئا
   صحيح البخاري1452سعد بن مالكإن شأنها شديد فهل لك من إبل تؤدي صدقتها قال نعم قال فاعمل من وراء البحار فإن الله لن يترك من عملك شيئا
   صحيح مسلم4832سعد بن مالكإن شأن الهجرة لشديد فهل لك من إبل قال نعم قال فهل تؤتي صدقتها قال نعم قال فاعمل من وراء البحار فإن الله لن يترك من عملك شيئا
   سنن أبي داود2477سعد بن مالكإن شأن الهجرة شديد فهل لك من إبل قال نعم قال فهل تؤدي صدقتها قال نعم قال فاعمل من وراء البحار فإن الله لن يترك من عملك شيئا
   سنن النسائى الصغرى4169سعد بن مالكإن شأن الهجرة شديد فهل لك من إبل قال نعم قال فهل تؤدي صدقتها قال نعم قال فاعمل من وراء البحار فإن الله لن يترك من عملك شيئا

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2477  
´ہجرت کا ذکر اور صحراء و بیابان میں رہائش کا بیان۔`
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اوپر افسوس ہے! ۱؎ ہجرت کا معاملہ سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کی زکاۃ دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں (دیتے ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا ۲؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2477]
فوائد ومسائل:

 (ھجرة) لغت میں چھوڑدینے کو کہتے ہیں۔
اور اصطلاحا یہ ہے کہ انسان اپنےدین اور ایمان کی حفاظت کی غرض سے دارلکفر۔
دارلفساد۔
اوردارالمعاصی۔
کوچھوڑ کر دارالسلام اور دارالصلاح کی سکونت اختیار کرلے۔
اور ہجرت کی جان یہ ہے کہ انسان اللہ عزوجل کے منع کردہ امور سے باز رہے۔
جیسا کہ حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاری۔
الایمان حدیث 10)


ہجرت کے تقاضے انتہائی شدید ہیں۔
یہ کوئی آسان عمل نہیں ہے۔


(البحار) کا لفظ عربی زبان میں بستیوں اور شہروں پر بھی بولاجاتا ہے۔


اعمال کی بنیاد ایمان اور اخلاص پرہے۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2477   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.