الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: رہن کے احکام و مسائل
The Chapters on Pawning
19. بَابُ : النَّهْيِ عَنْ مَنْعِ فَضْلِ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلأَ
19. باب: ضرورت سے زائد پانی سے روکنا تاکہ وہاں کی گھاس بھی روک لے منع ہے۔
Chapter: The Prohibition Of Withholding Surplus Water From Common Pastureland
حدیث نمبر: 2479
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا عبد الله بن سعيد ، حدثنا عبدة بن سليمان ، عن حارثة ، عن عمرة ، عن عائشة ، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا يمنع فضل الماء ولا يمنع نقع البئر".
(مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَارِثَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ وَلَا يُمْنَعُ نَقْعُ الْبِئْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرورت سے زائد پانی سے اور کنوئیں میں بچے ہوئے پانی سے کسی کو نہ روکا جائے ۱؎۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17886، ومصباح الزجاجة: 872)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/252، 268) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں حارثہ بن أبی الرجال ضعیف ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)

وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ کنویں سے پانی نکالنے میں اپنا نقصان نہیں اور دوسرے کا فائدہ ہے، اور اس سے کنویں کا پانی زیادہ صاف اور عمدہ ہو جاتا ہے اور اس میں اور تازہ پانی بھر آتا ہے، اور بعضوں نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ جو پانی اپنی ضرورت سے زیادہ ہو اس کا بیچنا منع ہے جب کوئی اس کو پینا چاہے یا اپنے جانوروں کو پلانا چاہے لیکن اگر باغ یا درختوں کو سینچنا چاہے تو اس کا بیچنا درست ہے، اور کنویں کا پانی بھی روکنا درست نہیں ہے اس سے جو اس کو پینا چاہے یا اپنے جانوروں کو پلانا چاہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

   سنن ابن ماجه2479عائشة بنت عبد اللهلا يمنع فضل الماء ولا يمنع نقع البئر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2479 کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2479  
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی شخص ایسی جگہ کنواں کھودے جو کسی کی ملکیت نہیں تووہ اس کنویں کا اورایک حد تک اس کے قریب کی زمین کا مالک ہو جاتا ہے تاہم اسے دوسروں کا اس پانی سےاستفادہ کرنے سے منع نہیں کرنا چاہیے۔

(2)
اس زمین کے قریب اگر گھاس وغیرہ اگی ہوئی ہو اور وہاں لوگوں کےجانور چرتے ہوں تو وہ جانور پانی پینے اس کنویں پرآئیں گے اسے ان جانوروں کو پانی پینے سے منع نہیں کرنا چاہیے۔

(3)
جانوروں کو پانی پینے سے روکنے کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس طرح وہ جانور دوسرے مقام پرچریں گے اوریہاں کی گھاس اس کے جانوروں کےکام آئے گی۔
یہ خود غرضی ہے اور مسلمانوں کی مشترک گھاس پرقبضہ کرنے کا حیلہ ہے اس لیے منع ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2479   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.