سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: شکار کے احکام و مسائل
Game (Kitab Al-Said)
2. باب فِي الصَّيْدِ
2. باب: شکار کرنے کا بیان۔
Chapter: Regarding Hunting.
حدیث نمبر: 2857
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن المنهال الضرير، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا حبيب المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان اعرابيا يقال له ابو ثعلبة، قال: يا رسول الله إن لي كلابا مكلبة فافتني في صيدها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" إن كان لك كلاب مكلبة فكل مما امسكن عليك، قال: ذكيا او غير ذكي قال: نعم، قال: فإن اكل منه، قال: وإن اكل منه، فقال: يا رسول الله افتني في قوسي، قال: كل ما ردت عليك قوسك، قال: ذكيا او غير ذكي، قال: وإن تغيب عني، قال: وإن تغيب عنك ما لم يصل او تجد فيه اثرا غير سهمك، قال: افتني في آنية المجوس إن اضطررنا إليها، قال: اغسلها وكل فيها".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كَانَ لَكَ كِلَابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، قَالَ: ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، قَالَ: وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي، قَالَ: كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ، قَالَ: ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ، قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّي، قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ مَا لَمْ يَصِلَّ أَوْ تَجِدَ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ سَهْمِكَ، قَالَ: أَفْتِنِي فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِنِ اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا، قَالَ: اغْسِلْهَا وَكُلْ فِيهَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نامی ایک دیہاتی نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس شکار کے لیے تیار سدھائے ہوئے کتے ہیں، ان کے شکار کے سلسلہ میں مجھے بتائیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں انہیں کھاؤ۔ ابو ثعلبہ نے کہا: خواہ میں ان کو ذبح کر سکوں یا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ ابو ثعلبہ نے کہا: اگرچہ وہ کتے اس جانور میں سے کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ اس جانور میں سے کھا لیں۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے تیر کمان سے شکار کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا تیر کمان جو تمہیں لوٹا دے اسے کھاؤ، خواہ تم اسے ذبح کر پاؤ یا نہ کر پاؤ۔ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ شکار تیر کھا کر میری نظروں سے اوجھل ہو جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگرچہ وہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے جب تک کہ گلے سڑے نہیں، اور تمہارے تیر کے سوا اس کی ہلاکت کا کوئی اور اثر معلوم نہ ہو سکے۔ پھر انہوں نے کہا: مجوسیوں (پارسیوں) کے برتن کے متعلق بتائیے جب کہ ہمیں اس کے سوا دوسرا برتن نہ ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دھو ڈالو اور اس میں کھاؤ۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8671)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصید 16 (4301)، مسند احمد (2/184) (حسن)» ‏‏‏‏ (مگر «وإن اَکَلَ منہ» کا جملہ منکر ہے جو عدی کی حدیث (2854) کے مخالف ہے، اور نسائی کی روایت میں یہ جملہ ہے تو مگر اس میں اس کی جگہ «وإن قتلنَ» ہے جو عدی کی حدیث کے مطابق ہے)

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: There was a bedouin called Abu Thalabah. He said: Messenger of Allah, I have trained dogs, so tell me your opinion about (eating) the animal they hunt. The Prophet ﷺ said: If you have trained dogs, then eat what they catch for you. He asked: Whether it is slaughtered or not? He replied: Yes. He asked: Does it apply even if it eats any of it? He replied: Even if it eats any of it. He again asked: Messenger of Allah, tell me your opinion about my bow (i. e. the game hunted by arrow). He said: Eat what your bow returns to you, whether it is slaughtered or not. He asked: If it goes out of my sight? He replied: Even if it goes out of your sight, provided it has no stench, or you find a mark on it other than the mark of your arrow. He asked: Tell me about the use of the vessels of the Magians when we are forced to use them. He replied: Wash them and eat in them.
USC-MSA web (English) Reference: Book 16 , Number 2851


قال الشيخ الألباني: حسن لكن قوله وإن أكل منه منكر

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

   سنن النسائى الصغرى4301عبد الله بن عمروما أمسك عليك كلابك فكل قلت وإن قتلن قال وإن قتلن ما رد عليك سهمك فكل قال وإن تغيب علي قال وإن تغيب عليك ما لم تجد فيه أثر سهم غير سهمك أو تجده قد صل يعني قد أنتن
   سنن أبي داود2857عبد الله بن عمروإن كان لك كلاب مكلبة فكل مما أمسكن عليك قال ذكيا أو غير ذكي قال نعم قال فإن أكل منه قال وإن أكل منه قال أفتني في قوسي قال كل ما ردت عليك قوسك قال ذكيا أو غير ذكي قال وإن تغيب عني قال وإن تغيب

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2857  
´شکار کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نامی ایک دیہاتی نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس شکار کے لیے تیار سدھائے ہوئے کتے ہیں، ان کے شکار کے سلسلہ میں مجھے بتائیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں انہیں کھاؤ۔‏‏‏‏ ابو ثعلبہ نے کہا: خواہ میں ان کو ذبح کر سکوں یا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔‏‏‏‏ ابو ثعلبہ نے کہا: اگرچہ وہ کتے اس جانور میں سے کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ اس جانور میں سے کھا لیں۔‏‏‏‏ پھر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2857]
فوائد ومسائل:

اس روایت میں یہ بیان کہ خواہ کتا شکا ر سے کھا بھی لے منکر ہے۔
اور اس کی توضیح پیچھے گزر چکی ہے۔


شکار شدہ جانور اگر زندہ ملے تو ذبح کیا جائے۔
اور اگر قتل ہو جائے تو حلال ہے۔


مجوسیوں کے برتن استعمال کرنے پڑیں۔
تو انہیں پہلے دھو لیا جائے۔
یہی حکم ہندوں کا ہے۔
یہودی اورعیسائی طہارت کا اہتمام کرتے ہوں۔
تو بہتر لیکن اگرشبہ ہو کہ خنزیر اور شراب وغیرہ سے احتیاط نہیں کرتے۔
تو ان کے برتن بھی استعمال کرنے سے پہلے دھونے ضروری ہیں۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2857   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.