سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: تفسیر قرآن کریم
Chapters on Tafsir
71. باب وَمِنْ سُورَةِ الْقِيَامَةِ
71. باب: سورۃ القیامہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3330
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا عبد بن حميد، قال: حدثني شبابة، عن إسرائيل، عن ثوير، قال: سمعت ابن عمر، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن ادنى اهل الجنة منزلة لمن ينظر إلى جنانه وازواجه وخدمه وسرره مسيرة الف سنة، واكرمهم على الله عز وجل من ينظر إلى وجهه غدوة وعشية، ثم قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم: وجوه يومئذ ناضرة {22} إلى ربها ناظرة {23} سورة القيامة آية 22-23 ". قال ابو عيسى: هذا حديث غريب، قد رواه غير واحد، عن إسرائيل مثل هذا مرفوعا، وروى عبد الملك بن ابجر، عن ثوير، عن ابن عمر قوله ولم يرفعه.(مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَبَابَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَمَنْ يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ، وَأَكْرَمُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ {22} إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ {23} سورة القيامة آية 22-23 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ مِثْلَ هَذَا مَرْفُوعًا، وَرَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَوْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
ثویر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتیوں میں کمتر درجے کا جنتی وہ ہو گا جو جنت میں اپنے باغوں کو، اپنی بیویوں کو، اپنے خدمت گزاروں کو، اور اپنے (سجے سجائے) تختوں (مسہریوں) کو ایک ہزار سال کی مسافت کی دوری سے دیکھے گا، اور ان میں اللہ عزوجل کے یہاں بڑے عزت و کرامت والا شخص وہ ہو گا جو صبح و شام اللہ کا دیدار کرے گا، پھر آپ نے آیت «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (القیامۃ: ۲۳)، پڑھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے اور کئی راویوں نے یہ حدیث اسی طرح اسرائیل سے مرفوعاً (ہی) روایت کی ہے،
۲- عبدالملک بن ابجر نے ثویر سے، ثویر نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، اور اسے ابن عمر رضی الله عنہما کے قول سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6666) (ضعیف) (سند میں ثویر ضعیف اور رافضی ہے)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (1985) // ضعيف الجامع الصغير (1382) //

قال الشيخ زبير على زئي: (3330) إسناده ضعيف / تقدم:2553

   جامع الترمذي3330عبد الله بن عمرأدنى أهل الجنة منزلة لمن ينظر إلى جنانه وأزواجه وخدمه وسرره مسيرة ألف سنة وأكرمهم على الله من ينظر إلى وجهه غدوة وعشية ثم قرأ رسول الله وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة
   جامع الترمذي2553عبد الله بن عمرأدنى أهل الجنة منزلة لمن ينظر إلى جنانه وأزواجه ونعيمه وخدمه وسرره مسيرة ألف سنة وأكرمهم على الله من ينظر إلى وجهه غدوة وعشية ثم قرأ رسول الله وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3330  
´سورۃ القیامہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ثویر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتیوں میں کمتر درجے کا جنتی وہ ہو گا جو جنت میں اپنے باغوں کو، اپنی بیویوں کو، اپنے خدمت گزاروں کو، اور اپنے (سجے سجائے) تختوں (مسہریوں) کو ایک ہزار سال کی مسافت کی دوری سے دیکھے گا، اور ان میں اللہ عزوجل کے یہاں بڑے عزت و کرامت والا شخص وہ ہو گا جو صبح و شام اللہ کا دیدار کرے گا، پھر آپ نے آیت «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (القیامۃ: ۲۳)، پڑھی۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3330]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے،
اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (القیامة: 23)

نوٹ:
(سند میں ثویر ضعیف اور رافضی ہے)-
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3330   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2553  
´رویت باری تعالیٰ سے متعلق ایک اور باب۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے کم تر درجے کا جنتی وہ ہو گا جو اپنے باغات، بیویوں، نعمتوں، خادموں اور تختوں کی طرف دیکھے گا جو ایک ہزار سال کی مسافت پر مشتمل ہوں گے، اور اللہ کے پاس سب سے مکرم وہ ہو گا جو اللہ کے چہرے کی طرف صبح و شام دیکھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» اس دن بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (القیامۃ: ۲۲، ۲۳)۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2553]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس دن بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے،
اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔
(القیامۃ: 22، 23)
نوٹ:
(سند میں ثویر ضعیف اور رافضی راوی ہے)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2553   
حدیث نمبر: 3330M
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) وروى الاشجعي، عن سفيان، عن ثوير عن مجاهد عن ابن عمر قوله ولم يرفعه، ولا نعلم احدا ذكر فيه، عن مجاهد غير الثوري، حدثنا بذلك ابو كريب، حدثنا عبيد الله الاشجعي، عن سفيان، وثوير يكنى ابا جهم، وابو فاختة اسمه سعيد بن علاقة.(مرفوع) وَرَوَى الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثُوَيْرٍ عَنْ مُجَاهِد عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَوْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَ فِيهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ غَيْرَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَثُوَيْرٌ يكنى أبا جهم، وأبو فاختة اسمه سعيد بن علاقة.
اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے ثویر سے، ثویر نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، اور ان کے قول سے روایت کی ہے اور اسے انہوں نے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے، اور میں ثوری کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند میں مجاہد کا نام لیا ہو،
۴- اسے ہم سے بیان کیا ابوکریب نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا عبیداللہ اشجعی نے اور عبیداللہ اشجعی نے روایت کی سفیان سے، ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (ضعیف)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (1985) // ضعيف الجامع الصغير (1382) //


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.