الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: مشروبات کے متعلق احکام و مسائل
Chapters on Drinks
12. بَابُ : صِفَةِ النَّبِيذِ وَشُرْبِهِ
12. باب: نبیذ بنانے اور پینے کا بیان۔
Chapter: Description of Nabidh and how it is drunk
حدیث نمبر: 3399
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا ابو كريب , عن إسماعيل بن صبيح , عن ابي إسرائيل , عن ابي عمر البهراني , عن ابن عباس , قال:" كان ينبذ لرسول الله صلى الله عليه وسلم , فيشربه يومه ذلك والغد واليوم الثالث , فإن بقي منه شيء اهراقه , او امر به فاهريق".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ صَبِيحٍ , عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي عُمَرَ الْبَهْرَانِيِّ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَالْغَدَ وَالْيَوْمَ الثَّالِثَ , فَإِنْ بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ أَهْرَاقَهُ , أَوْ أَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اسے اسی دن پیتے، پھر اگلے دن، پھر تیسرے دن، اور اگر اس کے بعد بھی اس میں سے کچھ بچ جاتا تو اسے بہا دیتے یا کسی کو حکم دیتے تو وہ بہا دیتا۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 9 (2004)، سنن ابی داود/الأشربة 10 (3713)، سنن النسائی/الأشربة 55 (5740)، (تحفة الأشراف: 6548)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 240، 287، 355) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: نبیذ یعنی انگور، کھجور یا کسی پھل کا شربت پینا صحیح ہے، بشرطیکہ اس میں جوش پیدا نہ ہوا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے جو آگے آئے گی کہ نبیذ میں جو ش آ گیا تھا، تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کو دیوار پر مار، یہ تو وہ پیئے گا جو اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھتا ہو (ابوداود، اور نسائی)، اور مسند احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیذ کو پیو جب تک شیطان اس کو نہ لے لے، کہا گیا: کتنے دن میں اس کو شیطان لیتا ہے؟ کہا: تین دن میں۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ)

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

   صحيح مسلم5230عبد الله بن عباسأمر بسقاء فجعل فيه زبيب وماء فجعل من الليل فأصبح فشرب منه يومه ذلك وليلته المستقبلة من الغد حتى أمسى فشرب وسقى فلما أصبح أمر بما بقي منه فأهريق
   صحيح مسلم5226عبد الله بن عباسينتبذ له أول الليل فيشربه إذا أصبح يومه ذلك والليلة التي تجيء والغد والليلة الأخرى الغد إلى العصر فإن بقي شيء سقاه الخادم أو أمر به فصب
   صحيح مسلم5227عبد الله بن عباسينتبذ له في سقاء من ليلة الاثنين فيشربه يوم الاثنين الثلاثاء إلى العصر فإن فضل منه شيء سقاه الخادم أو صبه
   صحيح مسلم5228عبد الله بن عباسينقع له الزبيب فيشربه اليوم والغد بعد الغد إلى مساء الثالثة ثم يأمر به فيسقى أو يهراق
   صحيح مسلم5229عبد الله بن عباسينبذ له الزبيب في السقاء فيشربه يومه والغد بعد الغد فإذا كان مساء الثالثة شربه وسقاه فإن فضل شيء أهراقه
   سنن أبي داود3713عبد الله بن عباسينبذ للنبي الزبيب فيشربه اليوم والغد بعد الغد إلى مساء الثالثة ثم يأمر به فيسقى الخدم أو يهراق
   سنن ابن ماجه3399عبد الله بن عباسينبذ لرسول الله فيشربه يومه ذلك والغد اليوم الثالث فإن بقي منه شيء أهراقه أو أمر به فأهريق
   سنن النسائى الصغرى5740عبد الله بن عباسينبذ لرسول الله فيشربه من الغد ومن بعد الغد إذا كان مساء الثالثة فإن بقي في الإناء شيء لم يشربوه أهريق
   سنن النسائى الصغرى5741عبد الله بن عباسينقع له الزبيب فيشربه يومه والغد وبعد الغد
   سنن النسائى الصغرى5743عبد الله بن عباسينبذ له نبيذ الزبيب من الليل فيجعله في سقاء فيشربه يومه ذلك والغد بعد الغد فإذا كان من آخر الثالثة سقاه أو شربه فإن أصبح منه شيء أهراقه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3399 کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3399  
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
سردی کےموسم میں جلدی نشہ پیدا نہیں ہوتا اس لئے اگر کھجوریں وغیرہ مناسب مقدار میں ڈالی گئی ہوں تو نبیذ دو تین دن تک بھی قابل استعمال رہتی ہے۔
تاہم جب یہ محسوس ہوکہ اب اس میں کچھ نشہ آگیا ہوگا تو اسے پھینک دینا چاہیے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3399   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5740  
´کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تھی، آپ اسے دوسرے دن اور تیسرے دن پیتے ۱؎، جب تیسرے دن کی شام ہوتی اور اگر اس میں سے کچھ برتن میں بچ گئی ہوتی تو اسے نہیں پیتے بلکہ بہا دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5740]
اردو حاشہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ایک دن رات کا ذکر ہے۔ ممکن ہے کہ گرمی کے موسم میں جب اس کے نشہ آور ہونے کا خطرہ ہوتا تھا تو صرف ایک دن رات پر اکتفا فرماتے ہوں گےاور سردیوں وغیرہ میں دودن یا تین دن تک پی لیتے ہوں گے نیز یہ نبیذ چمڑے کے مشکیزے میں بنایا جاتا تھا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں صراحت ہے اس لیے زیادہ دیر سے رہنے سے بھی نشے کا خطرہ نہیں ہوتا تھا بلکہ زیادہ سے زیادہ وہ ترش ہوسکتا تھا لہٰذا دونوں روایات درست ہیں۔ مقصود نشے سے بچاؤ ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5740   

  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5741  
´کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش بھگوئی جاتی تھی، آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور تیسرے دن تک پیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5741]
اردو حاشہ:
پی لیا کرتے تھے بشرطیکہ نشے کا خطرہ پیدا نہ ہو۔ جب نشے کا خطرہ ہوتا تو اسے بہا دیتے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5741   

  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5743  
´کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے لیے مشکیزے میں کشمش صبح کو بھگوئی جاتی، پھر وہ اسے رات کو پیتے اور شام کو بھگوئی جاتی تو صبح کو پیتے، اور وہ مشکیزے کو دھو لیتے تھے، اور معمولی سا تل چھٹ وغیرہ نہیں رہنے دیتے۔ نافع کہتے ہیں: ہم اسے شہد کی طرح پیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5743]
اردو حاشہ:
(1) "تلچھٹ وغیرہ یعنی سابقہ نبیذ کے میل کچیل کو دھو ڈالتے تھے اور نئی نبیذ میں اسے شامل نہیں کرتے تھے کیونکہ اس میں زیادہ دیر پڑے رہنے کی وجہ سے نشے کا امکان ہوسکتا تھا جبکہ نشہ پسند افراد تو خصوصاً اسے شامل رکھتے ہیں تاکہ اچھی طرح تیزی آئے۔
(2) شہد جیسی یعنی خالص میٹھی ہوتی تھی۔ اس میں کوئی ترشی نہیں ہوتی تھی۔ ظاہر ہے ایک رات یا ایک دن میں ترشی پیدا ہونے کا امکان ہی نہیں ہوتا اگرچہ مطلق ترشی نبیذ کو حرام نہیں کرتی جب نشہ نہ ہو آخر سرکہ بھی و ترش ہی ہوتا ہے۔ اور وہ بالاتفاق حلال و جائز ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5743   

  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3713  
´نبیذ کا وصف کہ وہ کب تک پی جائے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3713]
فوائد ومسائل:
فائدہ: نبیذ سردیوں میں تین دن تک اور گرمیوں میں صرف ایک دن تک قابل استعمال ہوتی ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3713   

  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5226  
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کے آغاز میں پانی میں کھجوریں ڈالی جاتیں، جب صبح ہوتی، آپ اس کو پی لیتے، دن بھر پیتے، بعد والی رات پیتے، اگلا دن پیتے، اگلی رات پیتے، اس سے اگلا دن عصر تک پیتے، اگر کچھ بچ جاتا، اسے خادم کو پلا دیتے، یا اس کو انڈیل دینے کا حکم دے دیتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5226]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
دو،
تین دن تک پانی میں بھگوئی ہوئی کھجوروں یا منقہ سے نشہ پیدا نہیں ہوتا،
اس لیے جب تک نشہ کا خطرہ نہ ہوتا آپ اسے پیتے رہتے،
جب نشہ کا احتمال پیدا ہو جاتا تو ابتدا میں آپ اسے خادم کو پلا دیتے،
لیکن اگر نشہ کا کوئی اثر معلوم ہوتا تو گرانے کا حکم دے دیتے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5226   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.