سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
Chapters on Supplication
25. باب مِنْهُ
25. باب: سوتے وقت ذکرو تسبیح سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 3410
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا احمد بن منيع، حدثنا إسماعيل ابن علية، حدثنا عطاء بن السائب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " خلتان لا يحصيهما رجل مسلم إلا دخل الجنة الا وهما يسير، ومن يعمل بهما قليل: يسبح الله في دبر كل صلاة عشرا، ويحمده عشرا، ويكبره عشرا "، قال: فانا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقدها بيده، قال: " فتلك خمسون ومائة باللسان والف وخمس مائة في الميزان، وإذا اخذت مضجعك تسبحه وتكبره وتحمده مائة، فتلك مائة باللسان والف في الميزان، فايكم يعمل في اليوم والليلة الفين وخمس مائة سيئة "، قالوا: فكيف لا يحصيها؟ قال: " ياتي احدكم الشيطان وهو في صلاته، فيقول: اذكر كذا اذكر كذا حتى ينفتل، فلعله لا ان يفعل، وياتيه وهو في مضجعه فلا يزال ينومه حتى ينام ". قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح، وقد روى شعبة، والثوري، عن عطاء بن السائب هذا الحديث، وروى الاعمش هذا الحديث عن عطاء بن السائب مختصرا، وفي الباب، عن زيد بن ثابت، وانس، وابن عباس رضي الله عنه.(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَلَا وَهُمَا يَسِيرٌ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ: يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا "، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، قَالَ: " فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ تُسَبِّحُهُ وَتُكَبِّرُهُ وَتَحْمَدُهُ مِائَةً، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ "، قَالُوا: فَكَيْفَ لَا يُحْصِيهَا؟ قَالَ: " يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ، فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتَّى يَنْفَتِلَ، فَلَعَلَّهُ لَا أَنْ يَفْعَلُ، وَيَأْتِيهِ وَهُوَ فِي مَضْجَعِهِ فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى الْأَعْمَشُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ مُخْتَصَرًا، وَفِي الْبَابِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عادتیں ایسی ہیں جنہیں جو بھی مسلمان پابندی اور پختگی سے اپنائے رہے گا وہ جنت میں جائے گا، دھیان سے سن لو، دونوں آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں، ہر نماز کے بعد دس بار اللہ کی تسبیح کرے (سبحان اللہ کہے) دس بار حمد بیان کرے (الحمدللہ کہے) اور دس بار اللہ کی بڑائی بیان کرے (اللہ اکبر کہے)۔ عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنی انگلیوں پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ نے فرمایا: یہ تو زبان سے گننے میں ڈیڑھ سو ۱؎ ہوئے لیکن یہ (دس گنا بڑھ کر) میزان میں ڈیڑھ ہزار ہو جائیں گے۔ (یہ ایک خصلت و عادت ہوئی) اور (دوسری خصلت و عادت یہ ہے کہ) جب تم بستر پر سونے جاؤ تو سو بار سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ کہو، یہ زبان سے کہنے میں تو سو ہیں لیکن میزان میں ہزار ہیں، (اب بتاؤ) کون ہے تم میں جو دن و رات ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہو؟ لوگوں نے کہا: ہم اسے ہمیشہ اور پابندی کے ساتھ کیوں نہیں کر سکیں گے؟ آپ نے فرمایا: (اس وجہ سے) کہ تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: فلاں بات کو یاد کرو، فلاں چیز کو سوچ لو، یہاں تک کہ وہ اس کی توجہ اصل کام سے ہٹا دیتا ہے، تاکہ وہ اسے نہ کر سکے، ایسے ہی آدمی اپنے بستر پر ہوتا ہے اور شیطان آ کر اسے (تھپکیاں دیدے کر) سلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ (بغیر تسبیحات پڑھے) سو جاتا ہے ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- شعبہ اور ثوری نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے۔ اور اعمش نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے اختصار کے ساتھ روایت کی ہے،
۳- اس باب میں زید بن ثابت، انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/ الأدب 109 (5065)، سنن النسائی/السھو 91 (1349)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 32 (926) (تحفة الأشراف: 8638)، و مسند احمد (2/160، 205) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: ہر نماز کے بعد دس مرتبہ اگر انہیں پڑھا جائے تو ان کی مجموعی تعداد ڈیڑھ سو ہوتی ہے۔
۲؎: یہی وجہ ہے کہ یہ دو مستقل عادتیں و خصلتیں رکھنے والے لوگ تھوڑے ہیں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (926)

   سنن النسائى الصغرى1349عبد الله بن عمروخلتان لا يحصيهما رجل مسلم إلا دخل الجنة وهما يسير ومن يعمل بهما قليل قال قال رسول الله الصلوات الخمس يسبح أحدكم في دبر كل صلاة عشرا ويحمد عشرا ويكبر عشرا فهي خمسون ومائة في اللسان وألف وخمس مائة في الميزان وأنا رأيت رسول الله صلى الله
   جامع الترمذي3410عبد الله بن عمروخلتان لا يحصيهما رجل مسلم إلا دخل الجنة ألا وهما يسير ومن يعمل بهما قليل يسبح الله في دبر كل صلاة عشرا ويحمده عشرا ويكبره عشرا قال فأنا رأيت رسول الله يعقدها بيده قال فتلك خمسون ومائة باللسان وألف وخمس مائة في الميزان وإذا أخذت مضجعك
   سنن ابن ماجه926عبد الله بن عمروخصلتان لا يحصيهما رجل مسلم إلا دخل الجنة وهما يسير ومن يعمل بهما قليل يسبح الله في دبر كل صلاة عشرا ويكبر عشرا ويحمد عشرا فرأيت رسول الله يعقدها بيده فذلك خمسون ومائة باللسان وألف وخمس مائة في الميزان وإذا أوى إلى فراشه سبح وحمد وكبر م
   سنن أبي داود5065عبد الله بن عمرويسبح في دبر كل صلاة عشرا ويحمد عشرا ويكبر عشرا فذلك خمسون ومائة باللسان وألف وخمس مائة في الميزان يكبر أربعا وثلاثين إذا أخذ مضجعه ويحمد ثلاثا وثلاثين ويسبح ثلاثا وثلاثين فذلك مائة باللسان وألف في الميزان فلقد رأيت رسول الله يعقدها

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ نديم ظهير حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ترمذي 3410  
´ہر نماز کے بعد تسبیح دس دس مرتبہ `
«...خَلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَلَا وَهُمَا يَسِيرٌ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ: يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا "، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ...»
۔۔۔ دو عادتیں ایسی ہیں جنہیں جو بھی مسلمان پابندی اور پختگی سے اپنائے رہے گا وہ جنت میں جائے گا، دھیان سے سن لو، دونوں آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں، ہر نماز کے بعد دس بار اللہ کی تسبیح کرے (سبحان اللہ کہے) دس بار حمد بیان کرے (الحمدللہ کہے) اور دس بار اللہ کی بڑائی بیان کرے (اللہ اکبر کہے)۔ عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنی انگلیوں پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔۔۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 3410]

فوائد:
اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے کس قدر محبت کرتا ہے کہ قلیل عمل پر اجر کثیر سے نوازتا ہے۔ لیکن افسوس! کہ بندہ ایسا تھوڑا عمل بھی کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ دوسرا یہ کہ موتیوں یا مالا وغیرہ پر اعداد ذکر کر کے بجائے ہاتھوں کی انگلیوں پر ہی گننا چاہئیے یہی صحیح اور سنت طریقہ ہے۔
   ماہنامہ الحدیث حضرو ، شمارہ 24، حدیث\صفحہ نمبر: 6   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث926  
´سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتوں پر اگر مسلمان بندہ مداومت کرے تو جنت میں داخل ہو گا، وہ دونوں سہل آداب ہیں، لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں، (ایک یہ کہ) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله»، دس بار «الله أكبر» اور دس بار «الحمد لله» کہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی انگلیوں پر شمار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پڑھنے میں ایک سو پچاس ہیں اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو۔‏‏‏‏ (دوسرے یہ کہ) جب وہ اپنی خواب گاہ پر جائے تو سو مرتبہ «سبحان الله۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 926]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نیکی کے کام کے بارے میں کوشش ہونی چاہیے۔
کہ اسے ہمیشہ کیا جائے۔
کیونکہ ہمیشہ کیا جانے والا تھوڑا سا عمل مجموعی طور پر بہت زیادہ ہوجاتا ہے۔
لیکن کبھی کبھار کیا جانے والا زیادہ عمل اس سے کم رہ جاتا ہے۔

(2)
شیطان ہر نیکی سے روکنے کےلئے ہر حربہ استعمال کرتا ہے۔
بندے کو چاہیے کہ اس کی شرارتوں سے ہوشیار رہے تاکہ وہ دھوکا دینے میں کامیاب نہ ہوجائے۔

(3)
فرض نمازوں کے بعد (سبحان اللہ۔
الحمد للہ۔
اللہ اکبر)

 دس دس بار بھی کہنا درست ہے اور تینتیس تینتیس بار کہنا بھی، جیسے کہ اگلی حدیث میں آرہا ہے۔

(4)
ایک نیکی کا ثواب دس گنا ملنے کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔
ارشاد ہے۔
﴿مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾  (الانعام: 160)
جوشخص نیکی کا کام کرےگا۔
اس کو دس گنا ثواب ملے گا۔

(5)
آسانی سے انجام دیے جانے والے نیک کام کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کردینا چاہیے۔
بعض بظاہر معمولی کام حقیقت میں بڑے اجر وثواب کا باعث ہوتے ہیں۔

(6)
سنت سے ثابت چھوٹی چھوٹی دعایئں۔
اور اذکار لمبے لمبے غیر مسنون اور اُردو وظائف سے بہتر ہیں۔

(7)
یہ ایک سو پچاس کلمات ہیں۔
کامطلب یہ ہے کہ تیس کلمات جب پانچ فرض نمازوں کے بعد کہے جائیں گے۔
تو ایک سو پچاس مجموعہ ہوگا۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 926   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3410  
´سوتے وقت ذکرو تسبیح سے متعلق ایک اور باب۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عادتیں ایسی ہیں جنہیں جو بھی مسلمان پابندی اور پختگی سے اپنائے رہے گا وہ جنت میں جائے گا، دھیان سے سن لو، دونوں آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں، ہر نماز کے بعد دس بار اللہ کی تسبیح کرے (سبحان اللہ کہے) دس بار حمد بیان کرے (الحمدللہ کہے) اور دس بار اللہ کی بڑائی بیان کرے (اللہ اکبر کہے)۔ عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنی انگلیوں پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ نے فرمایا: یہ تو زب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3410]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ہر صلاۃ کے بعد دس مرتبہ اگر انہیں پڑھا جائے تو ان کی مجموعی تعداد ڈیڑھ سو ہوتی ہے۔

2؎:
یہی وجہ ہے کہ یہ دو مستقل عادتیں وخصلتیں رکھنے والے لوگ تھوڑے ہیں۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3410   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5065  
´سوتے وقت تسبیح پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں جو کوئی مسلم بندہ پابندی سے انہیں (برابر) کرتا رہے گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں (۱) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله» اور دس بار «الحمد الله» اور دس بار «الله اكبر» کہنا، اس طرح یہ زبان سے دن اور رات میں ایک سو پچاس بار ہوئے، اور قیامت میں میزان میں ایک ہزار پانچ سو بار ہوں گے، (کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے) اور سونے کے وقت چونتیس بار «الله اكبر»، تینتیس بار «الحم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5065]
فوائد ومسائل:
ہر نیکی اور خیر اللہ عزوجل کی طرف منسوب ہوتی ہے۔
اور انسان اس پر اس کی توفیق ہی سے عمل پیرا ہوسکتا ہے۔
اور ہر بُرائی اور شر میں شیطان کا عمل دخل ہوتا ہے۔
اور نیکی سے محروم رہ جانا بہت بڑا عیب اور وبال ہے۔
اس لئے دعا کرتے رہنا چاہیے۔
کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ نیکی کی توفیق عنایت فرماتا رہے۔
مثلا یہ دعا کرے۔
(رب أَعنِّي علی ذكرِكَ وشكرِكَ و حسنِ عبادتِكَ)
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 5065   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.