الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: علاج کے احکام و مسائل
Medicine (Kitab Al-Tibb)
19. باب كَيْفَ الرُّقَى
19. باب: جھاڑ پھونک کیسے ہو؟
Chapter: How Ruqyah is to be used.
حدیث نمبر: 3901
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي. ح وحدثنا ابن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، قال: حدثنا شعبة، عن عبد الله بن ابي السفر، عن الشعبي، عن خارجة بن الصلت التميمي، عن عمه، قال:" اقبلنا من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاتينا على حي من العرب، فقالوا: إنا انبئنا انكم جئتم من عند هذا الرجل بخير، فهل عندكم من دواء او رقية فإن عندنا معتوها في القيود؟، قال: فقلنا: نعم، قال: فجاءوا بمعتوه في القيود، قال: فقرات عليه فاتحة الكتاب ثلاثة ايام غدوة وعشية كلما ختمتها اجمع بزاقي، ثم اتفل فكانما نشط من عقال، قال: فاعطوني جعلا، فقلت: لا حتى اسال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: كل فلعمري من اكل برقية باطل لقد اكلت برقية حق".
(مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ:" أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا عَلَى حَيٍّ مِنْ الْعَرَبِ، فَقَالُوا: إِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ، فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رُقْيَةٍ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُودِ؟، قَالَ: فَقُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَجَاءُوا بِمَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمْتُهَا أَجْمَعُ بُزَاقِي، ثُمَّ أَتْفُلُ فَكَأَنَّمَا نَشَطَ مِنْ عِقَالٍ، قَالَ: فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا، فَقُلْتُ: لَا حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُلْ فَلَعَمْرِي مَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ".
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے اور عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے تو وہ لوگ کہنے لگے: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اس شخص کے پاس سے آ رہے ہیں جو خیر و بھلائی لے کر آیا ہے تو کیا آپ کے پاس کوئی دوا یا منتر ہے؟ کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ ہے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، ہم نے کہا: ہاں، تو وہ اس پاگل کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا لے کر آئے، میں اس پر تین دن تک سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرتا رہا، وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی قید سے چھوٹ گیا ہو، پھر انہوں نے مجھے اس کی اجرت دی، میں نے کہا: میں نہیں لوں گا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: کھاؤ، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو جھوٹا منتر کر کے کھاتے ہیں تم نے تو جائز منتر کر کے کھایا ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم:(3420)، (تحفة الأشراف: 11011) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Alaqah ibn Sahar at-Tamimi: We proceeded from the Messenger of Allah ﷺ and came to a clan of the Arabs. They said: We have been told that you have brought what is good from this man. Have you any medicine or a charm, for we have a lunatic in chains? We said: Yes. Then they brought a lunatic in chains. He said: I recited Surat al-Fatihah over him for three days, morning and evening. Whenever I finished it, I would collect my saliva and spit it out, and he seemed as if he were set free from a bond. He said: They gave me some payment, but I said: No, not until I ask the Messenger of Allah ﷺ. He (the Prophet) said: Accept it, for, by my life, some accept it for a worthless charm, but you have done so for a genuine one.
USC-MSA web (English) Reference: Book 28 , Number 3892


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: حسن
انظر الحديث السابق (3420)

   سنن أبي داود3420علاقة بن صحاركل فلعمري لمن أكل برقية باطل لقد أكلت برقية حق
   سنن أبي داود3896علاقة بن صحارمر على قوم عندهم رجل مجنون موثق بالحديد فقال أهله إنا حدثنا أن صاحبكم هذا قد جاء بخير فهل عندك شيء تداويه فرقيته بفاتحة الكتاب فبرأ فأعطوني مائة شاة فأتيت رسول الله فأخبرته فقال هل إلا هذا
   سنن أبي داود3901علاقة بن صحاركل فلعمري من أكل برقية باطل لقد أكلت برقية حق

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ ابويحييٰ نورپوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 3896  
´دم پر اجرت لینے کا جواز`
«. . . فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: هَلْ إِلَّا هَذَا"، وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: هَلْ قُلْتَ غَيْرَ هَذَا؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: خُذْهَا فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ، لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ . . .»
. . . میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے لو، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو ناجائز جھاڑ پھونک کی روٹی کھاتے ہیں اور تم نے تو جائز جھاڑ پھونک پر کھایا ہے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ: 3896]

فقہ الحدیث:
اس حدیث کو امام ابن حبان [6110] نے صحیح جبکہ امام حاکم [159/1-160] اور حافظ نووی [الاذکار:1/ 355] رحمہما اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
➊ مشہور فقیہ و محدث، امام ابوداود، سلیمان بن اشعث، سبحتانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو «كتاب البيوع» خرید و فروخت کی کتاب اور «ابواب الاجارة» اجرتوں کے بیانات میں ذکر کر کے اس پر یوں باب قائم کیا ہے:
«باب فى كسب الأطباء.» طبیبوں کی کمائی کا بیان۔

➋ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ان الفاظ میں باب قائم کیا ہے:
«ذكر إباحة أخذ الراقي الأجرة علي رقيته.»
دم کرنے والے کے لیے اپنے دم پر اجرت لینے کے جواز کا بیان۔ [صحيح ابن حبان:474/13، موسسة الرسالة، بيروت،1988ء]

➌ حافظ، محمد بن عبدالواحد، ضیاءالدین، مقدسی رحمہ اللہ نے بھی اسے «كتاب البيوع» (خریدوفروخت کا بیان) ہی میں ذکر کیا ہے اور ان کا باب یہ ہے:
«باب أجر الراقي.» دم کرنے والے کی اجرت کا بیان۔ [السنن والأحکام عن المصطفٰی علیہ أفضل الصلاة و السلام: 470/4، دار ماجد العسيري، المملكة العربية السعودية،2004ء]

➍ مشہور حنفی، علامہ، ابو محمد، محمود بن احمد، عینی (762-855ھ) دینی امور پر اجرت كے مخالف ہونے کے باوجود، اس حدیث کو ذکر کر کے لکھتے ہیں:
«ويستنبط منه أحكام، جواز أخذ الأجرة علی القرآن.»
اس حدیث سے کئی مسائل کا استنباط ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ قرآن کریم پر اجرت لینا جائز ہے۔ [نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الأثار:357/16، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامیة، قطر، 2008ء]
   ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 79، حدیث\صفحہ نمبر: 28   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3420  
´طبیب اور معالج کی کمائی کا بیان۔`
خارجہ بن صلت کے چچا علاقہ بن صحار تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ آدمی (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس سے بھلائی لے کر آئے ہیں، تو ہمارے اس آدمی کو ذرا جھاڑ پھونک دیں، پھر وہ لوگ رسیوں میں بندھے ہوئے ایک پاگل لے کر آئے، تو انہوں نے اس پر تین دن تک صبح و شام سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، جب وہ اسے ختم کرتے تو (منہ میں) تھوک جمع کرتے پھر تھو تھو کرتے، پھر وہ شخص ایسا ہو گیا، گویا اس کی گرہیں کھل گئیں، ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3420]
فوائد ومسائل:

(طبابت) علاج معالجہ ایک مشروع اور جائز فن اور حلال کسب ہے۔
اس میں قرآن کے ذریعے سے دم کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔


فاتحہ اور دیگرآیات قرآنی کو بطور علاج دم کرنا کرانا جائز ہے۔
اور جسم پر پھونک مارنا جب کہ اس میں لعاب کی آمیزش ہومباح ہے۔


اس پر ملنے والا معاوضہ بھی حلال اور طیب ہے۔
مگر محض (طب روحانی ہی کو) کسب بنالینا سلف سے ثابت نہیں۔


صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اپنے رزق کے معاملے میں انتہائی محتاط ہوا کرتے تھے۔
اور یہی چیز ہر مسلمان کے لئے لازم ہے کہ رزق حلال کھائے۔


رسول اللہ ﷺ کا اپنی عمر کی قسم کھانا آپﷺ ہی کے ساتھ خاص ہے۔
آپ ﷺ نے اس طرح اپنی عمر کی قسم کھائی جس طرح قرآن مجید میں ہے۔
(لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ) (الحجر:72) آپ کی عمر کی قسم وہ تو اپنی بد مستی میں سرگرداں ہیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3420   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.