الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل
The Book of Muharibin, Qasas (Retaliation), and Diyat (Blood Money)
10. باب صِحَّةِ الإِقْرَارِ بِالْقَتْلِ وَتَمْكِينِ وَلِيِّ الْقَتِيلِ مِنَ الْقِصَاصِ وَاسْتِحْبَابِ طَلَبِ الْعَفْوِ مِنْهُ:
10. باب: قتل کا اقرار صحیح ہے اور قاتل کو مقتول کے ولی کے حوالہ کر دیں گے اور اس سے معافی کی درخواست کرنا مستحب ہے۔
Chapter: A confession to murder is valid and the heir of the victim is entitled to Qisas, but it is recommended to ask him to let him go
حدیث نمبر: 4388
Save to word اعراب
وحدثني محمد بن حاتم ، حدثنا سعيد بن سليمان ، حدثنا هشيم ، اخبرنا إسماعيل بن سالم ، عن علقمة بن وائل ، عن ابيه ، قال: " اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم برجل قتل رجلا، فاقاد ولي المقتول منه، فانطلق به، وفي عنقه نسعة يجرها، فلما ادبر، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: القاتل والمقتول في النار "، فاتى رجل الرجل، فقال له: مقالة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخلى عنه، قال إسماعيل بن سالم: فذكرت ذلك لحبيب بن ابي ثابت، فقال: حدثني ابن اشوع ان النبي صلى الله عليه وسلم إنما ساله ان يعفو عنه فابى.وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا، فَأَقَادَ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ مِنْهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ، وَفِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ يَجُرُّهَا، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ "، فَأَتَى رَجُلٌ الرَّجُلَ، فَقَالَ لَهُ: مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَلَّى عَنْهُ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ فَأَبَى.
اسماعیل بن سالم نے علقمہ بن وائل سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے کسی شخص کو قتل کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی کو اس سے قصاص لینے کا حق دیا، وہ اسے لے کر چلا جبکہ اس کی گردن میں چمڑے کا ایک مینڈھی نما رسہ تھا جسے وہ کھینچ رہا تھا، جب اس نے پشت پھیری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قاتل اور مقتول (دونوں) آگ میں ہیں۔" (یہ سن کر) ایک آدمی اس (ولی) کے پاس آیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ اسماعیل بن سالم نے کہا: میں نے یہ حدیث حبیب بن ثابت سے بیان کی تو انہوں نے کہا: مجھے ابن اشوع نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (ولی) سے مطالبہ کیا تھا کہ اسے معاف کر دے تو اس نے انکار کر دیا تھا
حضرت وائل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا، جس نے دوسرے آدمی کو قتل کر ڈالا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی کو اس سے قصاص لینے کا حکم دے دیا، وہ اسے لے کر چلا اور قاتل کی گردن میں ایک تسمہ تھا، جس سے وہ اسے کھینچ رہا تھا، جب وارث نے پشت پھیر لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں ہوں گے۔ تو ایک آدمی نے آ کر وارث آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی تو اس نے اس کو چھوڑ دیا، اسماعیل بن سالم بیان کرتے ہیں میں نے یہ حدیث حبیب بن ابی ثابت کو بتائی تو اس نے کہا، مجھے ابن اشوع نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولی مقتول سے معاف کرنے کی سفارش کی تھی اور اس نے انکار کر دیا تھا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1680

صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4388 کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4388  
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل اور مقتول دونوں کو دوزخی قرار دیا،
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات عمومی انداز میں فرمائی تھی،
کیونکہ عام طور پر دونوں فریق ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہوتے ہیں اور دونوں اس کے لیے،
ایک دوسرے پر وار کرتے ہیں،
لیکن ایک کامیاب ہو جاتا ہے اور دوسرا اپنے عزم و قصد میں ناکام رہتا ہے،
اس لیے دونوں اپنے مقصد اور عزم کی بناء پر،
سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں،
آپﷺ نے یہ بات عمومی انداز میں تعریض و کنایہ کے طور پر فرمائی تھی تاکہ وہ معاف کرنے پر جس کے لیے وہ تیار نہیں تھا،
آمادہ ہو جائے اور ایسے ہی ہوا،
اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر قاتل کو چھوڑ دیا اور ان الفاظ کا مقصد بھی وہی ہے،
ان قتله فهو مثله،
لیکن راوی نے،
روایت بالمعنی کی بناء پر اس کو یوں تعبیر کر دیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے،
جیسا کہ اوپر کی روایت میں گزرا ہے،
قاتل نے تو اپنے گناہ کے سبب دوزخ میں جانا تھا اور ولی نے اپنے گناہوں کی سزا میں،
لیکن معاف کرنے کی صورت میں ولی کے گناہ،
اس معافی کی بناء پر معاف ہو جاتے،
اس لیے وہ دوزخ سے بچ جاتا،
اس لیے آپ اس کو مختلف طریقوں سے معافی کی ترغیب دے رہے تھے اور آخر کار وہ معاف کرنے کے لیے تیار ہو گیا اور اس نے معاف کر دیا۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4388   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.