سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
The Book of Seeking Refuge with Allah
62. بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ بِرِضَاءِ اللَّهِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ تَعَالَى
62. باب: اللہ تعالیٰ کے غصے اور ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5536
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا إبراهيم بن يعقوب، قال: حدثني العلاء بن هلال، قال: حدثنا عبيد الله، عن زيد، عن عمرو بن مرة، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن مسروق بن الاجدع، عن عائشة، قالت: طلبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة في فراشي، فلم اصبه , فضربت بيدي على راس الفراش فوقعت يدي على اخمص قدميه فإذا هو ساجد، يقول:" اعوذ بعفوك من عقابك، واعوذ برضاك من سخطك، واعوذ بك منك".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَلَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي فِرَاشِي، فَلَمْ أُصِبْهُ , فَضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى رَأْسِ الْفِرَاشِ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ، يَقُولُ:" أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر ڈھونڈا تو آپ کو نہیں پایا، چنانچہ میں نے اپنا ہاتھ بستر کے سرہانے پر پھیرا تو وہ آپ کے قدموں کے تلوے سے جا لگا، دیکھا تو آپ سجدے میں تھے، اور فرما رہے تھے: «أعوذ بعفوك من عقابك وأعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بك منك» میں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں، تیرے غصے اور ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ مانگتا ہوں، اور تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17632) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: حسن

   سنن النسائى الصغرى169عائشة بنت عبد اللهأعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك
   سنن النسائى الصغرى1101عائشة بنت عبد اللهأعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وبك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك
   سنن النسائى الصغرى1131عائشة بنت عبد اللهأعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك
   صحيح مسلم1090عائشة بنت عبد اللهأعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك
   جامع الترمذي3493عائشة بنت عبد اللهأعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك
   سنن أبي داود879عائشة بنت عبد اللهأعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك
   سنن ابن ماجه3841عائشة بنت عبد اللهأعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك
   سنن النسائى الصغرى5536عائشة بنت عبد اللهأعوذ بعفوك من عقابك وأعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بك منك
   المعجم الصغير للطبراني28عائشة بنت عبد الله أخذك شيطانك يا عائشة ، قلت : ولي شيطان ؟ ، فقال : نعم ، ولجميع بني آدم ، قلت : ولك شيطان ؟ ، فقال ، قال : نعم ، ولكن الله أعانني عليه فأسلم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 169  
´بغیر شہوت بیوی کو چھونے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، تو اپنے ہاتھ سے آپ کو ٹٹولنے لگی، تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے اور آپ سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے: «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیرے عذاب سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری شمار کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف کی ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 169]
169۔ اردو حاشیہ:
➊ مندرجہ بالا چاروں احادیث باب کے مضمون پر دلالت کرتی ہیں، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت کے پیش نظر نماز کے دوران میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو چھوا اور نماز پڑھتے رہے، گویا وضو نہ ٹوٹا۔ چوتھی حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوا اور نماز میں کوئی فرق نہ پڑا۔
➋ یہ باب قائم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بعض فقہاء، مثلاً: امام شافعی رحمہ اللہ اس بات کے قائل ہیں کہ عورت کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ذخیرہ حدیث میں ہے تو کوئی ایک حدیث بھی ایسی نہیں ہے جس میں عورت کو چھونے سے وضو ٹوٹنے کا صراحتاً یا اشارتاً ذکر ہو بلکہ اس کے خلاف بہت ساری احادیث ہیں، البتہ قرآن مجید کی ایک آیت کے الفاظ: ﴿اولامستم النسآء﴾ [المآئدۃ 6: 5]
سے استدلال کیا جاتا ہے مگر یہ استدلال عقلاً اور نقلاً بعید ہے۔ یہاں یہ الفاظ جماع کا مفہوم مراد لینے کے لیے آئے ہیں نہ کہ مطلق چھونے کے لیے، نیز یہ معنیٰ مراد لینے سے ان تمام احادیث کی دورازکار تاویلیں کرنی پڑیں گی یا انہیں چھوڑنا پڑے گا۔ دونوں صورتیں اچھی نہیں۔
➌ امام نسائی رحمہ اللہ کے باب اور احادیث سے واضح ہے کہ عورت کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، چاہے شہوت سے ہو (جیسا کہ اگلے باب میں وضاحت ہے) یا بغیر شہوت کے جیسا کہ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
➍ ان روایات سے معلوم ہوا کہ نمازی کے آگے لیٹا ہوا ہونا، خواہ اس کی بیوی ہی ہو کوئی حرج والی بات نہیں، البتہ نمازی کے آگے سے گزرنا ایک الگ چیز ہے، اس سے نمازی کے خشوع میں فرق پڑے گا اور گزرنے والا سخت گناہ گار ہو گا۔
➎ سجدے میں پاؤں گاڑنا (سیدھے کھڑے رکھنا) مستحب ہے۔
➏ سجدے میں دعا کرنا مستحب عمل ہے کیونکہ یہ قبولیت دعا کی حالت ہے۔
➐ اللہ تعالیٰ کے غصے اور اس کے عذاب سے پناہ مانگتے رہنی چاہیے۔
➑ اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی بیان کرتے ہوئے مخلوق کا اس کی کماحقہ تعریف کرنے سے عاجزی کا اعتراف کرتے رہنا چاہیے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 169   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5536  
´اللہ تعالیٰ کے غصے اور ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر ڈھونڈا تو آپ کو نہیں پایا، چنانچہ میں نے اپنا ہاتھ بستر کے سرہانے پر پھیرا تو وہ آپ کے قدموں کے تلوے سے جا لگا، دیکھا تو آپ سجدے میں تھے، اور فرما رہے تھے: «أعوذ بعفوك من عقابك وأعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بك منك» میں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں، تیرے غصے اور ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پنا [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5536]
اردو حاشہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اچانک جاگیں تو آپ کوبستر پرنہ پا کر پریشان ہوگئیں۔ فرما رہے تھے گویا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اچانک جاگیں تو آپ کو بستر پرنہ پا کر پریشان ہوگئیں۔ فرما رہے تھے گویا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ لگنے کے بعد آپ نے اونچا پڑھنا شروع کردیا تاکہ پتا چل جائے کہ آپ نماز پڑھ رہے ہیں۔ اللہ تعالی کی رضا مندی کی پناہ حاصل کرنے کا مطلب یہ ہےکہ اے اللہ! تو مجھ پر راضی ہوجا۔ ناراض نہ رہنا وغیرہ۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 5536   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3841  
´جن چیزوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ چاہی ہے ان کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر موجود نہ پایا تو میں آپ کو ڈھونڈھنے لگی (مکان میں اندھیرا تھا) تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں کے تلووں پر جا پڑا، دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ (حالت سجدہ میں) یہ دعا کر رہے تھے: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیری سزا سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیرے عذاب سے، می۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3841]
اردو حاشہ:
فوائد  ومسائل:

(1)
نماز تہجد بڑا فضل عمل ہے کیونکہ اس میں اللہ کے سامنے عجز و انکسار کا زیادہ اظہار ہو سکتا ہے۔

(2)
سجدہ نماز کا اہم رکن ہے، لہٰذا نفلی نماز میں سجدے کی حالت میں خوب دعا مانگنی چاہیے۔

(3)
اللہ کی صفات کا ذکر کر کے پناہ مانگنا درست ہے کیونکہ وہ اللہ سے پناہ مانگنے میں شامل ہے۔

(4)
تجھ سے تیری پناہ کا مطلب یہ کہ تیرے عتاب اور غضب سے مجھےکوئی نہیں بچا سکتا۔
صرف تو ہی رحمت کر کے معاف کر دے تو میں تیرے عذاب سے بچ سکتا ہوں۔ 5۔
انسان اللہ کی تعریف کماحقہ کرنے سے عاجز ہے۔
اس بات کا اقرار کرنا بھی اس کی عظمت کا اعتراف ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3841   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3493  
´باب:۔۔۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں سوئی ہوئی تھی، رات میں نے آپ کو اپنی جگہ نہ پا کر آپ کو ادھر ادھر تلاش کیا، ٹٹولا، میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، اس وقت آپ سجدے میں تھے، اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! میں تیری رضا و خوشنودی کے ذریعہ تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے عفو درگزر کے سہارے تیری سزا و عذاب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری ثناء، تیری تعریف کی گنتی اور اس کا احصاء و احاطہٰ نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3493]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تیری رضا وخوشنودی کے ذریعہ تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں،
اور تیرے عفو درگزر کے سہارے تیری سزا و عذاب سے پناہ مانگتا ہوں،
میں تیری ثناء،
تیری تعریف کی گنتی اوراس کا احصاء و احاطہ نہیں کر سکتا،
تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تونے خود آپ اپنی ذات کی تعریف کی ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3493   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.