سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
The Book of Drinks
24. بَابُ : تَفْسِيرِ الْبِتْعِ وَالْمِزْرِ
24. باب: بتع اور مزر کی شرح و تفسیر۔
حدیث نمبر: 5607
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا محمد بن آدم بن سليمان، عن ابن فضيل، عن الشيباني، عن ابي بردة، عن ابيه، قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن، فقلت: يا رسول الله , إن بها اشربة، يقال لها: البتع والمزر، قال:" وما البتع والمزر؟"، قلت: شراب يكون من العسل والمزر يكون من الشعير، قال:" كل مسكر حرام".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً، يُقَالُ لَهَا: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ، قَالَ:" وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرِ؟"، قُلْتُ: شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الْعَسَلِ وَالْمِزْرُ يَكُونُ مِنَ الشَّعِيرِ، قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن روانہ کیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروبات بہت ہوتے ہیں جنہیں «بتع» اور «مزر» کہا جاتا ہے، آپ نے فرمایا: «بتع» کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: وہ شہد کا مشروب ہوتا ہے اور «مزر» جَو کا مشروب ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/المغازي 60 (4343)، (تحفة الأشراف: 9095) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري


تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5607  
´بتع اور مزر کی شرح و تفسیر۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن روانہ کیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروبات بہت ہوتے ہیں جنہیں «بتع» اور «مزر» کہا جاتا ہے، آپ نے فرمایا: «بتع» کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: وہ شہد کا مشروب ہوتا ہے اور «مزر» جَو کا مشروب ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5607]
اردو حاشہ:
مزر جوار کے علاوہ جو حتیٰ کہ گندم سے بھی تیار کیا جاتا تھا، لہٰذا یہ تناقص نہیں۔ یہ ایک قسم کی نبیذ ہوتی تھی۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 5607   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.