الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
نماز کے احکام و مسائل
14. باب حُجَّةِ مَنْ قَالَ الْبَسْمَلَةُ آيَةٌ مِنْ أَوَّلِ كُلِّ سُورَةٍ سِوَى بَرَاءَةَ:
14. باب: سورة براءت کے علاوہ بسم اللہ کو قرآن کی ہر سورت کی پہلی آیت کہنے والوں کی دلیل۔
حدیث نمبر: 894
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا علي بن حجر السعدي ، حدثنا علي بن مسهر ، اخبرنا المختار بن فلفل ، عن انس بن مالك . ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة واللفظ له، حدثنا علي بن مسهر ، عن المختار ، عن انس ، قال: " بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم بين اظهرنا، إذ اغفى إغفاءة، ثم رفع راسه متبسما، فقلنا: ما اضحكك يا رسول الله؟ قال: انزلت علي آنفا سورة، فقرا بسم الله الرحمن الرحيم: إنا اعطيناك الكوثر {1} فصل لربك وانحر {2} إن شانئك هو الابتر {3} سورة الكوثر آية 1-3 "، ثم قال: اتدرون ما الكوثر؟ فقلنا: الله ورسوله اعلم، قال: فإنه نهر، وعدنيه ربي عز وجل عليه خير كثير، هو حوض ترد عليه امتي يوم القيامة، آنيته عدد النجوم، فيختلج العبد منهم، فاقول: رب إنه من امتي، فيقول: ما تدري ما احدثت بعدك؟، زاد ابن حجر في حديثه بين اظهرنا في المسجد، وقال: ما احدث بعدك؟حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَقُلْنَا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ، فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ: إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ {1} فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ {2} إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ {3} سورة الكوثر آية 1-3 "، ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟ فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ نَهْرٌ، وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ، هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي، فَيَقُولُ: مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ؟، زَادَ ابْنُ حُجْرٍ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَقَالَ: مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ؟
‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دن ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک غفلت سی طاری ہوئی۔ پھر مسکراتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا جس پر ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو کسی چیز پر ہنسی آ رہی ہے؟ ارشاد ہوا: مجھ پر ابھی ابھی قرآن کریم کی ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ» کی پوری سورت پڑھی اور فرمایا: تم لوگ جانتے ہو کوثر کیا چیز ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ تو ارشاد ہوا: کوثر ایک نہر ہے جس کا پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اس میں بہت سی خوبیاں ہیں۔ اور بروز محشر میرے امتی اس حوض کا پانی پینے کے لیے آئیں گے۔ اس حوض پر اتنے گلاس ہیں جتنے آسمان کے تارے۔ ایک شخص کو وہاں سے بھگا دیا جائے۔ جس پر میں کہوں گا: اے اللہ! یہ شخص میرا امتی ہے۔ کہا جائے گا نہیں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی نہیں بلکہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے آپ کے بعد نئے کام نکالے اور بدعتیں کیں۔ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے پاس مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے کہا: یہ وہ شخص ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بدعتیں نکالیں۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 400

   صحيح البخاري6581أنس بن مالكبينما أنا أسير في الجنة إذا أنا بنهر حافتاه قباب الدر المجوف الكوثر الذي أعطاك ربك مسك أذفر
   صحيح البخاري4964أنس بن مالكأتيت على نهر حافتاه قباب اللؤلؤ مجوفا هذا الكوثر
   صحيح مسلم894أنس بن مالكالكوثر إنه نهر وعدنيه ربي عليه خير كثير هو حوض ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد النجوم يختلج العبد منهم فأقول يا رب إنه من أمتي
   جامع الترمذي3359أنس بن مالكإنا أعطيناك الكوثر هو نهر في الجنة
   جامع الترمذي2542أنس بن مالكما الكوثر قال ذاك نهر أعطانيه الله يعني في الجنة أشد بياضا من اللبن أحلى من العسل فيها طير أعناقها كأعناق الجزر إن هذه لناعمة قال رسول الله أكلتها أحسن منها
   جامع الترمذي3360أنس بن مالكبينا أنا أسير في الجنة إذ عرض لي نهر حافتاه قباب اللؤلؤ الكوثر الذي أعطاكه الله طينة فاستخرج مسكا رفعت لي سدرة المنتهى فرأيت عندها نورا عظيما
   جامع الترمذي3359أنس بن مالكرأيت نهرا في الجنة حافتاه قباب اللؤلؤ الكوثر الذي أعطاكه الله
   سنن أبي داود4748أنس بن مالكعرض له نهر حافتاه الياقوت المجيب أو قال المجوف استخرج مسكا الكوثر الذي أعطاك الله
   سنن أبي داود4747أنس بن مالكالكوثر نهر وعدنيه ربي في الجنة وعليه خير كثير عليه حوض ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد الكواكب
   سنن أبي داود784أنس بن مالكالكوثر نهر وعدنيه ربي في الجنة
   سنن النسائى الصغرى905أنس بن مالكالكوثر هذا نهر وعدنيه ربي في الجنة آنيته أكثر من عدد الكواكب ترد علي أمتي يختلج العبد منهم فأقول يارب إنه من أمتي يقول إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 784  
´ «بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے نہ پڑھنے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ابھی مجھ پر ایک سورۃ نازل ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «بسم الله الرحمن الرحيم * إنا أعطيناك الكوثر» یہاں تک کہ آپ نے پوری سورۃ ختم فرما دی، پھر پوچھا: تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کو زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوثر ایک نہر کا نام ہے، جسے میرے رب نے مجھے جنت میں دینے کا وعدہ کیا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 784]
784۔ اردو حاشیہ:
مذکورۃ الصدر دونوں احادیث صحیح اور حسن ہیں۔ لہٰذا ترجیح صحیح احادیث کو ہے۔ نیز اگلے باب کی حدیث کہ «بسم الله» سے دو صورتوں کے مابین فرق و فصل نمایاں ہوتا تھا۔ اس سے یہی جانب راحج معلوم ہوتی ہے کہ «بسم الله» سورت کا جز نہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھیے: نیل الاوطار۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 784   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 905  
´(نماز میں) «‏‏‏‏بسم اللہ الرحمن الرحیم» ‏‏‏‏ پڑھنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ یکایک آپ کو جھپکی سی آئی، پھر مسکراتے ہوئے نے اپنا سر اٹھایا، تو ہم نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت اتری ہے «‏‏‏‏بسم اللہ الرحمن الرحيم ‏* إنا أعطيناك الكوثر * فصل لربك وانحر * إن شانئك هو الأبتر» شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے، یقیناً ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی، تو آپ اپنے رب کے لیے صلاۃ پڑھیں، اور قربانی کریں، یقیناً آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے وعدہ کیا ہے، جس کے آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، میری امت اس حوض پر میرے پاس آئے گی، ان میں سے ایک شخص کھینچ لیا جائے گا تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میری امت میں سے ہے؟ تو اللہ تعالیٰ مجھ سے فرمائے گا: تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی ہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 905]
905 ۔ اردو حاشیہ:
➊ سورۂ کوثر میں مذکور الکوثر کی تفسیر میں اسلاف اہل علم کا اختلاف ہے۔ مختلف اہل علم صحابہ اور تابعین وغیرہ نے اس کی مختلف تفسیریں بیان کی ہیں لیکن اس حدیث میں خود زبان رسالت سے الکوثر کی تفسیر معلوم ہو گئی ہے کہ وہ جنت میں ایک نہر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ بہت وسیع و عریض ہے۔ اس طرح کہ اس کی لمبائی اور چوڑائی برابر ہیں۔ اس کے آب خورے آسمان کے تاروں سے بھی زیادہ ہیں۔ اس کے متعلق حدیث شریف میں یہ صراحت بھی ہے کہ جس نے اس نہر کا پانی پی لیا، اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور اس کی خوشبو کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ [صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6579، وصحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 2292]
➋ مقتدی اپنے امام سے، چھوٹا اپنے بڑے سے اور اسی طرح مرید اپنے پیر سے کوئی نئی بات دیکھ کر اس کی بابت سوال کر سکتا ہے جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا تو آپ سے مسکرانے کا سبب پوچھ لیا۔ بزرگوں اور مشائخ کو ایسے سوال کا جواب بھی دینا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس سوال کا جواب بھی دیا تھا۔
➌ اس اونگھ سے مراد وحی کی کیفیت ہو گی۔
➍ امام صاحب کا استدلال یہ ہے کہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) سورت کا جز ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا اگرچہ یہ احتمال بھی ہے کہ آپ نے (بسم اللہ الرحمن الرحیم) تبرکا پڑھی ہو۔ دونوں صورتوں میں ہر سورت سے پہلے (بسم اللہ الرحمن الرحیم) پڑھنی ہے، خواہ جز ہو یا تبرک کے طور پر۔ البتہ سروجہر، یعنی آہستہ اور اونچی کی بحث ہو سکتی ہے۔ آپ نے مندرجہ بالا حدیث میں تو جہراً ہی پڑھی ہے مگر یہ نماز سے باہر کی بات ہے۔ نماز کے اندر اکثر روایات آہستہ پڑھنے کے بارے میں آتی ہیں اگرچہ کبھی کبھار جہرا بھی جائز ہے۔
➎ امام شافعی (بسم اللہ الرحمن الرحیم) کو ہر سورت کا جز سمجھتے ہیں جب کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اسے تبرک خیال کرتے ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ یہ سورۂ فاتحہ کا جز ہے۔
آپ کے بعد اس نے کیا نیاکام کیا۔ یہ اشارہ ارتداد کی طرف بھی ہو سکتا ہے اور بدعات کے اجرا کی طرف بھی۔ واللہ أعلم۔
➐ بدعت اس قدر خطرناک اور سنگین جرم ہے کہ روزقیامت بدعتی شخص کو حوض کوثر سے دور ہٹا کر جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔
➑ بدعتی کو حوض کوثر کے پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہیں ہو گا کیونکہ بدعتی نے جرم عظیم کا ارتکاب کیا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو بدلا اور خود کو مقام رسالت پر فائز کر لیا، لہٰذا اس کے لیے سخت ترین وعید ہے۔ اعاذنا اللہ منه۔
➒ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں۔
➓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان فانی سے رخصت ہو چکے ہیں۔
(11) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مختار کل نہیں۔ قیامت والے دن بھی صرف اسے ہی نجات ملے گی جسے اللہ چاہے گا۔ اور اسے معاف فرمائے گا، لہٰذا درج ذیل عقیدہ تعلیمات نبوی کے منافی اور ایمان کے فنا کا موجب ہے کہ اللہ کے پلڑے میں وحدت کے سوا کیا ہے جو کچھ ہمیں لینا ہے لے لیں گے محمد سے
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 905   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3359  
´سورۃ الکوثر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ارشاد باری «إنا أعطيناك الكوثر» کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک نہر ہے جنت میں جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے ہیں، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو دی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3359]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوثر وہ خیر کثیر ہے جو نبیﷺکو دی گئی ہے اس پر بعض لوگوں نے ان کے شاگرد سعید بن جبیرسے کہا کہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ وہ ایک نہر ہے جنت میں؟ تو اس پر سعید بن جبیر نے کہا:
یہ نہر بھی منجملہ خیر کثیر ہی کے ہے گویا سعید بن جبیر نے دونوں روایتوں کے درمیان تطبیق دینے کی کوشش کی ہے،
ویسے جب بزبان رسالت مآب صحیح سند سے یہ تصریح آ گئی کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے تو پھر کسی اور روایت کی طرف جانے کی ضرورت نہیں (تحفة وتفسیرابن جریر)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3359   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 894  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
بَيْنَ اَظْهُرِنَا:
ہمارے اندر،
ہم میں۔
(2)
اَغْفٰي اِغْفَاءَةً:
جھپکی اور اونگھ کا طاری ہونا۔
(3)
شَانِئَكَ:
تیرا دشمن،
تجھ سے بغض وعنادر رکھنے والا۔
(4)
اَلْاَبْتَرْ:
دُم کٹا،
جس کی نسل نہ چلے۔
ہر خیرو برکت سے محروم۔
(5)
يُخْتَلَجُ:
چھینا جائے گا،
الگ کیا جائے گا۔
(6)
اَحْدَثَ:
دین میں نئی بات نکالنا،
کوئی واقعہ یا جرم کر گزرنا۔
فوائد ومسائل:
(1)
اس حدیث سے ثابت ہو تا ہے کہ بِسْمِ اللہ ہرسورۃ کا حصہ اور جز ہے جسے آپﷺ ہر سورۃ سے پہلے پڑھتے تھے اور سورۃ براءت کا استثناء ایک الگ دلیل کی بنا پر ہے اور اسی بنا پر ہر سورۃ کے شروع میں اس کو مصحف میں لکھا گیا ہے اور سورۃ اقرا کی ابتدا کی آیا ت جو سب سے پہلی وحی ہیں ان میں یہی تعلیم دی گئی کہ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ اپنے رب کے نام سے قرآءت کا آغاز کیجئے اور اس کے شروع میں بِسْمِ اللہ موجود ہے۔
اس لیے یہ کہنا کہ اگربسملہ ہر سورت کا جز و ہوتی تو اقراکے شروع میں نازل ہوتی درست نہیں ہے کیونکہ اگر یہ اس سے پہلے نازل ہوئی تھی تو اس سے پہلے لکھ کیسے دی گئی؟ (2)
اس حدیث سے علم غیب کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اثبات بلا محل ہے۔
نیز ایک حقیقت کو تسلیم کر کے ہیر پھیر سے دوسری بات کہنا علم کے منافی بات ہے جب یہ تسلیم ہے کہمطلقاً عَالِمُ الْغَیْب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ہر چند کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء الٰہی سے علم غیب حاصل ہے لیکن مطلقاً یہ نہیں کہنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کا علم ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ آپﷺ غیب پر مطلع ہیں یا آپﷺ پر غیب ظاہر کیا گیا ہے یا آپﷺ کو علم غیب عطا کیا گیا ہے (شرح صحیح مسلم سعیدی صاحب1/ 1160)
بلکہ اس سے اوپر یہاں تک لکھا گیا ہے عام مسلمانوں اولیاء اللہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے ہر شخص کو اس کے ظرف کے مطابق غیب کا علم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام مخلوقات سے زیادہ غیب کا علم ہے۔
تو امت کو اس بحث و مسئلہ میں کیوں الجھایا جاتا ہے کہ آپﷺ کو عَالِمُ الْغَیْب نہ ماننے والا گستاخ و بےادب ہے اور کافر ہے امت کا کونسا فرد ہے جو اس کا انکار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جس چیز کا علم دیا وہ آپﷺ کو حاصل ہو گیا جس چیز سے آگاہ نہ کیا،
آپﷺ خود آگاہ نہ ہو سکے،
جس کی صریح دلیل اس حدیث کے اندر (إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ)
کی صورت میں موجود ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 894   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.