الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
The Book of Mosques and Places of Prayer
48. باب جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ وَالصَّلاَةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ:
48. باب: نفل نماز جماعت کے ساتھ اور بورئیے وغیرہ پر نماز پڑھنے کا بیان۔
Chapter: It is permissible to offer voluntary prayers in congregation, and to pray on hasir (palm-fiber mats), khumrah (small mats), cloth, and other pure things
حدیث نمبر: 1500
Save to word اعراب
وحدثنا شيبان بن فروخ ، وابو الربيع كلاهما، عن عبد الوارث ، قال شيبان: حدثنا عبد الوارث، عن ابي التياح ، عن انس بن مالك ، قال: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، احسن الناس خلقا، فربما تحضر الصلاة وهو في بيتنا، فيامر بالبساط الذي تحته، فيكنس، ثم ينضح، ثم يؤم رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونقوم خلفه، فيصلي بنا، وكان بساطهم من جريد النخل ".وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ شَيْبَانُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، فَرُبَّمَا تَحْضُرُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ، فَيُكْنَسُ، ثُمَّ يُنْضَحُ، ثُمَّ يَؤُمُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَقُومُ خَلْفَهُ، فَيُصَلِّي بِنَا، وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ ".
ابو التیاح نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اخلاق کے مالک تھے۔ بسا اوقات آپ ہمارے گھر میں ہوتے اور نماز کا وقت ہو جاتا، پھر آپ اس چٹائی کے بارے میں حکم دیتے جو آپ کے نیچے ہوتی، اسے جھاڑا جاتا، پھر اس پر پانی چھڑکا جاتا، پھر آپ امامت فرماتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔ کہا: ان کی چٹائی کجھور کے پتوں کی ہوتی تھی۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے اعلیٰ و عمدہ اخلاق سے متصف تھے، بسا اوقات آپصلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف فرما ہوتے اور (نفلی) نماز کا وقت ہو جاتا تو آپصلی اللہ علیہ وسلم جس چٹائی پر بیٹھے ہوتے اس کو صاف کرنے کا حکم دیتے، پھر اس کو دھویا جاتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامت کرواتے، ہم آپصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو جاتے تو آپصلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا دیتے اور ان کا بچھونا (چٹائی) کھجور کے پتوں کا تھا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 659

   سنن النسائى الصغرى803أنس بن مالكقوموا فلأصلي بكم قال في غير وقت صلاة قال فصلي بنا
   سنن النسائى الصغرى804أنس بن مالكجعل أنسا عن يمينه وأمه وخالته خلفهما
   سنن النسائى الصغرى806أنس بن مالكأقامني عن يمينه والمرأة خلفنا
   صحيح مسلم1500أنس بن مالكيؤم رسول الله ونقوم خلفه فيصلي بنا وكان بساطهم من جريد النخل
   صحيح مسلم1502أنس بن مالكصلى به وبأمه أو خالته فأقامني عن يمينه وأقام المرأة خلفنا
   سنن أبي داود609أنس بن مالكأمه وامرأة منهم فجعله عن يمينه والمرأة خلف ذلك
   سنن ابن ماجه975أنس بن مالكصلى رسول الله بامرأة من أهله وبي فأقامني عن يمينه وصلت المرأة خلفنا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1500 کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1500  
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
يُكْنَسُ:
كَنَسَ سے ہے،
صاف کرنا،
جھاڑنا۔
(2)
يُنْضَحُ:
نَضَحَ سے ہے،
دھونا۔
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھل مل کر رہتے تھے تکلف اور تصنع سے کام نہیں لیتے گھر میں عام استعمال ہونے والی چٹائی پر بیٹھ جاتے اور نماز کے وقت اس کو صاف کروا کر اس پر نماز پڑھ لیتے اور یہ نفلی نماز ہوتی تھی فرض نماز آپﷺ مسجد میں پڑھاتے تھے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1500   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 804  
´دو مرد اور دو عورتیں ہوں تو کیسے صف بندی کرے؟`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اور ان کی ماں اور ان کی خالہ تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے انس رضی اللہ عنہ کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا، اور ان کی ماں اور خالہ دونوں کو اپنے اور انس رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 804]
804 ۔ اردو حاشیہ: چونکہ امام کے علاوہ ایک ہی مرد تھا اسے ساتھ کھڑا کیا گیا اور دونوں عورتوں کو الگ صف میں کیونکہ عورتیں کسی صورت میں بھی مردوں کے ساتھ باجماعت نما ز میں کھڑی نہیں ہو سکتیں۔ سابقہ حدیث میں وہ مرد امام کے علاوہ تھے لہٰذا وہ دونوں امام کے پیچھے تھے اور عورتیں ان کے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ ایک مرد بچہ تھا مگر اس بھی مردوں کی صف میں کھڑا کیا گیا۔ گویا بچوں کے لیے الگ صف کی ضرورت نہیں نیز ایک مرد اور ایک بچہ مکمل صف میں جیسے دو مرد ہوں۔ واللہ أعلم۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 804   

  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث975  
´دو آدمی کے جماعت ہونے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کی ایک عورت اور میرے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کیا، اور عورت نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 975]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پہلے بیان ہوا کہ اگر مقتدی دو ہوں تو امام کے پیچھے کھڑے ہوں۔
لیکن یہ حکم اسوقت ہے جب دونوں مرد ہوں۔
جب ایک عورت اور ایک مرد مقتدی ہوں تو مرد کو امام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
عورت کے ساتھ نہیں اگرچہ وہ نابالغ ہی کیوں نہ ہو۔
اسی طرح اگر دو مرد اور ایک عورت مقتدی ہوں تو دونوں مرد امام کے پیچھے کھڑے ہوں اورعورت ان کے پیچھے اکیلی کھڑی ہو۔

(2)
مرد کا صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہونا درست نہیں جب کہ عورت اکیلی کھڑی ہوسکتی ہے جبکہ اس کے ساتھ کوئی اورعورت کھڑی ہونے والی نہ ہو۔

(3)
عورت محرم ہو یا غیر محرم ایک ہی حکم ہے۔
اسے مرد کے ساتھ کھڑے ہونا نہیں چاہیے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 975   

  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1502  
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے اس کی والدہ اور اس کی خالہ کو نماز پڑھائی، آپﷺ نے مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کیا اور عورتوں کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1502]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عورتوں کی صف الگ ہو گی وہ مردوں یا بچوں کی صف میں شریک نہیں ہوں گی۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1502   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.