صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
44. باب غَزْوَةِ الأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ:
44. باب: غزوہ احزاب یعنی جنگ خندق کا بیان۔
حدیث نمبر: 4675
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا يحيي بن يحيي ، وشيبان بن فروخ ، قال يحيى اخبرنا، وقال شيبان: حدثنا عبد الوارث ، عن ابي التياح ، حدثنا انس بن مالك ، قال: كانوا يرتجزون ورسول الله صلى الله عليه وسلم معهم وهم، يقولون: " اللهم لا خير إلا خير الآخره، فانصر الانصار، والمهاجره "، وفي حديث شيبان بدل فانصر: فاغفر.وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وقَالَ شَيْبَانُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم معهم وهم، يقولون: " اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ، وَالْمُهَاجِرَهْ "، وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ بَدَلَ فَانْصُرْ: فَاغْفِرْ.
یحییٰ بن یحییٰ اور شیبان بن فروخ نے ہمیں حدیث بیان کی، یحییٰ نے کہا: ہمیں عدالوارث نے ابوتیاح سے حدیث بیان کی، کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: صحابہ رجزیہ اشعار پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ساتھ دیتے تھے، وہ کہتے تھے: "اے اللہ! بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔" شیبان کی حدیث میں "مدد فرما" کی جگہ "مغفرت فرما" ہے
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں یہ رجز پڑھتے تھے۔ اے اللہ! بھلائی تو بس آخرت کی بھلائی ہے، سو تو انصار اور مہاجروں کی نصرت فرما۔ اور شیبہ کی روایت میں فانصر
ترقیم فوادعبدالباقی: 1805

   صحيح البخاري3795أنس بن مالكلا عيش إلا عيش الآخرة فأصلح الأنصار والمهاجرة
   صحيح البخاري2834أنس بن مالكاللهم إن العيش عيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره
   صحيح البخاري3796أنس بن مالكالأنصار يوم الخندق تقول نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا أبدا فأجابهم اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره
   صحيح البخاري4099أنس بن مالكخرج رسول الله إلى الخندق فإذا المهاجرون والأنصار يحفرون في غداة باردة فلم يكن لهم عبيد يعملون ذلك لهم فلما رأى ما بهم من النصب والجوع قال اللهم إن العيش عيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره فقالوا مجيبين له نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما بقينا أبدا
   صحيح البخاري4100أنس بن مالكجعل المهاجرون والأنصار يحفرون الخندق حول المدينة وينقلون التراب على متونهم وهم يقولون نحن الذين بايعوا محمدا على الإسلام ما بقينا أبدا قال يقول النبي وهو يجيبهم اللهم إنه لا خير إلا خير الآخره فبارك في الأنصار والمهاجره
   صحيح البخاري7201أنس بن مالكاللهم إن الخير خير الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره
   صحيح البخاري6413أنس بن مالكاللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأصلح الأنصار والمهاجره
   صحيح البخاري2961أنس بن مالكاللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره
   صحيح البخاري428أنس بن مالكاللهم لا خير إلا خير الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره
   صحيح البخاري2835أنس بن مالكاللهم إنه لا خير إلا خير الآخره فبارك في الأنصار والمهاجره
   صحيح مسلم4674أنس بن مالكاللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره
   صحيح مسلم4676أنس بن مالكاللهم إن الخير خير الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره
   صحيح مسلم4673أنس بن مالكاللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره
   صحيح مسلم4675أنس بن مالكاللهم لا خير إلا خير الآخره فانصر الأنصار والمهاجره
   جامع الترمذي3857أنس بن مالكاللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره
   سنن أبي داود453أنس بن مالكاللهم لا خير إلا خير الآخره فانصر الأنصار والمهاجره
   سنن النسائى الصغرى703أنس بن مالكاللهم لا خير إلا خير الآخرة فانصر الأنصار والمهاجرة
   سنن ابن ماجه742أنس بن مالكألا إن العيش عيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 703  
´قبروں کو اکھیڑنے اور ان کی جگہ مسجد بنانے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو اس کے ایک کنارے بنی عمرو بن عوف نامی ایک قبیلہ میں اترے، آپ نے ان میں چودہ دن تک قیام کیا، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلا بھیجا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، آپ ان کے ساتھ چلے گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی سواری پر ہیں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنی نجار کے لوگ آپ کے اردگرد ہیں، یہاں تک کہ آپ ابوایوب رضی اللہ عنہ کے دروازے پر اترے، جہاں نماز کا وقت ہوتا وہاں آپ نماز پڑھ لیتے، یہاں تک کہ آپ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نجار کے لوگوں کو بلوایا، وہ آئے تو آپ نے فرمایا: بنو نجار! تم مجھ سے اپنی اس زمین کی قیمت لے لو، ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس میں مشرکین کی قبریں، کھنڈر اور کھجور کے درخت تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو مشرکین کی قبریں کھود ڈالی گئیں، کھجور کے درخت کاٹ دیئے گئے، اور کھنڈرات ہموار کر دیئے گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھجور کے درختوں کو مسجد کے قبلہ کی جانب لائن میں رکھ دیا، اور چوکھٹ کے دونوں پٹ پتھر کے بنائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پتھر ڈھوتے، اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ تھے، وہ لوگ کہہ رہے تھے: اے اللہ! بھلائی صرف آخرت کی بھلائی ہے، انصار و مہاجرین کی تو مدد فرما۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 703]
703 ۔ اردو حاشیہ:
➊ ہجرت کے موقع پر تشریف آوری کا ذکر ہے۔ آپ مدینہ منورہ کی مضافاتتی بستی قباء میں ٹھہرے تھے۔ آپ چند دن یہاں ٹھہرے رہے، چار یا چودہ دن۔
➋ بنو نجار آپ کا ننھیال تھا۔ ہاشم کی بیوی اور عبدالمطلب کی والدہ اس قبیلے سے تھیں۔ آپ نے ان کی عزت افزائی کرنی چاہی، اس لیے انہیں پیغام بھیجا۔
➌ بکریوں کے باڑے سے مراد وہ جگہ ہے جہاں بکریاں باندھی جاتی ہوں۔
➍ یہ احاطہ آپ کی عا رضی رہائش گاہ کے بالکل سامنے تھا۔ آپ نے اسے مسجد اور اپنی رہائش کے لیے مناسب خیال فرمایا۔
مشرکین کی قبریں چونکہ مشرکین کی قبریں قابل احترام نہیں ہیں، لہٰذا انہیں اکھیڑا جا سکتا ہے۔ یہ قبریں پر ان ی تھیں۔ ان کے قریبی ورثاء فوت ہوچکے ہوں گے ورنہ مسلمان ورثاء کی دل شکنی بھی منع ہے۔ روایات میں ہے کہ وہ احاطہ بنونجار کے دو یتیم بچوں کا تھا، اسی لیے آپ نے باوجود پیش کش کے بلاقیمت لینا منظور نہ کیا بلکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کہہ کر ان بچوں کو قیمت دلوائی۔
رجز ایک قسم کا شعر اور ہم آہنگ سا کلام ہوتا ہے۔ اس میں وزن بھی ہوتا ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جنگ میں یا کسی خاص موقع پر اس قسم کا کلام پڑھ لیا تو آپ شاعرنہ بن گئے کیونکہ شاعر وہ ہوتا ہے جو شعر کو بطور پیشہ اور فن اپناتا ہے، نہ کہ وہ جو کبھی کبھار کوئی ہم آہنگ اور باوزن کلام بول لے جس میں شعر کہنے کا کوئی قصد بھی نہ ہو یا کسی کا کہا: ہوا شعر پڑھ لے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 703   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث742  
´مسجد کس جگہ بنانی جائز ہے؟`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی زمین قبیلہ بنو نجار کی ملکیت تھی، جس میں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم مجھ سے اس کی قیمت لے لو، ان لوگوں نے کہا: ہم ہرگز اس کی قیمت نہ لیں گے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنا رہے تھے اور صحابہ آپ کو (سامان دے رہے تھے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: سنو! زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے، اے اللہ! تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مسجد کی تعمیر سے پہلے جہاں نماز کا وقت ہو ج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 742]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد کے لیے زمین خریدنا جائز ہے اور زمین کا مالک مسجد کی انتظامیہ کے ہاتھ زمین فروخت کرسکتا ہے۔
اسی طرح مسجد کے دوسرے کاموں کے لیے مثلاً:
تعمیرومرمت، پانی اور بجلی کے نظام کی تنصیب کی محنت پر اجرت وصول کرنا جائز ہے۔

(2)
مسجد کے لیے زمین مفت دے دینا یا مسجد کے کام بلامعاوضہ کردینا اور مسجد کی ضرورت کی اشیاء بلا قیمت دے دینا افضل اور بہت ثواب کا باعث ہے۔

(3)
رسول اللہ ﷺ ثواب کے کام میں بنفس نفیس شریک ہوتے تھے۔
اس طرح یا قبیلے کا معزز فرد اور عالم اگر خود ایسے کاموں میں شریک ہوتو اچھی بات ہے کیونکہ اس سے دوسروں کو ترغٰیب ہوتی ہےاور جو لوگ پہلے سے کام میں شریک ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

(4)
غیر مسلموں کی قبروں کا وہ احترام نہیں جو مسلمانوں کی قبروں کا ہے اس لیے انھیں بوقت ضرورت مسمار کیا جا سکتا ہے۔

(5)
قبرستان میں نماز پڑھنا منع ہے لیکن اگر قبروں کے نشانات ختم ہوجائیں تو وہ جگہ عام زمین کے حکم میں ہوجائے گی پھر وہاں مسجد بنائی جاسکتی ہے۔

(6)
اسی طرح بت خانہ اور گرجا وغیرہ مسمار کرکے وہاں مسجد تعمیر کرنا درست ہے۔
یا عمارت میں اس انداز سے تبدیلی کرلی جائےکہ ظاہری طور پر بت خانہ یا گرجا معلوم نہ ہو مسجد معلوم ہو۔

(7)
ایسے شعر پڑھنا اور سننا جائز ہیں جن کے الفاظ ومعانی میں کوئی خلاف شریعت چیز نہ ہو لیکن موسیقی کے آلات کا استعمال حرام ہے۔

(8)
جہاں مسجد قریب نہ ہو وہاں کسی بھی مناسب جگہ نماز ادا کی جاسکتی ہے، اس سے اس جگہ پر مسجد کے احکام لاگو نہیں ہوں گے جب تک مسجد کی نیت سے عمارت بنالی جائے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 742   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3857  
´ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره» بار الٰہا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی تکریم فرما ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3857]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ حدیث اگلی حدیث کے استشہاد میں لائے ہیں،
یہی اس باب سے اس کی مناسبت ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3857   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.