سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
The Book of Marriage
77. بَابُ : الْبِنَاءِ فِي شَوَّالٍ
77. باب: شوال کے مہینے میں رخصتی کا بیان۔
Chapter: Consummating The Marriage In Shawwal
حدیث نمبر: 3379
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا إسحاق بن إبراهيم، قال: انبانا وكيع، قال: حدثنا سفيان، عن إسماعيل بن امية، عن عبد الله بن عروة، عن ابيه، عن عائشة , قالت:" تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم في شوال، وادخلت عليه في شوال، فاي نسائه كان احظى عنده مني".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال کے مہینے میں شادی کی اور شوال کے مہینے ہی میں میری رخصتی ہوئی، (لوگ اس مہینے میں شادی بیاہ کو برا سمجھتے ہیں) لیکن میں پوچھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں مجھ سے زیادہ کون بیوی آپ کو محبوب اور پسندیدہ تھی۔

تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم: 3238 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: حسن

   صحيح البخاري5156عائشة بنت عبد اللهتزوجني النبي فأتتني أمي فأدخلتني الدار فإذا نسوة من الأنصار في البيت فقلن على الخير والبركة وعلى خير طائر
   صحيح البخاري5134عائشة بنت عبد اللهتزوجها وهي بنت ست سنين بنى بها وهي بنت تسع سنين
   صحيح البخاري3894عائشة بنت عبد اللهتزوجني النبي وأنا بنت ست سنين فقدمنا المدينة فنزلنا في بني الحارث بن خزرج فوعكت فتمرق شعري فوفى جميمة فأتتني أمي أم رومان وإني لفي أرجوحة ومعي صواحب لي فصرخت بي فأتيتها لا أدري ما تريد بي فأخذت بيدي حتى أوقفتني على باب الدار وإني لأنهج
   صحيح البخاري5160عائشة بنت عبد اللهتزوجني النبي فأتتني أمي فأدخلتني الدار فلم يرعني إلا رسول الله ضحى
   صحيح البخاري5077عائشة بنت عبد اللهلم يرتع منها تعني أن رسول الله لم يتزوج بكرا غيرها
   صحيح البخاري5133عائشة بنت عبد اللهتزوجها وهي بنت ست سنين أدخلت عليه وهي بنت تسع مكثت عنده تسعا
   صحيح مسلم3483عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله في شوال بنى بي في شوال أي نساء رسول الله كان أحظى عنده مني
   صحيح مسلم3479عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله لست سنين بنى بي وأنا بنت تسع سنين
   صحيح مسلم3482عائشة بنت عبد اللهتزوجها رسول الله وهي بنت ست بنى بها وهي بنت تسع مات عنها وهي بنت ثمان عشرة
   صحيح مسلم3481عائشة بنت عبد اللهتزوجها وهي بنت سبع سنين زفت إليه وهي بنت تسع سنين ولعبها معها مات عنها وهي بنت ثمان عشرة
   صحيح مسلم3480عائشة بنت عبد اللهتزوجني النبي وأنا بنت ست سنين بنى بي وأنا بنت تسع سنين
   جامع الترمذي1093عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله في شوال بنى بي في شوال
   سنن أبي داود2121عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله وأنا بنت سبع أو ست دخل بي وأنا بنت تسع
   سنن أبي داود4935عائشة بنت عبد اللهلما قدمنا المدينة جاءني نسوة وأنا ألعب على أرجوحة وأنا مجممة فذهبن بي فهيأنني وصنعنني ثم أتين بي رسول الله بنى بي وأنا ابنة تسع سنين
   سنن أبي داود4933عائشة بنت عبد اللهتزوجني وأنا بنت سبع أو ست لما قدمنا المدينة أتين نسوة وقال بشر فأتتني أم رومان وأنا على أرجوحة فذهبن بي وهيأنني وصنعنني فأتي بي رسول الله بنى بي وأنا ابنة تسع فوقفت بي على الباب فقلت هيه هيه
   سنن النسائى الصغرى3259عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله لتسع سنين صحبته تسعا
   سنن النسائى الصغرى3238عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله في شوال أدخلت عليه في شوال كانت عائشة تحب أن تدخل نساءها في شوال أي نسائه كانت أحظى عنده مني
   سنن النسائى الصغرى3381عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله وهي بنت ست سنين بنى بها وهي بنت تسع
   سنن النسائى الصغرى3257عائشة بنت عبد اللهتزوجها وهي بنت ست بنى بها وهي بنت تسع
   سنن النسائى الصغرى3379عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله في شوال أدخلت عليه في شوال أي نسائه كان أحظى عنده مني
   سنن النسائى الصغرى3258عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله لسبع سنين دخل علي لتسع سنين
   سنن النسائى الصغرى3260عائشة بنت عبد اللهتزوجها رسول الله وهي بنت تسع مات عنها وهي بنت ثماني عشرة
   سنن ابن ماجه1990عائشة بنت عبد اللهتزوجني النبي في شوال وبنى بي في شوال أي نسائه كان أحظى عنده مني كانت عائشة تستحب أن تدخل نساءها في شوال
   سنن ابن ماجه1876عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله وأنا بنت ست سنين قدمنا المدينة فنزلنا في بني الحارث بن الخزرج فوعكت فتمرق شعري حتى وفى له جميمة فأتتني أمي أم رومان وإني لفي أرجوحة ومعي صواحبات لي فصرخت بي فأتيتها وما أدري ما تريد فأخذت بيدي فأوقفتني على باب الدار
   مسندالحميدي233عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا بنت ست سنين أو سبع سنين، وبنى بي وأنا بنت تسع

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3379  
´شوال کے مہینے میں رخصتی کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال کے مہینے میں شادی کی اور شوال کے مہینے ہی میں میری رخصتی ہوئی، (لوگ اس مہینے میں شادی بیاہ کو برا سمجھتے ہیں) لیکن میں پوچھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں مجھ سے زیادہ کون بیوی آپ کو محبوب اور پسندیدہ تھی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3379]
اردو حاشہ:
(1) دورجاہلیت میں لوگ شوال کے مہینے کو اس کے معنیٰ کی وجہ سے منحوس قراردیتے تھے اور اس میں شادی وتعمیروغیرہ کو مناسب خیال نہ کرتے تھے‘ حالانکہ یہ صرف توہم ہے‘ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ مہینے کے نام کا اس کے دنوں پر کوئی اثر نہیں۔ اسلام ایسے توہمات کے خلاف ہے اور ان کی بنا پر معمولات میں رکاوٹ کو بدعقیدگی سمجھتا ہے۔ افسوس! آج کل مسلمان محرم کے بارے میں بھی ایسے ہی تصورات رکھتے ہیں۔ فإلی اللہ المشتكي
(2) شوال میں ہی نکاح اور رخصتی میں تین سال کا فاصلہ تھا۔ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْها وَأَرْضَاہُ۔
(3) شوال کے معنیٰ اور دیگر تفصیل کے لیے دیکھیے‘ حدیث: 32438 کے فوائد ومسائل۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 3379   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1876  
´باپ نابالغ بچیوں کا نکاح کر سکتا ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو اس وقت میری عمر چھ سال کی تھی، پھر ہم مدینہ آئے تو بنو حارث بن خزرج کے محلہ میں اترے، مجھے بخار آ گیا اور میرے بال جھڑ گئے، پھر بال بڑھ کر مونڈھوں تک پہنچ گئے، تو میری ماں ام رومان میرے پاس آئیں، میں ایک جھولے میں تھی، میرے ساتھ میری کئی سہیلیاں تھیں، ماں نے مجھے آواز دی، میں ان کے پاس گئی، مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں؟ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ پر لا کھڑا کیا، اس وقت میرا سانس پھول رہا تھا، یہاں تک کہ میں کچھ پرسک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1876]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نابالغ بچی کا نکاح درست ہے۔

(2) (اُرْجُوحَة)
جھولا ایک بڑی لکڑی ہوتی ہے جو درمیان سے اونچی جگہ رکھی ہوتی ہے۔
بچے اس پر دونوں طرف بیٹھ جاتے ہیں۔
جب وہ ایک طرف سے نیچے ہوتی ہے تو دوسری طرف سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔
اسے انگریزی میں (See Saw)
سی سا کہتے ہیں۔

(3)
رخصتی کے وقت دلھن کو آراستہ کرنا مسنون ہے۔

(4)
رخصتی کے وقت ہمسایہ خواتین کا جمع ہونا اور تیاری میں مدد دینا درست ہے تاہم آج کل جو بے جا تکلفات اور رسم و رواج اختیار کر لیے گئے ہیں یہ خواہ مخواہ کی تکلیف ہے جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔

(5)
اسی طرح بیوٹی پارلروں میں بھیج کر دلھن کو آراستہ کروانا فضول خرچی بھی ہے، حیا باختہ اور بے پردہ عورتوں کی نقالی بھی اور تغییر لخلق اللہ بھی۔

(6)
اسلام میں برات کا کوئی تصور نہیں یہ ہندوانہ رسم ہے۔
اسی طرح مروجہ جہیز بھی غیر اسلامی رسم ہے۔

(7)
نوسال کی بچی بالغ ہو سکتی ہے اور بالغ ہونے پر اس کی رخصتی بھی ہو سکتی ہے۔
اس میں کسی خاص عمر کی شرعا کوئی شرط نہیں، اس لیے موجودہ عائلی قوانین میں مخصوص عمر کی شرط لگائی گئی ہے شرعا اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1876   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2121  
´کمسن بچیوں کے نکاح کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اس وقت سات سال کی تھی (سلیمان کی روایت میں ہے: چھ سال کی تھی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے (شب زفاف منائی) اس وقت میں نو برس کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2121]
فوائد ومسائل:
والد کو بالخصوص حق حاصل ہے کی کسی مصلحت کے پیش نظر چھوٹی عمر کی بچی کا نکاح کردے، مگر صحبت ومباشرت کے لئے بلوغت کا شرط ہونا عقل، نقل اور اخلاق کا لازمی تقاضا ہے اور چھوٹی عمرکا ازواج کسی طرح بھی منافی عقل وشرع نہیں ہے۔
اگر کسی کے مزاج پر اپنا ذوق اور علاقائی خاندانی رواج غالب ہو تو، کیا کہا جا سکتا ہے! ان چیزوں کو اصول شریعت نہیں بنایا جا سکتا اور پھر رسول ﷺاور ابو بکر صدیق رضی اللہ کے تعلقات شروع دن سے صدیقیت پر مبنی تھے، نبیﷺ ان کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکے تو ان کو اپنے اور قریب کر لیا۔
مزید برآں یہ نکاح بطور خاص وحی منام کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔
جیسا کہ حدث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
علمائے طب لکھتے ہیں کہ گرم علاقوں میں لڑکیاں نو سال کی عمر میں حائضہ ہو جاتی ہیں اور معتدل مناطق میں بارہ سال میں اور ٹھنڈے علاقوں میں سولہ سال میں بالغ ہوتی ہیں۔
دارقطنی اور بیہقی میں عباد بن عباد سے روایت ہے کہ ہماری ایک عورت اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی تھی۔
امام بخاری ؒ نے اسی طرح ایک واقعہ اکیس سال عمر کا بیان کیا ہے۔
(ازحاشیہ بذل المجھود)
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2121   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.