الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
The Book Of Fighting (The Prohibition Of Bloodshed)
14. بَابُ : الْحُكْمِ فِي الْمُرْتَدِّ
14. باب: مرتد کے حکم کا بیان۔
Chapter: The Ruling on Apostates
حدیث نمبر: 4064
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا عمران بن موسى، قال: حدثنا عبد الوارث، قال: حدثنا ايوب، عن عكرمة، قال: قال ابن عباس: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من بدل دينه فاقتلوه".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے دین و مذہب کو بدلا اسے قتل کر دو ۱؎۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الجہاد 149(3017)، المرتدین 2 (6922)، سنن ابی داود/الحدود 1 (4351)، سنن الترمذی/الحدود 25 (1458)، سنن ابن ماجہ/الحدود 2 (2525)، (تحفة الأشراف: 5987)، مسند احمد (1/219، 282، 219)، ویأتي فیمایلي: 4065- 4066 (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: دین سے مراد دین اسلام ہے، لہٰذا اگر کوئی کفر سے اسلام میں داخل ہوا یا کسی دوسری ملت سے کسی اور ملت میں داخل ہوا تو اس کے سلسلہ میں یہ حکم نہیں ہے، واضح رہے کہ قتل کا حکم مرد اور عورت دونوں کو شامل ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

   صحيح البخاري3017عبد الله بن عباسمن بدل دينه فاقتلوه
   صحيح البخاري6922عبد الله بن عباسمن بدل دينه فاقتلوه
   سنن أبي داود4351عبد الله بن عباسمن بدل دينه فاقتلوه
   سنن النسائى الصغرى4066عبد الله بن عباسمن بدل دينه فاقتلوه
   سنن النسائى الصغرى4065عبد الله بن عباسمن بدل دينه فاقتلوه
   سنن النسائى الصغرى4067عبد الله بن عباسمن بدل دينه فاقتلوه
   سنن النسائى الصغرى4064عبد الله بن عباسمن بدل دينه فاقتلوه
   سنن ابن ماجه2535عبد الله بن عباسمن بدل دينه فاقتلوه
   بلوغ المرام1032عبد الله بن عباس من بدل دينه فاقتلوه
   مسندالحميدي543عبد الله بن عباسمن بدل دينه فاقتلوه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ غلام مصطفٰے ظهير امن پوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 6922  
´مرتد عورت کی شرعی سزا`
«. . . أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِزَنَادِقَةٍ، فَأَحْرَقَهُمْ . . .»
. . . سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ بےدین لوگ لائے گئے۔ آپ نے ان کو جلوا دیا . . . [صحيح البخاري/كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّينَ وَالْمُعَانِدِينَ وَقِتَالِهِمْ: 6922]

فوائد و مسائل:
اگر کوئی مسلمان دین اسلام سے منحرف ہو جائے، تو اسے مرتد کہا جاتا ہے۔ اس کی سزا شریعت اسلامیہ میں یہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے۔
حنفی مقلدین نے اس عمومی حکم سے بلا جواز عورت کو مستثنیٰ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرد مرتد ہو جائے، تو اس کو قتل کیا جائے گا، لیکن عورت مرتد ہو، تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ اسے قید کر دیا جائے گا۔ احناف کا یہ مذہب مذکورہ بالا فرمان نبوی کے خلاف ہے جیسا کہ:
◈ شارح صحیح بخاری، علامہ، ابوالحسن، علی بن خلف بن عبدالملک، ابن بطال رحمہ اللہ (م: 449 ھ) مذکورہ بالا حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
لفظ «من» مرد و عورت دونوں کے لیے مستعمل ہے۔ اس عموم میں مرد و عورت دونوں شامل ہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو خاص کر کے عورتوں کو اس حکم سے مستشنٰی قرار نہیں دیا۔ امام ابن منذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کفر مسلمان مردوں اور عورتوں کی طرف سے کیا جانے والا سب سے بڑا گناہ اور سب سے عظیم جرم ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بہت سے احکام اور کفر سے کم جرائم پر حدود مذکورہ ہیں، مثلاً زنا، چوری، شراب نوشی، قذف کی حد اور قصاص، یہ سب احکام و حدود جو کہ ارتداد سے کم درجہ کے ہیں، یہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے لازم ہیں (پھر ارتداد میں عورت مستشنٰی کیسے ہوگئی؟)۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم بھی عام ہے کہ جو بھی اپنا دین بدلے، اسے قتل کر دو۔ اس صورت حال میں کسی کے لیے کیسے جائز ہے کہ وہ اس سب سے بڑے گناہ میں مردوں اور عورتوں کی سزا میں فرق کرے اور اس سے عورتوں کو مستشنیٰ کر دے، جبکہ دیگر چھوٹے گناہوں میں اس پر سزا لازم کر دے؟ یہ واضح غلطی ہے۔ [شرح صحيح البخاري: 573/8، 574]

◈ شارح صحیح بخاری، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ مرتد مرد کی طرح مرتد عورت کو بھی قتل کر دیا جائے گا۔ البتہ احناف نے اس حدیث کو مرد کے ساتھ خاص کیا ہے اور عورتوں کو قتل کرنے سے ممانعت والی حدیث کو اپنی دلیل بنانے کی کوشش کی ہے، جبکہ جمہور فقہاء کرام نے اس ممانعت کو اس عورت پر محمول کیا ہے، جو اصلاً کافر ہو اور اس نے جنگ میں قتل و قتال میں حصہ نہ لیا ہو، کیونکہ اس حدیث کی بعض سندوں میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقتولہ عورت کو دیکھا، تو فرمایا: یہ تو لڑائی نہیں کر سکتی تھی، (پھر اسے کیوں قتل کیا گیا؟)، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ [فتح الباري فى شرح صحيح البخاري: 272/12]
   ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 69، حدیث\صفحہ نمبر: 26   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4064  
´مرتد کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے دین و مذہب کو بدلا اسے قتل کر دو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4064]
اردو حاشہ:
(1) دین سے مراد دین حق، یعنی اسلام ہے۔ یہ سزا صرف اس شخص کے لیے ہے جو اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ کافر ہو جائے۔ مرتد بھی صرف اسی شخص کو کہا جائے گا کیونکہ آپ کا خطاب مسلمانوں سے متعلق ہے۔
(2) دین اسلام سے منحرف ہو کر دوسرا دین اختیار کر لینے پر قتل کیے جانے کا حکم مرد و عورت سب کو شامل ہے۔ احناف مرتد عورت کے قتل کے قائل نہیں الا یہ کہ وہ اس درجے کی ہو کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکے۔ گویا ان کے نزدیک قتل ارتداد کی سزا نہیں بلکہ محاربہ کی سزا ہے، حالانکہ حدیث میں دین تبدیل کرنے کی سزا بیان کی گئی ہے نہ کہ محاربہ کی۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 4064   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1032  
´مجرم (بدنی نقصان پہنچانے والے) سے لڑنے اور مرتد کو قتل کرنے کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنا دین بدل لے اسے قتل کر دو۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1032»
تخریج:
«أخرجه البخاري، استتابة المرتدين.....، باب حكم المرتد والمرتدة.....، حديث:6922.»
تشریح:
یہ حدیث بھی صریح اور واضح دلیل ہے کہ شرعاً مرتد کی سزا قتل ہے‘ خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔
اب اگر کوئی علی الاعلان مرتد ہو جائے تو عدالت اس کے ثبوت کے بعد قتل کی سزا دے گی اور اسے قتل کر دیا جائے گا۔
البتہ اگر وہ ظاہری نہیں بلکہ اندرونی طور پر مرتد ہے اور اس کے ارتداد کا علم نہیں تو اسے قتل کی سزا نہیں دی جائے گی۔
اور اگر کسی شخص کو جبراً کلمۂکفر کہنے پر مجبور کیا جائے تو ایسی صورت میں بھی وہ مستوجب سزا نہیں۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 1032   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4351  
´مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان۔`
عکرمہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو جو اسلام سے پھر گئے تھے آگ میں جلوا دیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں انہیں جلاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم انہیں وہ عذاب نہ دو جو اللہ کے ساتھ مخصوص ہے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی رو سے انہیں قتل کر دیتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لے اسے قتل کر دو پھر جب علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: اللہ ابن عباس ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4351]
فوائد ومسائل:
1) آگ سے عذاب دینا اللہ عزوجل کے لیے خاص ہے۔
کسی بھی شخص کوجائز نہیں کہ کسی مجرم کو آگ سے سزا دے خواہ اس کا جرم کس قدر بڑا ہو۔
اور دین اسلام سے مرتد ہوجانے والےکی سزاقتل ہے۔

2) آیت کریمہ (لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ) (البقرۃ 256) دین جبروا کراہ نہیں۔
۔
۔
۔
کے معنی یہ ہیں کہ کسی شخص کو جبرا اسلام میں داخل نہیں کیا جائے گا۔
جہاد وقتال اسلام کے غلبہ اور اس کی راہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ہے۔
اگرکوئی شخص مسلمان نہیں ہونا چاہتا تواسے جزیہ دے کر مسلمانوں کے ماتحت رہنا ہوگا۔
لیکن اگر کوئی اسلام قبول کرلیتا ہے تواس پر اسلام کے تمام احکام و فرائض لازم آتے ہیں اور واپسی کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔
اگر یہ راہ کھلی رکھی جائے تو یہ دین نہیں بچوں کا کھیل بن کر رہ جائے گا اس لیے اسلام قبول کرنے والے کو سوچ سمجھ کر یہ اقدام کرنا چاہئے کہ اب واپسی نہ ممکن ہے اور اس حقیقت سے مشرکین مکہ اور تمام اہل جاہلیت آگاہ تھے کہ اسلام قبول کر نے کے معنی یہ ہیں کہ اپنی سابقہ طرز زندگی کے بالکل برعکس ایک نیا طرز زندگی اپنانا پڑے گا۔
اس مسئلے کو دوسرے انداز سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ مرتد ہونا بغاوت ہے اور بغاوت کسی بھی مذہب وملت قانون اور حکومت میں ناقابل معافی جرم سمجھا جاتا ہے.
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 4351   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.