سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
The Book of Financial Transactions
44. بَابُ : بَيْعِ الشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ
44. باب: جَو کے بدلے جَو بیچنے کا بیان۔
Chapter: Selling Barley For Barley
حدیث نمبر: 4570
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرني هارون بن عبد الله , قال: حدثنا ابو اسامة , قال: قال إسماعيل: حدثنا حكيم بن جابر. ح وانبانا يعقوب بن إبراهيم , قال: حدثنا يحيى , عن إسماعيل , قال: حدثنا حكيم بن جابر , عن عبادة بن الصامت , قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" الذهب الكفة بالكفة" , ولم يذكر يعقوب: الكفة بالكفة , فقال معاوية: إن هذا لا يقول شيئا , قال عبادة: إني والله ما ابالي ان لا اكون بارض يكون بها معاوية , إني اشهد اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ذلك.
(مرفوع) أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , قَالَ: قَالَ إِسْمَاعِيل: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جَابِرٍ. ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ إِسْمَاعِيل , قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جَابِرٍ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الذَّهَبُ الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ" , وَلَمْ يَذْكُرْ يَعْقُوبُ: الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ , فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: إِنَّ هَذَا لَا يَقُولُ شَيْئًا , قَالَ عُبَادَةُ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَكُونَ بِأَرْضٍ يَكُونُ بِهَا مُعَاوِيَةُ , إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سونا ایک پلڑا دوسرے پلڑے کے برابر ہو، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بات تو میرے سمجھ میں نہیں آتی، تو عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے پروا نہیں اگر میں اس سر زمین میں نہ رہوں جہاں معاویہ رضی اللہ عنہ رہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5084)، مسند احمد (5/319) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

   صحيح مسلم4063عبادة بن الصامتالذهب بالذهب الفضة بالفضة البر بالبر الشعير بالشعير التمر بالتمر الملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء يدا بيد إذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدا بيد
   صحيح مسلم4061عبادة بن الصامتالذهب بالذهب الفضة بالفضة البر بالبر الشعير بالشعير التمر بالتمر الملح بالملح إلا سواء بسواء عينا بعين من زاد فقد أربى
   جامع الترمذي1240عبادة بن الصامتالذهب بالذهب مثلا بمثل الفضة بالفضة مثلا بمثل التمر بالتمر مثلا بمثل البر بالبر مثلا بمثل الملح بالملح مثلا بمثل الشعير بالشعير مثلا بمثل من زاد فقد أربى بيعوا الذهب بالفضة كيف شئتم يدا بيد بيعوا البر بالتمر كيف شئتم يدا بيد وبيعوا الشعير بالبر
   سنن أبي داود3349عبادة بن الصامتالذهب بالذهب تبرها وعينها الفضة بالفضة تبرها وعينها البر بالبر مدي بمدي الشعير بالشعير مدي بمدي التمر بالتمر مدي بمدي الملح بالملح مدي بمدي فمن زاد فقد أربى لا بأس ببيع الذهب بالفضة والفضة أكثرهما يدا بيد أما نسيئة فلا لا بأس ببيع البر بالشعير
   سنن ابن ماجه2254عبادة بن الصامتالورق بالورق الذهب بالذهب البر بالبر الشعير بالشعير التمر بالتمر الملح بالملح أمرنا أن نبيع البر بالشعير والشعير بالبر يدا بيد كيف شئنا
   سنن ابن ماجه18عبادة بن الصامتلا تبتاعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل لا زيادة بينهما ولا نظرة
   سنن النسائى الصغرى4564عبادة بن الصامتبيع الذهب بالذهب الورق بالورق البر بالبر الشعير بالشعير التمر بالتمر الملح بالملح إلا مثلا بمثل يدا بيد أمرنا أن نبيع الذهب بالورق الورق بالذهب البر بالشعير الشعير بالبر يدا بيد كيف شئنا من زاد أو ازداد فقد أربا
   سنن النسائى الصغرى4565عبادة بن الصامتبيع الذهب بالذهب الفضة بالفضة التمر بالتمر البر بالبر الشعير بالشعير الملح بالملح إلا سواء بسواء مثلا بمثل من زاد أو ازداد فقد أربى أمرنا أن نبيع الذهب بالفضة الفضة بالذهب البر بالشعير الشعير بالبر
   سنن النسائى الصغرى4566عبادة بن الصامتنبيع الذهب بالذهب الورق بالورق البر بالبر الشعير بالشعير التمر بالتمر الملح بالملح إلا سواء بسواء مثلا بمثل من زاد أو ازداد فقد أربى أمرنا أن نبيع الذهب بالورق الورق بالذهب البر بالشعير الشعير بالبر
   سنن النسائى الصغرى4567عبادة بن الصامتالذهب بالذهب وزنا بوزن تبرها وعينها الفضة بالفضة وزنا بوزن تبرها وعينها لا بأس ببيع الفضة بالذهب يدا بيد الفضة أكثرهما ولا تصلح النسيئة البر بالبر والشعير بالشعير مديا بمدي لا بأس ببيع الشعير بالحنطة يدا بيد الشعير أكثرهما لا يصلح نسيئة
   سنن النسائى الصغرى4568عبادة بن الصامتالذهب بالذهب تبره وعينه وزنا بوزن الفضة بالفضة تبره وعينه وزنا بوزن الملح بالملح التمر بالتمر البر بالبر الشعير بالشعير سواء بسواء مثلا بمثل من زاد فقد أربى
   سنن النسائى الصغرى4570عبادة بن الصامتالذهب الكفة بالكفة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4570  
´جَو کے بدلے جَو بیچنے کا بیان۔`
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سونا ایک پلڑا دوسرے پلڑے کے برابر ہو، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بات تو میرے سمجھ میں نہیں آتی، تو عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے پروا نہیں اگر میں اس سر زمین میں نہ رہوں جہاں معاویہ رضی اللہ عنہ رہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4570]
اردو حاشہ:
معتبر بات نہیں کہہ رہے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات اپنے علم کے مطابق کہی لیکن چونکہ انداز مناسب نہیں تھا، اس لیے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اظہار ناراضی فرمایا۔ اور یہ ان کا حق بھی بنتا ہے۔ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَأَرْضَاھُمْ۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 4570   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث18  
´حدیث نبوی کی تعظیم و توقیر اور مخالفین سنت کے لیے سخت گناہ کی وعید۔`
قبیصہ سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ نے (جو کہ عقبہ کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والے صحابی ہیں) معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم میں جہاد کیا، وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ سونے کے ٹکڑوں کو دینار (اشرفی) کے بدلے اور چاندی کے ٹکڑوں کو درہم کے بدلے بیچتے ہیں، تو کہا: لوگو! تم سود کھاتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تم سونے کو سونے سے نہ بیچو مگر برابر برابر، نہ تو اس میں زیادتی ہو اور نہ ادھار ۱؎، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 18]
اردو حاشہ:
(1)
سونے کا سونے سے، یا چاندی کا چاندی سے تبادلہ صرف اسی صورت میں جائز ہے جب دونوں طرف مقدار برابر ہو اور دونوں فریق بیک وقت ادائیگی کر دیں۔
البتہ سونے کا تبادلہ چاندی سے کیا جائے تو دونوں کی مقدار برابر ہونے کی شرط نہیں، تاہم دونوں طرف سے ادائیگی ایک ہی مجلس میں ہو جانی چاہیے۔
اسی پر قیاس کر کے کہا جا سکتا ہے کہ پرانے کرنسی نوٹوں کا نئے نوٹوں سے تبادلہ بھی انہی شروط کے ساتھ جائز ہے۔
مثلا سو روپے کے نئے نوٹوں کے بدلے ایک سو دس روپے کے پرانے نوٹ لینا دینا جائز نہیں۔

(2)
حدیث نبوی کے مقابلے میں کسی کی رائے معتبر نہیں، اگرچہ وہ ایک صحابی کی رائے ہو۔
تاہم ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک صحابی نے حدیث سے ایک مطلب سمجھا ہے، دوسرے صحابی کی رائے میں اس سے وہ مسئلہ نہیں نکلتا یا دوسری حدیث کو راجح سمجھتا ہے۔
اس صورت میں دونوں آراء کو سامنے رکھ کر غو ر کیا جا سکتا ہے کہ کون سا قول زیادہ صحیح ہے۔
اس اجتہاد میں اگر غلطی ہو جائے تو عنداللہ معاف ہے۔

(3)
صحابہ کرام کی نظر میں حدیث کی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ حدیث سے ہٹ کر ایک رائے ظاہر کی گئی تو صحابی رسول اس قدر ناراض ہوئے کہ انہوں نے وہ علاقہ ہی چھوڑ دیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ان کے اس جذبہ کی قدر کی حتیٰ کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دے دیا کہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ تمہارے ماتحت نہیں ہوں گے۔

(4)
جب کسی مسئلہ میں صحابہ رضی اللہ عنھم کی مختلف آراء ہوں تو وہ رائے زیادہ قابل قبول ہو گی جس کی تائید قرآن و حدیث سے ہو جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دونوں آراء معلوم ہونے پر اس قول کو ترجیح دی جو فرمان نبوی سے ثابت تھا اور اسے قانونا نافذ کر دیا۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 18