Make PDF File
Note: Copy Text and paste to word file

صحيح البخاري
كِتَاب الْكُسُوف
کتاب: سورج گہن کے متعلق بیان
14. بَابُ الذِّكْرِ فِي الْكُسُوفِ:
باب: سورج گرہن میں اللہ کو یاد کرنا۔
حدیث نمبر: 1059
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ رَأَيْتُهُ قَطُّ يَفْعَلُهُ وَقَالَ هَذِهِ الْآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ".
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرا کر اٹھے اس ڈر سے کہ کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں آ کر بہت ہی لمبا قیام، لمبا رکوع اور لمبے سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ میں نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے نہیں دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد فرمایا کہ یہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں آتیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اس لیے جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو فوراً اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس سے استغفار کی طرف لپکو۔

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1059 کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1059  
حدیث حاشیہ:
قیامت کی کچھ علامات ہیں جو پہلے ظاہر ہوں گی اور پھر اس کے بعد قیامت برپا ہو گی۔
اس حدیث میں ہے کہ آنحضور ﷺ اپنی حیات میں ہی قیامت ہو جانے سے ڈرے، حالانکہ اس وقت قیامت کی کوئی علامت نہیں پائی جا سکتی تھی۔
اس لیے اس حدیث کے ٹکڑے کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ آپ اس طرح کھڑے ہوئے جیسے ابھی قیامت آجائے گی، گویا اس سے آپ کی خشیت وخوف کی حالت کو بتانا مقصود ہے اللہ تعالی کی نشانیوں کو دیکھ کر ایک خاشع وخاضع کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے۔
حضور اکرم ﷺ اگر کبھی گھٹا دیکھتے یا آندھی چل پڑتی تو آپ ﷺ کی اس وقت بھی یہی کیفیت ہو جاتی تھی۔
یہ صحیح ہے کہ قیامت کی ابھی علامتیں ظہور پذیر نہیں ہوئی تھیں۔
لیکن جو اللہ تعالی کی شان جلالی وقہاری میں گم ہو تا ہے وہ ایسے مواقع پر غوروفکر سے کام نہیں لے سکتا۔
حضرت عمر ؓ کو خود آنحضور ﷺ کے ذریعہ جنت کی بشارت دی گئی تھی لیکن آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر حشر میں میرا معاملہ برابرسرابر پر ختم ہو جائے تو میں اسی پر راضی ہوں۔
اس کی وجہ بھی یہی تھی۔
الغرض بہ نظر غور وتدبر وانصاف اگر دیکھا جائے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا چاند اور سورج گرہن کی حقیقت آپ نے ایسے جامع لفظوں میں بیان فرمادی کہ سائنس کی موجودہ معلومات اور آئندہ کی ساری معلومات اسی ایک جملہ کے اندر مدغم ہو کر رہ گئی ہیں۔
بلا شک وشبہ جملہ اختراعات جدید اور ایجادات موجودہ معلومات سائنسی سب اللہ پاک کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔
سب کا اولین موجد وہی ہے جس نے انسان کو ان ایجادات کے لیے ایک بیش قیمت دماغ عطا فرمادیا۔
فتبارك اللہ أحسن الخالقین والحمد للہ رب العالمین۔
قال الکرماني ھذا تمثیل من الراوي کأنه فزع کالخاشي أن یکون القیامة وإلا فکان النبي صلی اللہ علیه وسلم عالما بأن الساعة لا تقوم وھو بین أظھرھم وقد وعد اللہ إعلاء دینه علی الأدیان کلھا ولم یبلغ الکتاب أجله۔
یعنی کرمانی نے کہا کہ یہ تمثیل راوی کی طرف سے ہے گویاآپ ایسے گھبرائے جیسے کوئی قیامت کے آنے سے ڈر رہا ہو۔
ورنہ آنحضرت ﷺ تو جانتے تھے کہ آپ کی موجودگی میں قیامت قائم نہیں ہوگی، اللہ نے آپ سے وعدہ کیا ہے کہ قیامت سے پہلے آپ کادین جملہ ادیان پر غالب آکر رہے گا اور آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ ابھی قیامت کے بارے میں اللہ کا نوشتہ اپنے وقت کو نہیں پہنچا ہے۔
واللہ أعلم بالصواب وما علینا إلا البلاغ۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1059   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1059  
حدیث حاشیہ:
(1)
قیامت آنے کی تمثیل راوی کی طرف سے ہے، گویا رسول اللہ ﷺ ایسے خوفزدہ ہوئے جیسے کوئی قیامت کے آ جانے سے ڈرتا ہے، ورنہ آپ جانتے تھے کہ میری موجودگی میں قیامت نہیں آئے گی۔
بہرحال ایسے حالات میں استغفار کرنا چاہیے، کیونکہ دفع بلا کے لیے یہ نسخۂ کیمیا ہے۔
(2)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے سورج اور چاند گرہن لگنے کی حقیقت ایسے جامع الفاظ میں بیان کی ہے کہ موجودہ سائنس کی تمام معلومات اسی ایک جملہ میں مدغم ہو کر رہ گئی ہیں۔
بلاشبہ سائنس کی جملہ اختراعات سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔
ان سب کا موجد وہی ہے جس نے ان ایجادات کے لیے انسان کو ایک بیش بہا دماغ عطا فرمایا ہے۔
فتبارك الله أحسن الخالقين۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1059   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1504  
´گرہن لگنے پر استغفار کرنے کا حکم۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر کھڑے ہوئے، آپ ڈر رہے تھے کہ کہیں قیامت تو نہیں آ گئی ہے، چنانچہ آپ اٹھے یہاں تک کہ مسجد آئے، پھر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو آپ نے اتنے لمبے لمبے قیام، رکوع اور سجدے کیے کہ اتنے لمبے میں نے آپ کو کسی نماز میں کرتے نہیں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، یہ نہ کسی کے مرنے سے ہوتے ہیں نہ کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے بندوں کو ڈرانے کے لیے بھیجتا ہے، تو جب تم ان میں سے کچھ دیکھو تو اللہ کو یاد کرنے اور اس سے دعا اور استغفار کرنے کے لیے دوڑ پڑو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1504]
1504۔ اردو حاشیہ:
➊ راویٔ حدیث نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گھبراہٹ اور جلدی سے اندازہ لگایا کہ شاید آپ کو قیامت کا خطرہ محسوس ہوا ہے، یہ نہیں کہ آپ کو واقعی قیامت کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا کیونکہ قیامت کی بہت سی نشانیاں آپ نے بیان فرمائی ہیں جن میں سے سوائے آپ کی بعثت کے اور کوئی نشانی بھی پوری نہ ہوئی تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممکن ہے گھبراہٹ کی بنا پر آپ کا ذہن ان نشانیوں کی طرف متوجہ نہ ہوسکا یا اس وقت تک ابھی آپ کو دوسری نشانیاں بتلائی ہی نہ گئی تھیں، حالانکہ یہ واقعہ آپ کی وفات سے صرف چار، ساڑھے چار ماہ قبل ہوا ہے۔ آخری دونوں وجوہ کمزور ہیں۔
➋ چاند گرہن کا کوئی واقعہ احادیث میں منقول نہیں مگر تمام احادیث میں سورج اور چاند کو اکٹھا ہی ذکر کیا گیا ہے اور احکام بھی مشترکہ ہی دیے گئے ہیں، لہٰذا چاند گرہن کے موقع پر بھی نمازکسوف اسی طرح پڑھی جائے گی اور دیگر احکام بھی لاگو ہوں گے۔ احناف نے بعض مصالح کی بنا پر چاند گرہن میں جماعت کو مناسب نہیں سمجھا مگر روایات صراحتاً ان کے خلاف ہیں۔
➌ نماز کسوف کے بارے میں پینتالیس (45) روایات ذکر کی گئی ہیں جن کا تعلق ایک یہ واقعے سے ہے۔ کچھ مفصل ہیں کچھ مجمل، پھر بعض میں وہم اور غلط فہمی بھی ہے، لہٰذا تمام روایات کو ملا کر مجموعی طور پر جو واقعے کی کیفیت سمجھ میں آتی ہے، وہ معتبر ہو گی، نیز اکا دکا روایات میں اگر کوئی بات کثیر روایات کے خلاف آگئی ہے تو اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے وہم قرار دیا جائے گا، خواہ راوی ثقہ ہی ہوں کیونکہ کسی واقعے کی تحقیق کا یہی طریقہ ہے۔ واللہ اعلم۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1504