صحيح مسلم
كِتَاب الْقَسَامَةِ -- قسموں کا بیان
7. باب نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ:
باب: کافر کفر کی حالت میں کوئی نذر مانے پھر مسلمان ہو جائے۔
حدیث نمبر: 4294
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ : أَنَّ أَيُّوبَ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ بَعْدَ أَنْ رَجَعَ مِنْ الطَّائِفِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَكَيْفَ تَرَى؟، قَالَ: اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ يَوْمًا، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ جَارِيَةً مِنَ الْخُمْسِ، فَلَمَّا أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَصْوَاتَهُمْ يَقُولُونَ: أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْجَارِيَةِ فَخَلِّ سَبِيلَهَا "،
جریر بن حازم نے ہمیں حدیث سنائی کہ ایوب نے انہیں حدیث بیان کی، انہیں نافع نے حدیث سنائی، انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ اس وقت طائف سے لوٹنے کے بعد جعرنہ میں (ٹھہرے ہوئے) تھے، انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک دن مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا، آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جاؤ اور ایک دن کا اعتکاف کرو۔" _x000C_ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خُمس سے ایک لونڈی عطا فرمائی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی آوازیں سنیں، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد کر دیا ہے۔ تو انہوں نے پوچھا: کیا ماجرا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے بیٹے سے) کہا: عبداللہ! اس لونڈی کے پاس جاؤ اور اسے آزاد کر دو۔ (یہ حنین کا موقع تھا
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقام جعرانہ پر سوال کیا، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپس آئے تھے، کہا، اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت کے دور میں مسجد حرام میں ایک دن کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال و رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، ایک دن کا اعتکاف کرو۔ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (عمر کو) خمس سے ایک لونڈی دی تھی، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں (بنو ہوازن) کے قیدیوں کو آزاد کر دیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کی آوازوں کو سنا، وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد کر دیا ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا، یہ کیا ماجرا ہے؟ تو لوگوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے عبداللہ! اس لونڈی کے پاس جاؤ، اور اس کو آزاد کر دو۔
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1772  
´ایک دن یا ایک رات کے اعتکاف کا حکم۔`
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1772]
اردو حاشہ:
فوائد  وم مسائل:

(1)
اعتکاف ایک دن یا ایک رات بھی ہو سکتا ہے۔

(2)
اگر کوئی شخص اسلام قبول کرنے سے پہلے کسی نیک کام کا ارادہ کرے تو اسلام قبول کرنے کے بعد وہ کام کر لینا چاہیے البتہ اگر کسی غیر شرعی کام کا ارادہ کیا ہو تو اسے پورا نہیں کرنا چاہیے۔

(3)
اللہ کے لئے نذر ماننا عبادت ہے لہٰذا ایسی نذر پوری کرنا ضروری ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1772   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1187  
´(قسموں اور نذروں کے متعلق احادیث)`
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت کے زمانہ میں نذر مانی تھی کہ میں مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اپنی نذر کو پورا کرو۔ (بخاری ومسلم) اور بخاری نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے۔ پھر انہوں نے ایک رات اعتکاف کیا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1187»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الاعتكاف، باب الاعتكاف ليلًا، حديث:2032، ومسلم، الأيمان، باب نذر الكافر وما يفعل فيه إذا أسلم، حديث:1656.»
تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کافر نے حالت کفر میں جو نذر مانی ہو‘ اسلام لانے کے بعد اسے پورا کرنا ضروری ہے بشرطیکہ غیر شرعی نہ ہو۔
امام بخاری‘ امام ابن جریر رحمہم اللہ اور شوافع کی ایک جماعت کی رائے یہی ہے مگر جمہور کے نزدیک کافر کی نذر منعقد ہی نہیں ہوتی تو پوری کرنے کا کیا سوال‘ اس لیے انھوں نے اس حدیث کو استحباب پر محمول کیا ہے۔
بہرحال حدیث کے ظاہر سے پہلی رائے کی تائید ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1187   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1539  
´نذر پوری کرنے کا بیان۔`
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد الحرام میں اعتکاف کروں گا، (تو اس کا حکم بتائیں؟) آپ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1539]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات کے لیے مسجد حرام میں اعتکاف کیا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1539   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2474  
´اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اعتکاف کرو اور روزہ رکھو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2474]
فوائد ومسائل:
اس روایت میں دن کا ذکر اور روزہ بھی رکھو کا بیان صحیح نہیں ہے۔
کیونکہ یہ روایت صحیح بخاری میں ہے، اس میں دن کا اور روزہ رکھنے کے حکم کا ذکر نہیں ہے۔
(صحيح البخاري‘ الاعتكاف‘ حديث: 2033) بہرحال نیکی کے کام کی نذر خواہ جاہلیت کے دور میں مانی گئی ہو، پوری کرنی چاہیے۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2474   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4294  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
فتح مکہ کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہوازن سے جنگ حنین شوال 8ھ میں لڑی،
شکست کھانے کے بعد دشمن تتر بتر ہو گیا،
ایک گروہ نے طائف کا رخ کیا،
دوسرا گروہ اوطاس کی طرف چلا گیا،
اور تیسرا گروہ نخلہ کی طرف بھاگ گیا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے بیوی بچوں کو جن کی تعداد چھ ہزار تھی،
قیدی بنا لیا،
مویشیوں میں چوبیس ہزار اونٹ اور چالیس ہزار سے زائد بکریاں قبضہ میں لے لیں،
اور چار ہزار اوقیہ چاندی ہاتھ لگی،
ان تمام اشیاء کو جعرانہ مقام میں جمع کیا گیا،
اور آپﷺ نے طائف کا رخ کیا،
کیونکہ دشمن کا بڑا گروہ ادھر ہی گیا تھا،
لیکن کچھ عرصہ محاصرہ کرنے کے بعد آپ واپس آ گئے،
اور جعرانہ میں آپﷺ نے بنو ہوازن کا رشتہ داری کی وجہ سے کیونکہ دائی حلیمہ اس قوم کے ایک خاندان سے تعلق رکھتی تھیں،
دو ہفتہ سے زائد انتظار کیا کہ وہ مسلمان ہو جائیں،
اور اپنا مال و دولت اور قیدی واپس لے جائیں،
لیکن جب وہ اس انتظار کے عرصہ میں نہ آئے تو آپ نے مال اور قیدی مسلمانوں میں تقسیم فرما دئیے،
غنیمت کی تقسیم کے بعد،
بنو ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،
اور انتہائی موثر انداز میں اپنے قیدی اور مال واپس لینے کی درخواست کی،
آپﷺ نے فرمایا،
غنیمت کی تقسیم کے بعد قیدی اور مال دونوں کی واپسی ممکن نہیں ہے،
ایک چیز لے لو،
انہوں نے قیدیوں کی واپسی کی خواہش کی تو آپﷺ نے تمام صحابہ کو جمع کر کے اس سلسلہ میں خطبہ ارشاد فرمایا،
جس کے نتیجہ میں لوگ قیدی چھوڑنے پر آمادہ ہو گئے،
تو آپﷺ نے تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا،
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو غنیمت کے خمس سے دو لونڈیاں دی تھیں،
انہوں نے ایک اپنے بیٹے ابن عمر کو دے دی اور دوسری اپنے پاس رکھی،
جب آپﷺ نے قیدیوں کی آزادی کا اعلان فرمایا،
تو دونوں باپ بیٹا نے اپنی اپنی لونڈی کو آزاد کر دیا۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے الرحیق المختوم)
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4294